• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مستقبل کی مالی ضروریات اور منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے، اپنی بچتوں کو کام میں لاتے ہوئے اس سے مزید پیسہ بنانےکے عمل کو سرمایہ کاری کہا جاتا ہے۔ سرمایہ کاری سے مراد یہ ہے کہ آپ کا سرمایہ آنے والے وقتوں میں آپ کے لیے ناصرف ذریعہ آمدن بن جائے بلکہ اس سرمایہ پر افزائش بھی حاصل ہوتی رہے۔ اس سے آپ کو دونوں فائدے حاصل ہوتے ہیں یعنی سرمایہ سے مزید سرمایہ بننا اور محفوظ رہنا۔

یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ سرمایہ کاری کی قدر اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی یا زیادتی ہوسکتی ہے اور سرمایہ کارکا اصل سرمایہ بھی ڈوب سکتا ہے۔ زیادہ تر افراد ایک موزوں مدت تک منافع کمانے کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ کسی بھی کامیاب سرمایہ کاری حکمت عملی کی بنیاد آپ کی قلیل ، وسط اور طویل مدتی مالیاتی مقاصد کی واضح سمجھ بوجھ پر ہوتی ہے کیونکہ جو سرمایہ کاری حکمت عملی آپ منتخب کرتے ہیں وہ آپ کے مالیاتی مقاصد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

کئی وجوہات کے باعث سرمایہ کاری کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ بچتوں کو سرمایہ کاری میں لگا کر اس پر مناسب شرح سے منافع حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ افراطِ زر کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی آپ کی بچتوں کو کھاجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ نے بچتوں کو سرمایہ کاری میں نہ لگایا تو آپ بیٹھے بٹھائے غریب ہوتے جائیں گے۔ مزید برآں، ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے لیے آپ کو پیسے کی ضرور ت ہوگی اور آپ اپنا معیارِ زندگی برقرار رکھنا چاہیں گے۔

افراطِ زر کا پیسے کی قدر پر اثر کا تصور

یہ بات ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ پیسے کی قدر میں بتدریج کمی ہوتی رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مخصوص مالیت کے پیسے کی جو قدر آج ہے آنے والے دنوں میں اس میں بتدریج کمی ہوتی چلی جائے گی۔ اس بات کو دوسری الفاظ میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ آج اگر ایک چیز 100 روپے میں دستیاب ہے تو دس فی صد کی اوسط افراطِ زر کی شرح کے مطابق، ایک سال بعد وہ چیز آپ کو کم از کم 110 روپے میں دستیاب ہوگی۔ دس فی صد افراطِ زر کی اس شرح کو زائل کرنے کے لیے آپ کو آج اپنے ایک سو روپے کو ایسی جگہ لگانا دینا چاہیے، جس پر سالانہ منافع کی شرح کم از کم دس فی صد یا اس سے زائد ہو۔ پیسے کی قوتِ خرید میں وقت کی بنیاد پر ہونے والے فرق کو پیسے کی قدر کہا جاتا ہے۔

سرمایہ کاری کے مواقع

ایک سرمایہ کار یا بچت گزار اپنے پیسے کو کل یا مقررہ مدت کے بعد وصول کرنے کی نسبت اسے آج وصول کرکے زیادہ سودمند طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ اس طرح قیمت کے وقت کی قدر کے تصور کے پیچھے بنیادی اصول یہ ہے کہ آج وصول ہونے والی رقم کی مالیت مخصوص مدت کے بعد موصول ہونے والی رقم کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 

مثال کے طور پر، اگر ایک فرد کو پچاس ہزار روپے ابھی وصول کرنے ہیں یا ایک سال بعد وصول کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ اس رقم کو ابھی وصول کرنے کو ترجیح دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج وہ اس رقم سے زیادہ مال خرید سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیسے کی قدر کا تصور مالی فیصلے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر بچتوں کو سرمایہ کاری میں لگانا سب سے بہترین حکمتِ عملی ہوتی ہے۔

سرمایہ کاری کرنا

سرمایہ کاری سے مراد یہ ہے کہ آج اپنی دولت کو کسی ایسی جگہ خرچ کرنا، جہاں سے کل نفع ملنے کی امید ہو۔ اگر آپ کے پاس دولت سے مزید دولت حاصل کرنے کا علم موجود ہے تو آپ سرمایہ کار ہیں۔

سرمایہ کاری میں نظم و ضبط اور منصوبہ بندی

کامیاب سرمایہ کار بننے کے لیے منصوبہ بندی اور نظم و ضبط ضروری ہیں۔ منصوبہ بندی سے مراد پراحتیاط انداز میں سرمایہ کاری منصوبے کی ترویج کرنا اور ہر وقت اس پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ سرمایہ کاری کرتے وقت مخصوصل اہداف کا تعین کرتے ہیں اور اہداف کے حصول کے لیے آپ کو ہر وقت اپنی سرمایہ کاری پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔ 

جب کہ نظم و ضبط سے مراد مارکیٹ کے اُتار چڑھائو کو مدنظر رکھنا، خطرے کے امکانی اثرات کو تسلیم کرنا اور باقاعدگی سے اپنے پورٹ فولیو کو متوازن کرنا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ آپ اپنے ذرائع آمدن کے اندر ہی اپنے اخراجات کریں تاکہ آپ اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ آپ سرمایہ کاری کے لیے کتنا پیسہ بچہ سکتے ہیں۔

کامرس سے مزید