• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گہرے رنگ کی جلد پر پلس آکسیجن مانیٹر درست کام نہیں کرتا، ماہرین

لندن(پی اے ) ماہرین کا کہناہے کہ ہسپتالوں اورکمیونٹی میں کورونا کے مریضوں میں نبض اور آکسیجن میں تیزی سے کمی کاپتہ چلانے کیلئے تیار کیاگیا پلس آکسیجن مانیٹر گہری جلد کے لوگوں پر درست کام نہیں کرتا۔این ایچ ایس انگلینڈ اورادویات سے متعلق امور کے ریگولیٹر MHRA نے تصدیق کی ہے کہ ہوسکتاہے کہ pulse oximeters بعض اوقات آکسیجن کی سطح کا اصل سے زیادہ اندازہ لگالے ،ان کا کہناہے کہ اس ڈیوائس کی روشنی خون کے ذریعے کام کرتی ہے اور جلد کی رنگت گہری ہونے کی وجہ سے خون میں روشنی پہنچنے میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے اگر کسی کو شک ہو تو وہ ایک ہی ریڈنگ پر اکتفا کرنے کے بجائے اسے تبدیل کرلیں ،این ایچ ایس اب تازہ ترین گائیڈنس جاری کررہاہے جس میں سیاہ فام ،ایشیائی اور دیگر اقلیتی نسل سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ pulse oximeters کا استعمال جاری رکھیں لیکن کسی ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے مشورہ ضرور کرلیں۔این ایچ ایس ہیلتھ اور نسل سے متعلق ایک آبزرویٹری مارچ میں شائع ہوئی ہے جس میں مشورہ دیاگیاہے کہ MHRA کو pulse oximeters کے استعمال کے حوالے سے فیصلے پر فوری طور پر نظر ثانی کرنی چاہئے،کورونا کے مریضوں کے خون میں آکسیجن کی سطح اچانک خطرناک حد تک کم ہوجاتی ہے ، اس صورت حال کو طب کی زبان میں "silent hypoxia" کہتے ہیں،رنجیت سینگھیرا مرواہا نے گزشتہ سال بیماری کے دوران ایک pulse oximeter خریدا تھا لیکن ان کے خون میں آکسیجن کی سطح اتنی کم ہوگئی کہ انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔مرواہا نے بتایا کہ جب میں ہسپتال پہنچی تو انھوں نے سب سے پہلے مجھ سے کہا کہ آپ نے بہت دیر کردی ،انھوں نے مجھے 14 لیٹر آکسیجن پر رکھا یہ مریض کو انتہائی نگہداشت میں منتقل کرنے سے دی جانے والی آکسیجن کی سب سے زیادہ مقدار ہے،مرواہا نے بتایا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری جلد کی رنگت اس طرح ڈیوائس کی کارکردگی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یورپ سے سے مزید