• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر کے کھلے حصوں میں شیڈ لگوانے کی اہمیت

گھر میں کھلی جگہوں کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے کیونکہ انسان ہر وقت کمروں میں نہیں رہ سکتا، اسے کھلی فضا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کی تعمیر کے وقت صحن، عقبی حصہ، چھت، بالکنی وغیرہ کے لیے مناسب جگہ چھوڑنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان کھلی جگہوں کی وجہ سے گھر کے اندر رہتے ہوئےخوبصورت موسم سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے، آؤٹ ڈور ایریا میں باربی کیو پارٹی کی جاسکتی ہے، گرمی کے دنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں استفادہ کیا جاسکتا ہے اور سردیوں کی شاموں کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ 

تاہم، اس ایریا میں شیڈ کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ گرمیوں میں دھوپ اور مون سون میں بارش میں بھیگنے سے بچا جاسکے۔ بارش کے موسم میں شیڈ کے نیچے بیٹھ کر موسم سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سےشیڈ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جسے بنوانے کے لیے آپ کے پاس مختلف آپشنز موجو د ہیں۔ مارکیٹ میں آٹومیٹک شیڈز بھی دستیاب ہیں، مثلاً ایک بٹن کے ذریعے انہیں کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاہ کچھ شیڈز مستقل بنیادوں پر بھی بنائے جاتے ہیں جن میں لکڑی یا لوہے سے بنے شیڈز قابل ذکر ہیں۔

جدید طرز کاشیڈ

اگر آپ ماڈرن لک کے ساتھ شیڈی گارڈن بنوانے کا ادارہ رکھتے ہیں تو پوگولا کا انتخاب آپ کے صحن یا عقبی حصے کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔ سیاہ یا قدرتی رنگ کی لکڑی اور میٹل کے امتزاج سے بنایا گیا شیڈ گھر کے عقبی حصے کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔ یہ شیڈ باغیچے کے ایک کونے میں خمدار دھاریوں سے بنائے جاتے ہیں، جنہیں المونیم سے بنی پتلی ڈنڈیاں سہارا دیے ہوئے ہوتی ہیں۔ آپ سب دھاریاں اکٹھی کر سکتے ہیں یا انہیں حصوں میں تقسیم کر کے اپنی مرضی کا سایہ بنا سکتے ہیں۔

بیرونی حصے میں شیڈ

گھر کے بیرونی حصے میں بیٹھنا یقیناً خوشگوار ہوتا ہے، تاہم اگر یہ حصہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے تو آپ کچھ حصے میں شیڈ (ترپال) لگوادیں۔ یہ ترپال گھر کے بیرونی حصے میں بیٹھنے کی ایک خوبصورت جگہ مہیا کرے گی۔ اس قسم کے شیڈز میں رنگوں کی ایک وسیع ورائٹی موجود ہے، مثلاً اگر آپ نے بیرونی حصے کے لیے ہلکے رنگوں کا انتخاب کیا ہے تو وہاں المونیم سے بنے شیڈکے لیے سرخ یا سیاہ رنگ کا استعمال کریں۔

المونیم کا انتخاب اس لیے بہترین ہے کیونکہ یہ وزن میں ہلکے مگر مضبوط ہوتے ہیں۔ شیڈ میں ایسی موٹریں لگوائی جاتی ہیں، جو انہیں صبح یا شام کے اوقات میں کھولنے یا بند کر نے کے کام آتی ہیں۔ یہی کام آپ گھر کے عقبی حصے کے لیے بھی کرسکتے ہیں، جہاں گھر کی پیچھے والی دیوار سے منسلک شیڈ بنایا جاسکتا ہے۔

تکونی چھت والاشیڈ

تعمیراتی دنیا میں جاپانی انداز کے خوبصورت اور دلکش شیڈز خاصے مقبول ہیں۔ یہ شیڈز بھی بنیادی طور پر لکڑی کے ستونوں پر بنائے جاتے ہیں، جن کی خاص بات ان کی تکونی چھت ہوتی ہے، جس کے لیے لکڑی یا پھر ماربل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حصے کو باغ کے دیگر حصوں سے جداکرنے کے لیے کچے فرش کے بجائے لکڑی کے فرش کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ 

لکڑی کے خوبصورت پینلز کی مدد سے اس فرش کو گِلو اور چپکانے والی ٹیپز کے ساتھ بنایا جاتا ہے، جس کے باعث یہ پینلز سختی اور خوبصورتی کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ یہ ایک دلکش اور خوبصورت اسٹائل بن جاتا ہے جو آپ کو یہاں وقت گزارنے پر مجبور کردیتا ہے۔

قدرتی خوبصورتی کے حامل شیڈ

اگر آپ کے پاس باغیچے میں جگہ کم ہے تو قدرتی خوبصورتی سے ڈھکے شیڈ کا انتخاب کریں، یہ زیادہ مہنگے بھی نہیں ہوتے۔ لکڑی کےستونوں کے ساتھ اس طرح کے شیڈ کے لیے المونیم کی چھت بنائی جاتی ہے اور اسے پھول پودوں سے مکمل طور پر ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ پھولوں، بیلوں اور لٹکنے والے گملوں کی ایک بڑی تعداد کے ذریعے اس حصے کو تازہ اور قدرتی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ بہت سے پودوں کی مدد سے شیڈ کو سبز چھت فراہم کرنا اور اِس کے ستونوں پر بیلیں لگانا ایک ایسی تجویز ہے، جو ہر حال میں پرکشش اور دلکش معلوم ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی جگہوں کے لیے بہترین ہے، جس میں آپ باغیچے کی ایک دیوار کو شیڈ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور پھر اِس کے نیچے فرنیچر رکھ کر بیٹھنے کا مناسب انتظام کرسکتے ہیں۔

ٹیرس میں شیڈ

ٹیرس میں بھی شیڈز بنائے جاسکتے ہیں، بس ان کی وجہ سے ایک عام مسئلہ یہ درپیش آتا ہے کہ رات کے وقت یہ جگہ درست طور پر استعمال نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ٹیرس کے لیے فولڈنگ شیڈز کا انتخاب کیا جائے، ساتھ ہی لائٹنگ پر بھی خاص توجہ دی جائے تاکہ مصنوعی روشنی کی بدولت سورج غروب ہونے کے بعد بھی آپ ٹیرس میں بیٹھ کر لطف اٹھا سکیں۔ 

آپ اسے ایک طرف سے موڑ کر ہوا کا رُخ بھی بہتر بناسکتے ہیں۔ اگر آپ ٹیرس پر مستقل بنیادوں پر شیڈ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو لکڑی کے ستونوں پر بنائے جانے والے شیڈ کا انتخاب کریں اور اس کی چھت پر المونیم کی پلیٹیں لگوائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انھیں گھما کر سایہ حاصل کیا جاسکے۔