• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکّے کے کالے سنگلاخ پہاڑوں کی اوٹ، اُفقِ مشرق کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نمودار ہوتی، خورشیدِ درخشاں کی نوخیز رُوپہلی کرنیں، بادِ صبا سے اٹکھیلیاں کرتی، خراماں خراماں، معطّر معطّر جلو ہ گر ہوا چاہتی ہیں۔ یہ ماہِ ربیع الاوّل کے موسمِ بہار کی وہ تبسّم آمیز سپیدۂ سحر ہے، جو کیف و سرور کی لذّتوں سے لبریز، وجد و مستی کے مشک بُو جھونکوں کے ساتھ، فضائوں میں درود و سلام کے تحفے بکھیرتی، اہلِ ارض و سماء کے لیے نویدِ عظیم لے کر محوِ سفر ہے۔

یہ اُس سرمدی پیغامِ نوبہار کی زندہ و تابندہ صبح ہے کہ جو کائنات کے ویرانوں ، آمریت و فرعونیت کے شبستانوں ، ظلم و بربریت کے عقوبت خانوں، قیصر و کسریٰ کے ایوانوں اور روم و فارس کے درباروں کو ہمیشہ کے لیے کفر و الحاد سے پاک کرکے توحیدِ حق کی روشنی سے منوّر، عدل و انصاف کی رعنائیوں سے روشن اور امن و سکون کی زیبائش سے آراستہ کردے گی۔ 

یہ متکبّرین، مستکبرین کے جور و ستم کی اُس آخری رات کی صبحِ سحر ہے کہ جس رات شانِ عجم، شوکتِ روم، اوجِ چین اور تختِ فارس کے قصر ہائے فلک زمیں بوس ہوگئے۔ آتشِ مجوسیت، زرتشتیتِ فارس، دانش کدۂ دہر، آزرکدۂ گم راہی سرد ہوگئے۔ بُت کدۂ کفر خاک میں مل گئے۔ شیرازۂ مجوسیت بکھر گیا۔ یہودیت و نصرانیت کا غرور و تکبّر، جاہ و جلال خزاں رسیدہ سوکھے پتّوں کی طرح جَھڑ کر مٹّی میں مِل گئے۔ ربّ ِ ذوالجلال نے زبور، توریت اور انجیل میں جس عظیم ہستی کے ظہور کی نوید دی تھی، آج اُس کے پورا ہونے کا دن ہے۔

یہ صبحِ خوش جمال، ازل سے ابد تک کی وسعتوں پر محیط اُن تاریخ ساز لمحات کی امین ہے، جو مظلوم نسلِ انسانی کو شرفِ آدمیّت سے سرفراز کرنے والے ہیں۔طلوعِ صبحِ صادق کے ساتھ ہی مکّے کی معطّر فضائیں، دشت و صحرا، نخلستان و بیابان، کھیت و کھلیان، چرند پرند، زمین و آسمان پکار اُٹھے’’مرحبا، سیّدی مکّی و مدنی، مرحبا۔‘‘ بی بی آمنہؓ کے لال، مرحوم عبداللہؓ کے جگر گوشے، عبدالمطلب کے لختِ جگر، بنوہاشم کے نورِ نظر، محسنِ انسانیت، خاتم المرسلین، امام الانبیاء، محبوبِ ربّانی، حبیبِ یزدانی ، باعثِ تخلیقِ کائنات، غریبوں کے والی، یتیموں کے ملجا، عظمتوں اور رفعتوں کے امین، عالمِ کائنات میں جلوہ افروز ہوئے۔

دادا کی خوشی

حضورﷺ کے دادا، خانۂ کعبہ کے متولّی، بنوہاشم کے سردار، رئیسِ قریش، مکّے کی سب سے معزّز و محترم شخصیت، دینِ ابراہیمیؑ کے پیروکار، جناب عبدالمطلب صحنِ کعبہ میں عبادت میں مصروف تھے کہ ایک باندی نے آکر پوتے کی خُوش خبری سُنائی۔ بوڑھے دادا ابھی تک اپنے خُوب رو، جواں سال صاحب زادے، حضرت عبداللہؓ کی اچانک موت پر غم سے نڈھال تھے کہ پوتے کی خوشی نے نہال کردیا۔ خوشی خوشی گھر پہنچے۔ آب دیدہ نگاہوں سے پوتے کو دیکھا، بہو کے سَر پر ہاتھ پھیرا، پوتے کو خانۂ کعبہ لائے، اللہ کا شُکر ادا کیا اور اُن کا نام’’ محمّد(ﷺ)‘‘رکھا۔

ثویبہ آزاد ہوگئیں

اُدھر آپﷺ کے چچا، ابولہب بن عبدالمطلب کی باندی، ثویبہ کو جب یہ خبر ملی، تو وہ دوڑ کر ابولہب کے پاس پہنچی اور بولی’’ابوعتبہ مَیں تمہیں ایک زبردست خُوش خبری سُنائوں؟‘‘ ابولہب سنبھل کر بیٹھا اور تجسّس سے بولا ’’ہاں، ہاں، جلدی بتائو۔‘‘ثویبہ بولی’’ ابوعتبہ! آپ کے مرحوم بھائی، عبداللہؓ کی اہلیہ، بی بی آمنہ ؓکے یہاں ایک نہایت خُوب صُورت، چندے آفتاب، چندے مہتاب بیٹا پیدا ہوا ہے۔‘‘ ابولہب کو اپنے مرحوم بھائی سے بہت پیار تھا۔ عبدالمطلب کے پورے خاندان کے دِلوں میں حضرت عبداللہؓ کی اچانک موت کا غم ابھی تازہ تھا۔ 

چناں چہ اس غم زَدہ خاندان کے لیے یہ خبر مسّرت و فرحت کا باعث تھی۔ ابولہب کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ اُس نے خوشی میں باندی سے کہا’’تُو نے غم کے اِن چند مہینوں کے بعد پہلی اِتنی بڑی خوشی سُنائی ہے، جا مَیں تجھے آزاد کرتا ہوں۔‘‘ اور یوں ثویبہ آزاد ہوگئیں۔(بحوالہ ’’رسول اللہﷺ کے رشتے دار‘‘ از مولانا ثناء اللہ سعد، صفحہ297)۔

دس بیٹوں کی دُعا

زم زم کنویں کی کُھدائی کے وقت عبدالمطلب کے ساتھ صرف ایک بیٹا، حارث تھا۔ اُس وقت اُنہوں نے اللہ سے دس بیٹوں کی دُعا مانگی تھی، لیکن شانِ کریمی دیکھیے کہ اللہ نے اُنہیں 12 توانا اور خُوب صُورت صاحب زادوں سے نوازا، جن میں مثالی محبّت تھا۔ ابولہب کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ اُس نے نہ صرف اپنی باندی آزاد کی، بلکہ یتیم بھتیجے کی ولادت کی خوشی میں دعوتِ طعام کی اور جشن منایا، جس میں بنوہاشم کا پوارا قبیلہ مدعو تھا۔

رضاعی ماں کا عظیم اعزاز

شروع کے چند دن تو بی بی آمنہؓ نے لختِ جگر کو اپنا دودھ پلایا۔ پھر جناب عبدالمطلب نے یہ ذمّے داری ابولہب کی آزاد کردہ کنیز، ثُوَیبہ کو سونپ دی۔ ثویبہ، خانوادۂ عبدالمطلب کی قابلِ اعتماد کنیز تھیں۔ اُنہوں نے حضرت حمزہؓ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ نیز، آپؐ کے دو پھوپھی زاد، حضرت ابوسلمہؓ بن عبدالاسد اور حضرت عبداللہؓ بن جحش، جب کہ آپؐ کے چچا، حارث بن عبدالمطلب کے بیٹے، ابوسفیان بن حارث کو بھی دودھ پلایا تھا۔ تاریخ میں ثویبہ کے ایک صاحب زادے، حضرت مسروحؓ کا ذکر ملتا ہے، جو آپﷺ کے صحابی اور دودھ شریک بھائی تھے۔

مؤرخین کے مطابق، حضرت ثویبہؓ نے چار یا سات دن تک آپﷺ کو دودھ پلایا، کیوں کہ چند دن بعد ہی بدوی عورتیں مکّہ پہنچ گئی تھیں اور عرب کے شہری باشندوں کے دستور کے مطابق، جناب عبدالمطلب نے بھی اپنے پوتے کے لیے دودھ پلانے والی ایک دایہ تلاش کرلی اور یہ عظیم اعزاز، قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کو نصیب ہوا، جنہوں نے دو سال تک آپﷺ کو دودھ پلایا، لیکن آپؐ اس کے بعد بھی پانچ سال کی عُمر تک قبیلہ بنی سعد میں حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھر پر رہے۔

سگا چچا بدترین دشمن

اہلِ قریش میں نبی کریمﷺ کی ذات بابرکت سب سے اعلیٰ و افضل تھی۔ آپؐ کی اعلیٰ صفات، مثالی اخلاق، کریمانہ عادات سب سے اعلیٰ تھیں۔ آپؐ صادق تھے اور امین بھی۔ راست گو تھے اور دانا و حکیم بھی۔ چچا، ابولہب سمیت بنوہاشم آپؐ کے بلند کردار اور صدق و گفتار کے گُن گاتے تھے۔ آپؐ کی ازدواجی زندگی بھی بے حد پُرسکون تھی۔ حضرت سیّدہ خدیجۃ الکبریٰؓ جیسی باشعور، باوقار اور حُسن و اخلاق کی مالک خاتون، حسب نسب اور مالی خوش حالی کے لحاظ سے بھی اپنی قوم کی سب سے معزّز اور فاضل خاتون تھیں۔ آپﷺ کا گھر خوشیوں اور مسّرتوں کا گہوارہ تھا۔ 

آپﷺ شادی کے بعد حضرت سیّدہ خدیجہؓ ہی کے گھر میں قیام پذیر تھے۔ برابر میں چچا، ابولہب کا گھر تھا۔ چچا نے اپنی محبّت کا مزید ثبوت دیتے ہوئے اپنے دو بیٹوں، عتبہ اور عتیبہ کا نکاح حضورﷺ کی صاحب زادیوں، حضرت رقیّہؓ اور حضرت اُمّ ِ کلثومؓ سے کردیا تھا، لیکن اعلانِ نبوّت کے بعد یہی چچا، ابولہب اور اس کی بیوی، اُمّ ِ جمیل، آنحضرتؐ کی جان کے دشمن ہوگئے، یہاں تک کہ دونوں بیٹوں کو مجبور کرکے حضورﷺ کی صاحب زادیوں کو طلاق دلوا دی، گو کہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ابولہب اور اُس کی بیوی کا ظلم جب اپنی انتہا کو پہنچا، تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ لہب نازل فرما کر دونوں کے لیے عذابِ عظیم کا اعلان فرما دیا۔ غزوۂ بدر میں کفّارِ مکّہ کی بدترین شکست کے ایک ہفتے بعد ہی ابولہب عبرت کا نشان بن کر واصلِ جہنّم ہوا۔

ابو لہب کے عذاب میں تخفیف

علّامہ بدر الدین عینی حنفیؒ نے اپنی شرح ’’عمدۃ القاری‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عبّاسؓ فرماتے ہیں کہ’’ جب ابولہب مر گیا، تو مَیں نے ایک سال بعد خواب میں اُسے بدترین حالت میں دیکھا۔ میرے پوچھنے پر اُس نے کہا’’ مَیں نے تم سے جُدا ہونے کے بعد اب تک راحت نہیں پائی، البتہ ہر پیر کے دن مجھ پر عذاب ہلکا کیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت عبّاسؓ فرماتے ہیں’’ وہ اِس لیے کہ نبی کریمﷺ پیر کے دن تولّد ہوئے اور ثویبہ نے ابولہب کو آپﷺ کی ولادت باسعادت کی خُوش خبری دی، تو اُس نے خوشی میں اُنہیں آزاد کردیا۔‘‘( کتاب النّکاح، جلد14 ، صفحہ45)۔

صحیح بخاری کی ایک حدیث

صحیح بخاری میں یہ واقعہ کچھ اِس طرح تحریر ہے۔حضرت عروہؓ راویت کرتے ہیں کہ’’ ثویبہ، ابولہب کی لونڈی تھی، جسے اُس نے آزاد کردیا تھا(جب اُس نے نبی کریمﷺ کی ولادت کی خبر دی تھی)، پھر اُس نے نبی کریمﷺ کو اپنا دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب مرگیا، تو اُس کے کسی عزیز نے اُسے خواب میں بُرے حال میں دیکھا، تو پوچھا’’ کیا حال ہے؟ کیا گزری؟‘‘ وہ کہنے لگا’’ جب سے مَیں تم سے جُدا ہوا ہوں، کبھی آرام نہیں ملا،البتہ ایک ذرا سا پانی (پیر کے دن مل جاتا ہے)، ابولہب نے اُس گڑھے کی جانب اشارہ کیا، جو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے، یہ بھی اِس وجہ سے کہ مَیں نے ثویبہ کو آزاد کردیا تھا۔‘‘ ( کتاب النّکاح، حدیث5101)۔

رضاعی ماں کا احترام

حضرت ثویبہؓ کا حضرت خدیجہؓ کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ آنحضرتؐ اپنی رضاعی ماں کا بہت احترام کرتے تھے۔ اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں، کھانے پینے کا سامان اور ملبوسات وغیرہ پیش کرتے رہتے تھے۔ حضرت حلیمہؓ تو مکّے سے دُور، طائف کے مضافات میں مقیم تھیں، لہٰذا ایک مرتبہ قحط کے زمانے میں وہ مکّہ آئیں، تو حضرت خدیجہؓ نے اُنہیں چالیس بکریوں کا ریوڑ اور مختلف اشیائے ضروریہ سے لدا ایک اونٹ دیا تھا۔حضرت ثویبہؓ نے اپنے صاحب زادے، حضرت مسروحؓ کے ساتھ مدینہ منوّرہ ہجرت کی۔ حضورﷺ مدینے میں بھی نہایت پابندی کے ساتھ اُنہیں ضروریات کی چیزیں فراہم کرتے تھے۔

وفات

مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ 7؍ہجری میںغزوۂ خیبر کے لیے تشریف لے گئے، تو پیچھے حضرت ثویبہؓ کا انتقال ہوگیا۔ اُن کے صاحب زادے اور آنحضرتؐ کے رضاعی بھائی، حضرت مسروحؓ کا بھی آنحضرتؐ کی زندگی ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔

اولاد کا فرضِ اوّلین

حضرت ثویبہؓ، حضرت اُمّ ِ ایمنؓ، حضرت حلیمہؓ یہ سب غریب خواتین تھیں۔ آنحضرتؐ نے ان سب کو اپنی والدہ کا درجہ دیا اور عُمر بھر نہ صرف اُن کی ضروریات کا خیال رکھا، بلکہ اُنھیں عزّت و احترام کا وہ مقام دیا، جو ایک حقیقی ماں کا ہوتا ہے۔ اور صرف اُن ہی سے نہیں، آپﷺ کا یہ حُسنِ سلوک اُن کی اولاد کے ساتھ بھی تھا۔ آنحضرتﷺ کا یہ عمل اُمّتِ مسلمہ کے تمام بیٹوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ والدین اور اُن کے عزیز و اقارب کے ساتھ نہایت ادب و احترام کے ساتھ پیش آئیں۔ 

بڑھاپے میں اُن کی تمام ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے اُن کی خدمت کرنا اور اُنہیں وقت دینا اولاد کا فرضِ اوّلین ہے۔بعض مفسّرین نے لکھا ہے کہ حضرت ثویبہؓ مسلمان نہیں ہوئی تھیں اور ابولہب کے انتقال کے بعد آزاد ہوئیں، لیکن اکثریت نے نہ صرف اُن کے ایمان لانے کی تصدیق کی ، بلکہ اُن کی مدینہ منوّرہ ہجرت کا بھی ذکر کیا ہے۔