• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماربل پتھر کی ایک قسم ہے، جسے پہاڑوں سے نکالا جاتا ہے۔ اسے سنگ مرمر بھی کہا جاتا ہے، جو بنیادی طور پر کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ماربل کا استعمال فنِ دستکاری، ا سٹیشنری، لیمپ، برتن اور آرٹ کے دیگر عملی کاموں میں بھی کیا جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی آرائشی پتھر ہے، جسے تعمیرات میں عموماً فرش اور سلیب کے طور پر عمارتوں میں لگایا جاتا ہے۔ 

ماربل کا فرش بالخصوص گھر کے ایسے حصوں میں بنایا جاتا ہے جہاں لوگوں کی آمدورفت قدرے کم ہو۔ روشن اور گہرے رنگوں کے ساتھ دیواروں اور گھر کی سجاوٹ میں لگائےجانے والے ماربل کی زندگی عام طور پر50سے 80سال تک ہوتی ہے۔ اگر اس کی صفائی کا خیال رکھا جائے تو یہ دکھنے میں نہایت خوبصورت لگتا ہے۔

ماربل اور ٹائل کے فرش میں فرق 

تمام اقسام کے ماربل کی قیمتوں میں فرق ان کی پائیداری اور خوبصورتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ماربل کا فرش پائیداری میں ٹائل کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔ ماربل کی صفائی نسبتاً مشکل ہوتی ہے، تاہم اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب چاہے دوبارہ سے فرش کی رگڑائی اور پالش کروائی جاسکتی ہے، جس کے بعد یہ بالکل نیا ہوجاتا ہے۔ ماربل کے منفی پہلوؤں میں اس پر بہت زیادہ پھسلن ہونا، خریداری کے وقت دستیاب آپشن میں کمی اور اسے لگانے میں وقت زیادہ لگنا شامل ہے۔ 

ٹائل کی بات کریں تو اس کا فرش خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہوتا ہے اسی لیے آجکل فرش کے لیے زیادہ تر ٹائل ہی استعمال کیے جارہے ہیں۔ ٹائل کئی اقسام اور رنگوں میں دستیاب ہیں، ان کی صفائی بھی بآسانی ہوجاتی ہے، جبکہ ماربل کی نسبت اسے لگانا بھی آسان ہوتا ہے۔ میٹ ٹائل پر پھسلن بھی کم ہوتی ہے۔ زیادہ مضبوط نہ ہونا اس کا منفی پہلو ہے۔ ٹائل پر رگڑ یا کوئی داغ لگ جائے تو وہ صاف نہیں ہوپاتا، اس کا واحد حل ایسے ٹائل کو اکھاڑ کر اس کی جگہ نیا ٹائل لگانا ہوتا ہے اور اس کام میں سب سے بڑی دشواری اسی رنگ اور سائز کی ٹائل کی دستیابی ہوتا ہے۔

ماربل کی اقسام

ذیل میں مارکیٹ میں دستیاب مختلف قسم کے ماربل پر ایک نظر ڈالی جارہی ہے۔

درجہ اوّل: یہ ماربل کا بہترین پروسیسنگ معیار ہے، جو ٹوٹ پھوٹ اور سوراخوں سے پاک ہوتا ہے ۔

درجہ دوم : یہ بھی درجہ اوّل کی طرح ہوتا ہے لیکن معیار میں تھوڑا کم ہے۔ اس میں موجود سوراخوں کو سفیدے یا گِلو سے بھر دیا جاتاہے ۔

درجہ سوم : پروسیسنگ کے معیار میں یہ نچلے درجے کا ماربل ہے، اس میں کچا پن ہوتا ہے اور جلدی جھڑ سکتاہے ۔

درجہ چہارم: اس کی خصوصیا ت درجہ سوم کی طرح ہوتی ہیں، لیکن اس میں قدرتی خامیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ سب سے بڑا فرق پروسیسنگ کے معیار میں ہے لیکن یہ بہت سارے رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے۔

ماربل لگانے میں کی جانے والی احتیاطیں

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ماربل لگانے کے کچھ عرصے بعد ہی اکھڑنے لگتا ہے۔ اس نقص کی وجہ ماربل کا غیرمعیاری (ناقص کوالٹی) ہونا نہیں ہوتا بلکہ ماربل لگاتے وقت مستری کی جانب سے برتی جانے والی تھوڑی بے احتیاطی سے یہ مسئلہ سامنے آتا ہے۔ کنکریٹ کی چھت پر ماربل لگانے سے پہلے اس پر پی سی سی ضرور کرنا چاہیے۔ ماربل لگانے سے پہلے فرش کو اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہے تاکہ کہیں کوئی کچرا، مٹی یا ریت وغیرہ نہ رہے۔ پھر فرش کو اچھی طرح پانی سے گیلا کرنا چاہیے اور اس کے بعد سوکھی سیمنٹ یا پانی میں سیمنٹ گھلا کر کا چھڑکائو کیا جائے۔ 

ماربل لگانے کے لیے جو مسالہ تیار کیا جائے اس میں بھی ریت صاف ہونی چاہیے، زیادہ پتھر نہ ہوں۔ فرش پر جب مسالہ لگایا جائے تو اسے اچھی طرح ہموار کرکے پھر اس پر ماربل رکھ کر پریس کرنا چاہیے۔ اکثر مستری مسالے پر ڈائریکٹ پانی میں گھلا ہوا سیمنٹ (نیرو) ڈال کر ماربل لگا دیتے ہیں ہے اور یہی ایک بڑی غلطی ہے۔ مسالے پر ماربل پریس کرنے کے بعد دوبارہ اسے اٹھایا جائے اور مسالے پر نیرو ڈال کر اوزار (کرنڈی) کی مدد سے اس میں دوبارہ لائنیں سی لگائی جائیں اور پھر ماربل فکس کیا جائے۔ مسالے پر نیرو ڈال کر ماربل فکس کرنے سے مسالے میں خلا(Voids) رہ جاتے ہیں اور ایک وقت آنے پر ان خلا کی وجہ سے ماربل اکھڑ جاتا ہے جبکہ پہلے ماربل سے مسالے کو پریس کرنے اور پھر اس میں لکیریں ڈالنے سے یہ وائڈز ختم ہوجاتے ہیں۔

ماربل لگانے کے ساتھ ساتھ گیلے کپڑے یا فوم سے ماربل کو صاف کرتے رہنا چاہیے اور کام مکمل ہونے پر جتنا بھی ماربل لگا ہو اس میں ہر دو ماربل کے درمیان درزیں بھری جائیں۔ اگر ماربل سیاہ رنگ کے ہیں تو اسی کی سیمنٹ سے درزیں بھری جائیں بصورت دیگر سفید سیمنٹ پانی میں گھول کر وائپر کی مدد سے اچھی طرح لگادی جائے۔ بہتر یہ ہے کہ ماربل لگانے کا کام ٹھیکے پر دینے کی بجائے دیہاڑی پر کروایا جائے تاکہ کام کرنے والے کاریگر کی توجہ کام پر ہو۔