• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر خریدنے سے پہلے مدِنظر رکھنے والی باتیں

دنیا میں کون ایسا شخص ہے، جو اپنا ذاتی گھر نہیں چاہتا، کیوں کہ بالآخر کوئی بھی شخص پوری زندگی کرایہ کے گھر میں نہیں گزارنا چاہتا۔ مزید برآں کرایہ نامہ کے معاہدے میں ہر سال ایک مخصوص شرح سے کرایہ میں اضافہ کی شرط اچھے خاصوں کی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ لے اُڑتی ہے، جس کے بعد بچوں کی تعلیم، صحت، کچن اور دیگر روزمرہ کے لیے بہت کم ہی رقم بچتی ہے۔ ایسے میں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنا گھر خرید لے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑھتی شہر کاری نے زمینوں کی قیمتوں کو اس قدر آسمان تک پہنچا دیا ہے کہ گھر تو گھر ایک مناسب سا فلیٹ خریدنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔

ایسے میں اگر آپ نے تمام معاملات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے لئے نیا گھر خریدنے کا ارادہ کرلیا ہے تو کچھ باتیں ایسی ہیں، جن کا آپ کوہر صورت خیال رکھنا چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جس سے مکان خرید رہے ہیں اُس کی دستاویزات درست ہیں؟ کوئی قانونی قد غن تونہیں؟ گروی تو نہیں رکھی ہوئی؟ ساتھ میں یہ بھی دیکھنا ہے کہ مالکان کتنے ہیں، اُن کی کوئی آپسی چپقلش تو نہیں؟ کسی عدالت میں کوئی مقدمہ تو نہیں چل رہا؟ ٹائٹل وغیرہ کس کے نام ہے؟ جس علاقے میں گھر واقع ہے وہاں غیر قانونی تعمیرات تو نہیں ہورہی ہیں؟ اس کے علاوہ الاٹمنٹ آرڈر، موٹیشن اور وراثت میں کوئی مسئلہ تو نہیں اَٹکا ہوا؟

آپ کو خیال رکھنا ہو گا کہ آپ جو نیا گھر خریدنے جارہے ہیں، جب تک اس سے جُڑے درج بالا تمام معاملات کلیئر نہیں ہوں گے تب تک نئے گھر میں اپنائیت کا احساس حاصل کرنا تقریبا ناممکن ہوگا۔ سب سے پہلے آپ کو دیکھنا ہو گا کہ نیا گھر آپ کے خاندان کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ اگر آپ کے گھر میں اسکول جانے والے بچے ہیں تو بہتر ہو گا کہ آپ کے نئے گھر کے نزدیک اچھے اسکول موجود ہوں۔ 

اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد گھر بیٹھے کام کرتا ہے تو آپ کو ایسا گھر ڈھونڈنا چاہیے، جس میں ایک ہوم آفس بھی بنا ہو۔ اگر آپ کے گھر مہمانوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے تو ایک گیسٹ روم والا گھر آپ کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ چند باتیں جو ایک گھر کو خوشگوار بناتی ہیں، ان میں گھر کا کشادہ، ہوا دار اور روشن ہونا شامل ہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کا نیا گھر ان تمام خصوصیات کا حامل ہو۔ پاکستان جیسے ممالک میں توہم پرستی بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، لہٰذا اگر آپ ویسٹ اوپن گھر خریدتے ہیں تو آپ کو ہوا دار ہونے کے ساتھ لوگوں کے اندر پائے جانے والے خوف کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آپ کیلئے بہترین سائز کا گھر کون سا ہے؟

کیا آپ اکیلے رہتے ہیں یا صرف اپنی شریک حیات کے ساتھ؟ کیا آپ کا خاندان مختصر ہے یا آپ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو آپ کو اپنے گھر کا سائز منتخب کرنے سے پہلے خود سے کرنے چاہئیں۔ عام اصول یہی ہے کہ جتنے کم لوگ ہوں اتنا چھوٹا گھر بہتر رہتا ہے کیونکہ اس کی صفائی، تزئین اور ترتیب آسان ہوتی ہے۔ لیکن کئی لوگوں کے لیے یہ بہت ہی سادہ سی بات ہوگی۔ 

ایسے میں ایک مشورہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر آپ ابھی نوجوان جوڑا ہیں اور مستقبل میں خاندان بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آئندہ چند برسوں میں یقیناًآپ کو گھر میں اضافے کمروں کی ضرورت پڑے گی اور چونکہ وقت کے ساتھ ریئل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے تو بہتر یہی رہے گا کہ اگر آپ کے پاس کچھ پیسے ہیں تو ابھی سے بڑا سا گھر یا اپارٹمنٹ خرید لیں، آپ کا آج کا درست فیصلہ آپ کو کل کے جھنجھٹ سے محفوط رکھے گا۔

مگر کہانی صرف یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آپ کا بجٹ اس فیصلے پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ تو کیا کیا جائے اگر آپ ایک بڑا گھر چاہتے ہیں مگر اسے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے؟ ایسی صورت میں بہتر ہو گا کہ آپ ایک کھلے پلان والا گھر ڈھونڈیں۔ جتنی کم دیواریں ہوں، گھر اتنا کشادہ لگتا ہے اور ایسے گھر میں آپ کو کبھی جگہ کی کمی کا احساس نہیں ہو گا۔

کم بجٹ میں نئے گھر کی سجاوٹ کیسے ہوتی ہے ؟

آپ نے گھر تو تبدیل کر لیا لیکن اگر اس کی سجاوٹ کے دوران آپ کے بجٹ نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو؟ رکیں! کم بجٹ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ گھر کی سجاوٹ پر سمجھوتہ کر لیں۔ ذرا ٹھہریں اور سوچیں کہ آپ کو اس وقت کیا ضروری سامان درکار ہے۔ ضروری طور پر مطلوب سامان کی ایک فہرست بنائیں اور سجاوٹ کے لیے مختص رقم نکال کر الگ رکھ لیں۔ پھر دیکھیں کہ آپ یہی سجاوٹ کم داموں میں کیسے کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کسی دیوار کو منفرد بنانا چاہتے ہیں تو آسان ترین حل وال پیپر ہے۔ نئے فوٹو فریم خریدنے کے بجائے آپ پرانے والوں پر رنگ کر کے ان کو نیاکر سکتے ہیں۔ آپ اپنے کمرے میں تازہ پھول رکھ سکتے ہیں، کشن اور تکیوں پر منفرد غلاف (کور) چڑھا کر انہیں سب کی توجہ کا مرکز بنا سکتے ہیں، یہاں تک کہ تھوڑا سا دماغ لڑانے کے بعد آپ اپنے روز مرہ استعمال کے سامان کو بھی آرائشی ٹکڑوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔