• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تکمیلِ دین اور عقیدہ ختمِ نبوت کی عظیمت و اہمیت

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور میں نے تمہارے لیے پسند کیا اسلام کوبطورِ دین‘‘۔ (سورۃ المائدہ:۳)

اس آخری ہدایت کو اسلام سے تعبیر فرما کر اس کا بھی اعلان کردیا کہ اب قیامت تک اس دین اسلام کے سوا کوئی اور دین اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ، اور یہ کہ انسانی نجات کے لیے صرف یہی ایک راستہ متعین ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کا خواہش مند ہوگا تو اس کا وہ دین ہر گز مقبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا‘‘۔(سورۂ آل عمران:۸۵)

قرآن کریم نے نبی کریم ﷺ کی نبوت کی عمومیت کو مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے ، چناں چہ سورۃ النساء میں ارشاد فرمایا:’’ اور اے محمدﷺ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے رسول بناکر بھیجا اور اس بات پر اللہ کی گواہی کافی ہے ‘‘۔

سورۂ سبا میں فرمایا:’’اور اے پیغمبر! ہم نے آپﷺ کو تمام لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا(دین کا پیغام پہنچانے والا) بنا کر بھیجا ہے ‘‘۔ سورۂ احزاب میں آپﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا اعلان اس طرح فرمایا:’’ محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں،(یعنی نسب کے اعتبار سے) مگر ہاں وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کی مصلحت کو خوب جانتا ہے‘‘۔(سورۂ احزاب:۴۰)

ارشاد ہوا: جو چیز تم کو رسول دے ،اسے لے لو۔ اورجس چیز سے منع کرے اس سے باز آجاؤ۔

ارشاد ِ نبویؐ ہے: جس نے ہمارے اس معاملے (دین) میں کوئی نئی چیز گھڑی تو وہ مردود ہوگی۔(بخاری ومسلم)

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کی سنت پر عمل کرو۔ (ترمذی، ج:۲، ص: ۹۲، ابوداؤد، ج۲، ص: ۲۷۹)

اللہ رب العزت کا ان گنت اور بے شمار مرتبہ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، اور یہ بھی اس کا بے پایاں اور عظیم احسان اور انعام ہے کہ اس نے ہمیں ایمان اور اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا اور خداوندِ قدوس کا سب سے اعلیٰ اور عظیم احسان اور انعام یہ ہے کہ ہمیں افضل الانبیاء، امام المرسلین، خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللہﷺ کا امتی بناکر کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کا سہرا ہمارے سروں پر سجایا۔

دین کی تکمیل خاتم الانبیاء ﷺپر ہوئی،جو دینِ اسلام لے کر حضرت آدمؑ آئے تھے، حضرت نوح ؑ آئے تھے، حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ آئے تھے، حضرت موسیٰؑ و ہارونؑ آئے تھے، حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ آئے تھے ، ہاں جو دین حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک تمام انبیاء کا متفقہ دین تھا، اس دین کی تکمیل حضرت محمد رسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی پر ہوئی۔

آنحضرت ﷺ نے اس دین کو مسلسل تیئس برس اپنے وجودِ مقدس کالہو بہاکر، طرح طرح کی تکلیفیں سہہ کر، ایذائیں برداشت کرکے، مصائب و مظالم کے پہاڑ اٹھاکر، لوگوں کے طعنے سن کر مخلوقِ خدا تک پہنچایا۔

پھر ۹ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر جب آپﷺ عرفات کے میدان میں ایک لاکھ سے زائد صحابۂ کرامؓ کے سامنے تاریخی خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، کہ لوگو! مجھ سے دین حاصل کرلو! لوگو! میری باتیں غور سے سنو!’’لَعَلِّیْ لاَ اَرَاکُمْ بَعْدَ عَامِیْ ہٰذَا ‘‘ ہوسکتا ہے میں آئندہ سال تمہیں نہ دیکھ سکوں۔

اس موقع پر اللہ ربّ العزت کی طرف سے اعلان ہوا۔آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا،اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی،اسلام کو تمہارے لئے بطورِ دین پسند کیا ۔اس آیت کریمہ سے واضح ہوگیا کہ اسلام دین کامل اور جامع دین ہے۔ دینِ اسلام نے زندگی گزارنے کے جتنے گوشے ممکن ہوسکتے تھے، ان سب کے لئے کچھ اصول، کچھ قوانین،اور کچھ ضابطے بیان کرکے انسان کو دوسرے طور طریقوں سے بے نیاز کردیا۔

قرآن میں اصولِ دین کو پوری وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور نبی اکرم ﷺکو مبعوث فرما کر اعلان کیا: تمہارے لئے اللہ کے رسولﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ فرمائیے،احادیث و سیرت کی کتابوں میںآپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک ایک لحظہ محفوظ ہے اُمت کا ہر آدمی جو کام بھی کرنا چاہے، آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی میں اس کےلیے روشن نمونہ موجود ہے۔ شادی ہو یا غمی، صحت ہو یا بیماری، سفر ہویا حضر، جنگ ہو یاصلح، سسر ہو یاداماد، والدین ہوں یا اولاد، سربراہِ مملکت ہو یا مزدور، مسجد ہو یا بازار، عبادت ہو یاتجارت، نماز ہو، روزہ ہو، اذان ہو، تکبیر ہو، جنازہ ہو، حج ہو، قربانی ہو، عمرہ ہو، غرضیکہ زندگی کے نشیب و فراز میں اور زندگی کے ہر ہر موڑ پر آنحضرت ﷺکی ذاتِ اقدس ایک مسلمان کےلیے کامل نمونہ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے خود بھی اپنے مبارک اقوال سے اپنی رسالت کی عمومیت اور ختم نبوت کو مختلف انداز میں امت کے سامنے واضح فرمایا ، آپﷺ نے اپنی رسالت کی عمومیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا :’’مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھے سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔

: ۱۔ میری نصرت فرمائی گئی ہے رعب کے ذریعے جو کہ ایک مہینے کی مسافت سے دشمن پر پڑتا جاتا ہے ۔

۲۔ میرے لیے زمین کو مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، لہٰذا میری امت کا کوئی شخص بھی ہو، جب نماز کا وقت آجائے تو اسے چاہیے کہ نماز پڑھ لے۔

۳۔ اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کردیا گیا ہے جب کہ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا۔

۴۔ اور مجھے شفاعت کبریٰ عطا کی گئی ہے ۔

۵۔ اور مجھ سے پہلے ہر نبی اپنی خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب التیمم:۱؍۱۱۲، نمبر:۳۳۵)

مختلف تاریخی ادوار اور اقوام میں انبیائے کرامؑ کو بھیجا گیا، تو واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ درج ذیل حالتیں ایسی ہیں، جن میں انبیائے کرامؑ کو مبعوث فرمایا گیا۔

٭یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے ہو کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا ہو اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس قوم تک نہ پہنچ سکا ہو۔

٭ نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم قوم نے بھلا دی ہو یا اس میں تحریف کر دی ہو اوراب اس کی پیروی کرنا ناممکن ہو گیا ہو۔

٭ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعے مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تبلیغِ دین اور شریعت کی تشریح و تعبیر کے لیے مزید کسی نبی کی ضرورت ہو یا نبی کا پیغام اور شریعت نامکمل ہو۔

٭ ایک نبی کے ساتھ ایک ہی عہد میں اس کی مدد کے لیے ایک اور نبی کی حاجت ہو۔ ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا وجوہ میں سے کوئی ایک وجہ بھی نبی اکرم ﷺ کی بعثت، آپﷺ کی ختمِ نبوّت اور تکمیلِ دین و شریعت کے بعد اب باقی نہیں ہے۔

پھر آپ ﷺ نے اپنی ختم نبوت کی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ بے شک، رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے ، میرے بعد کوئی رسول نہ ہوگا اور نہ نبی‘‘۔(جامع الترمذی، ابواب الرؤیا :۲؍۵۰۰، نمبر:۲۲۳۲)

پھر آپ ﷺ نے اس ہدایت کی تکمیل اور ختم نبوت کے مفہوم کو سمجھانے کے لیے ایک ایسی حسی مثال بیان فرمائی جس کے سننے کے بعد ایک معمولی سمجھ رکھنے والے مسلمان کو بھی کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا، آپﷺ نے فرمایا:’’ میری اور مجھ سے پہلے انبیاءؑ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے نہایت حسین و جمیل محل تعمیر کیا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، لوگ اس کے گرد چکر لگاتے اور اس (کی خوبی تعمیر) پر تعجب کرتے اور لوگ بطور تعجب کہتے ، یہ اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی کہ (محل بہمہ وجوہ کامل و مکمل ہوجاتا) فرمایا: پس میں (قصر نبوت کی) وہی (آخری) اینٹ ہوں اور خاتم النبیین ہوں کہ (میری آمد) سے انبیائے کرام ؑکی تعداد پوری ہوگئی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین:۱؍۲۶۷، نمبر:۳۵۳۴)

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’رسالت و نبوّت کا سلسلہ ختم ہوگیا ، میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔‘‘ (ترمذی)

پیغمبرِ آخر و اعظم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں محمدؐ ہُوں، میں احمدؐ ہُوں، میں ماحی ہُوں کہ میرے ذریعے کُفر مِٹایا جائے گا، میں حاشر ہُوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب ہُوں، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔‘‘ (بخاری و مسلم)

قرآن و سنّت کے ان ارشادات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانیت کی ہدایت و راہ نُمائی کے لیے حضرت آدمؑ سے جو سلسلۂ رُشد شروع ہُوا تھا، وہ نبیِ خاتم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل ہُوا، آپﷺ کے بعد نبوّت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ آپﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، خاتم الانبیاء اور سیّد المرسلینؐ ہیں۔ نبوّت و رسالت کی آخری اینٹ اور آخری کڑی ہیں۔ آپﷺ پر دین کی تکمیل کردی گئی۔آپﷺ کی عطا کردہ شریعت رُشد و ہدایت کا ابدی سرچشمہ ہے۔اسلام دینِ کامل اور ابدی ضابطۂ حیات ہے، اس کی اتّباع ہی دین و دنیا میں کامیابی کی ضمانت اور آخرت میں نجات کی کلید ہے۔

رُشد و ہدایت کا سلسلہ اور ایمان سے وابستگی درحقیقت عقیدۂ ختمِ نبوّت پر ایمان سے وابستہ ہے۔ اس پر ایمان بندگی کا لازمی اور ناگزیر تقاضا ہے، جس کے بغیر دین و ایمان کا تصوّر بھی محال ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور پوری امتِ اسلامیہ کو آپ ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے پر قائم رہنے اور اس کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)