• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ﷰپاکستان میں طبقاتی تقسیم اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہم نچلے اور متوسط طبقے سے بالکل الگ تھلگ ہو چکے ہیں، ہم نہ تو اُن کے مسائل کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اُن کے حل کے حوالے سے سوچتے ہیں۔ بعض اوقات میڈیا میں بھی اِس سوچ کا تاثر نظر آتا ہے۔ اِس تلخ حقیقت سے کوئی نا کوئی واقعہ روشنائی کرواتا ہی رہتا ہے لیکن کبھی کبھار ہم اِس حقیقت کو اِس قدر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہمارے ہی معاشرے کا ایک طبقہ ہمیں نظر نہیں آتا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں یہ طبقاتی فرق اِس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب اگر تعلیم کے حوالے سے مسائل پر بات بھی کی جاتی ہے تو صرف ایک مخصوص طبقے کے مسائل کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی نظاموں میں برابری کو بنیادی اصول بنایا جاتا ہے۔ اِس لئے جب ایک ہی جماعت میں تمام بچوں کو یکساں مواقع فراہم کئے جاتے ہیں تو اُس جماعت میں بیٹھنے والا چاہے وہ ایک وزیر کا بچہ ہو یا مزدور کا، صرف اپنی قابلیت کی بنا پر آگے جا سکتے ہیں۔ اگر مزدور کا بچہ زیادہ قابل ہو گا تو وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے جا سکتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی زیادہ ترقی کر سکتا ہے لیکن اِس کے لئے اُس تعلیمی میدان میں یکساں مواقع فراہم ہونا ضروری ہے۔ اسکول میں برابر کے مواقع میسر ہونے کے باوجود ایک مزدور کے بچے کو ایک وزیر کے بچے کے مقابلے میں 100 فیصد برابر کے مواقع میسر نہیں ہوتے کیونکہ جو وزیر کا بچہ ہو گا اُس کا تجربہ بھی زیادہ ہو گا، اُس کے پاس وسائل بھی زیادہ ہوں گے اور اُس پر گھر کے کام میں ہاتھ بٹانے کی ذمہ داریاں بھی نسبتاً کم ہوں گی۔ اُس کے باوجود جب نظامِ تعلیم میں برابری کے اصول کی وجہ سے اُسے اسکول میں یکساں مواقع میسر آتے ہیں تو اُسے اِن چیزوں سے بہت کم فرق پڑتا ہے۔ اُس کے بر عکس ہمارے ہاں مسئلہ کچھ یوں ہے کہ یہاں وزیروں اور بڑے افسروں کے بچے تو رہے ایک طرف ، ایک اچھے ادارے میں کام کرنے والے کلرک کا بچہ بھی جس اسکول میں جاتا ہے مزدور کا بچہ وہاں نہیں جا سکتا۔ ہمارے معاشرے کی اشرافیہ اور اپر مڈل کلاس اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں کی بجائے نجی اسکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجی اور سرکاری اداروں میں پڑھنے والے بچوں کو یکساں مواقع میسر نہیں ہوتے۔ مزید ستم یہ کہ سرکاری اداروں کی حالت بد سے بد تر ہو چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کی آمدنی چاہے کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو اُس کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو کسی نجی اسکول میں داخل کروائے، جیسےبیمار ہونے کی صورت میں وسائل کی کمیابی کے باوجود لوگ اپنا علاج نجی اسپتالوں سے ہی کرواتے ہیں۔ اسی لئے ہمارے سرکاری اسکولوں میں جانے والے بچوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور اُن کو درپیش مسائل پر بھی بات نہیں کی جاتی۔

پچھلے کچھ برسوںسے نجی اسکولوں کے خلاف ایک تحریک چلی ہے ، جس میںاُن اسکولوں کی فیسوں اور دیگر مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے اور نجی اسکولوں کی طرف سے دی جانے والی ناکافی سہولتوں کو بہت بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ میں اِس تحریک اور اِس کی کوریج کو اچھا یا برا نہیں کہہ رہا لیکن ایسی توجہ پاکستان کے سرکاری اسکولوں اور وہاں کے مسائل کی طرف کبھی نہیں دی گئی۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے اتنا زور لگایا جاتا تو شاید کوئی نجی اسکولوں کی طرف رُخ ہی نہ کرتا لیکن ہم سرکاری نظامِ تعلیم سے اِس قدر لاتعلق ہو چکے ہیں کہ جیسے ایسا کوئی نظام کبھی موجود ہی نہیں تھا۔

کورونا وبا کے دِنوں میں بھی جب ہم آن لائن تعلیم ، اِس کے نقص اور مسائل پر بات کرتے رہے تو نجی تعلیمی اداروں میں یہ نظام موجود تو تھا لیکن اُس کے برعکس سرکاری اسکول میں پڑھنے والے کروڑوں بچوں کے لئے سرے سے ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ۔سرکاری ٹیلی ویژن پر ٹیلی اسکول چلایا تو گیا لیکن وہ بھی صرف محدود حد تک متبادل ثابت ہوا۔

اِس طرح جب بھی امتحانات کی بات کی جاتی تھی تو اُس میں ایک اہم بات یہ تھی کہ جن کے پاس وسائل تھے وہ ٹیوشنز یا بہتراسکولوں کے آن لائن نظام سے مستفید ہوتے رہے لیکن سرکاری اسکولوں اور متوسط طبقے کے طالب علموں کو ایسے مواقع نہیں ملے جس کی وجہ سے اُنہیں انٹر نیٹ کی عدم موجودگی یا پیکجز وغیرہ کروانے کی سکت نہ رکھنے کا مسئلہ بھی درپیش رہا۔مجھے خود سرکاری اسکول کے بچوں کے اِس مسئلے کا احساس تب ہوا تب فیس بک پر گوجرانوالہ کے ایک سرکاری اسکول کے چند طالب علموں نے مجھے یہ پیغام بھیجا کہ وہ اِس مسئلے کی وجہ سے کافی پیچھے رہ گئے ہیں ، اُن کیساتھ کورونا وبا کےدِنوں میں یہ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے۔

ہمارا دین بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اپنے بھائی کیلئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے کرتے ہو۔ اِسی طرح چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر بیشتر سرکاری اسکول کے طالب علم جن کو ہم نے نظر انداز کر دیا ہے ، کیلئے بھی ہمیں سوچنا ہو گا، اُن کو پیچھے نہ رہنے دیا جائے اور اِس وبا کے دِنوں میں جو اُن کیساتھ ہوا ہے ، اُس نقصان کو پورا کرنے کیلئے بھی ایک لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں مزید پیچھے نہ رہ جائیں۔جیسا کہ کورونا وبا کہ وجہ سے ابھی بھی ملک کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے اور جب تک ویکسی نیشن کا عمل پورا نہیں ہو جاتا ایسا اکثر ہوتا رہے گا تو ہمیں سرکاری اسکول کے بچوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے تاکہ اُن کی مشکلات آسان ہو سکیں اور اُن کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔ً

تازہ ترین