• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ بحیثیت انشا پرداز

اُردو ادب کی ابتدا کو صدیاں گزر گئیں۔ بھارت اور پاکستان، دونوں خطّوں میں انشاء پردازوں نے اُردو کی آب یاری اور فروغ کے لیے خاطر خواہ کوششیں کیں، لیکن اگر تاریخِ ادبِ اردو کا مطالعہ کریں اور آج تک کی تصانیف کا جائزہ لیا جائے، تو بہت کم کتابیں ایسی نظر آئیں گی، جن میں سنجیدگی، ذوق اور واقفیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہو۔ افلاطون کا خیال ہے کہ’’ہمیں ایسے اہلِ قلم کی ضرورت ہے، جو اپنے زورِ طبع سے حقیقی حُسن و کمال کا پتا لگائیں تاکہ نوجوان نیکی اور اخلاق کے خوگر ہوجائیں۔‘‘

اِس تناظر میں بلاشبہ مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریریں اخلاقی اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا اہم وسیلہ ہیں۔ مولانا مودودیؒ ایک فرد کی حیثیت سے اُبھرے اور پھر اپنی اَن تھک جدوجہد سے اسلام کی نظریاتی بنیادوں پر اپنے علم و فضل کے ایسے نقوش ثبت کیے، جن کا اثر دائمی ہے۔

 مولانا مودودیؒ کی علمی بصیرت، سیاسی تدبّر اور اُن کی زندگی کے مختلف گوشے اجاگر کرنے کے لیے بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جاتا رہے گا، لیکن اُن کی شخصیت کا ایک پہلو، جسے منظرِ عام پر لانے کی کوشش نہیں کی گئی، وہ اُن کی انشاء پردازی ہے۔ اُردو انشاء پردازی پر مولانا مودودیؒ کی تحریروں کے اثرات نمایاں ہیں، جنھیں کسی صُورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہوں نے نہ صرف اُردو زبان کو خُوب صُورت پیرایۂ اظہار دیا، بلکہ اسے نئی جہتوں سے بھی آشنا کیا۔ 

مولانا مودودیؒ کے یہاں اُردو نثر نگاری اِس استدلال اور علمی بنیاد پر قائم ہے، جو جذبات کی گہرائیوں سے اُبھرتا ہے، جذبات سے نہیں۔ اُن کی نثر شخصیت کا اظہار ہے، جس کی مثال عام طور پر نہیں ملتی۔ مولانا نے ہمیشہ محتاط اور شائستہ اندازِ بیان اختیار کیا۔ اُن کی زبان، دین کی زبان ہے، جو شرافت، متانت اور بلند اخلاق کا درس دیتی ہے اور قاری کے قلب و ذہن کو مسخر کرتی چلی جاتی ہے۔ اُنہوں نے تمام عُمر کردار سازی پر زور دیا۔ گو کہ آج مولانا ہمارے درمیان نہیں، لیکن اُن کی تحریریں ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے اندازِ نگارش میں وہ تمام خصوصیات و لوازمات بدرجۂ اتم موجود ہیں، جو ایک اعلیٰ نثر نگار میں ہونے چاہئیں۔

بہترین نثر کی علامت یہ ہے کہ اُسے پڑھتے وقت آواز میں مدوجذر اور دلآویزی پیدا ہو، جو فطرت اور ادبیات کی ہر فضا کی خُوب صُورتیوں میں اضافہ کرے۔ مدوجذر اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب اُس کے لکھتے وقت مصنّف کے جذبات و احساسات میں بھی تلاطم برپا ہو رہا ہو۔ دوسرے یہ کہ عبارت کے جملے کا مطلب اِس قدر واضح ہو کہ جسے سمجھنے کے بعد کسی شک و شبے کی گنجائش نہ رہے۔ نہ صرف ہر جملے کا بلکہ اجتماعی طور پر ہر ایک عبارت کا مطلب متعیّن ہونا چاہیے۔ 

بلاشبہ، مولانا مودودیؒ کا اندازِ نگارش ایسا ہی ہے، جیسی ماہرین نے اس صنف کی تعریف بیان کی ہے۔پھر یہ کہ صرف اُردو زبان ہی نہیں، برّ ِصغیر کی تمام زبانوں پر سیّد مودودیؒ کی انشاء پردازی کے اثرات موجود ہیں۔ ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق،175سے زاید اخبارات و رسائل، برّ ِصغیر کی مختلف زبانوں میں مولانا کے پیغام کی اشاعت اور اُن کی زبان کے اثرات کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ کی چھے جلدیں تیس برس میں مکمل کیں، لیکن اُن کی زبان کے معیار میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ اُن کی زبان کا ایک اور وصف یہ ہے کہ وہ توحید و رسالتؐ سے دِلوں کو جوڑتی ہے۔

علّامہ نیاز فتح پوری ادب میں جو نظریات رکھتے تھے، اُن سے کون واقف نہیں۔اُنھوں نے 1933ء کے ’’نگار‘‘ میں’’ترجمان القرآن‘‘ پر ایک مفصّل تنقیدی مضمون تحریر کیا تھا، جو ظاہر ہے، اُن کے نظریات کی ترجمانی اور مولانا مودودیؒ کے نظریات کی نفی کرتا تھا۔ اُس کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے ایک پُرمغز، تفصیلی مضمون بعنوان’’تجدّد کا پائے چوبیں‘‘ تحریر کیا، جو اُن کی علمی و ادبی بصیرت کا اعلیٰ شاہ کار ہے۔ 

اس مضمون کا ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے،’’حضرت نیاز فتح پوری نے رائے دی ہے کہ’’ترجمان القرآن‘‘ میں ایک’’باب المناظرہ‘‘ کھولا جائے اور ارادہ ظاہر فرمایا کہ وہ اپنے شبہات و اعتراضات بھی پیش کریں گے۔ جہاں تک اصطلاحی مناظرے کا تعلق ہے، مَیں نے ہمیشہ اس سے دامن بچایا ہے اور اب بھی بچانا چاہتا ہوں، کیوں کہ مَیں ایسی بحث کا قائل نہیں ہوں۔

مقصد احقاق و تحقیق ہو اور جس میں فریقین اِس دلی خواہش کے ساتھ شریک ہوں کہ جو کچھ اُن کے نزدیک حق ہے، اُس کا اظہار کریں گے اور جو کچھ حق ثابت ہوجائے گا، اُس کو تسلیم کریں گے، تو اُس کے لیے مَیں ہر وقت آمادہ ہوں۔ ’’نگار‘‘ میں جو اعتراضات و شبہات پیش کیے جائیں گے، وہ’’ترجمان القرآن‘‘ میں نقل کیے جائیں گے اور پھر اُن کا جواب دیا جائے گا۔ 

اِس طرح اُمید ہے کہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے جواب پر اگر حضرتِ نیاز کوئی تنقید فرمائیں گے، تو اصل جواب بھی اُس کے ساتھ نقل فرمائیں گے تاکہ دونوں رسالوں کے قارئین بحث کے دونوں پہلوئوں سے واقف ہوں اور خود بھی کوئی رائے قائم کرسکیں۔ صرف ایک پہلو پیش کرنا اور دوسرے پہلو کو پیش کرنے سے احتراز کرنا، میرے نزدیک خود اپنی کم زوری کا اعتراف کرنا ہے۔‘‘

میر تقی میر کی شاعری بلامبالغہ اُردو کا گراں قدر سرمایہ ہے، اُنھیں نہ صرف اُن کی زندگی میں ہم عصروں نے تسلیم کیا، بلکہ ہر ایک عہد اُن کے شاعرانہ مقام کا دِل دادہ ہے، لیکن اُنہوں نے بھی عالمِ جذبات میں آکر کہہ دیا کہ ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ لیکن علم و حلم کے اِس بحرِ بیکراں سے اُٹھتی ہوئی ہر لہر ’’اَنا‘‘ کی آلودگی سے پاک نظر آئے گی۔ آپ ،مولانا مودودیؒ کی تحریروں کا مطالعہ کرتے چلے جائیں، اُن میں لفظ ’’مَیں‘‘ شاذونادر ہی ملے گا۔ مولانا مودودیؒ کے قلم سے نکلے ہوئے نثر پاروں کی کشش اور مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی مختلف زبانوں میں اُن کی روح پرور تصانیف کے تراجم مدّتوں سے شایع ہورہے ہیں۔ 

برّ ِصغیر کا تو ذکر ہی کیا، عرب و عجم سے گزر کر مغربی ممالک تک میں اُن کی پُرمغز تصانیف نے ہزاروں نہیں، لاکھوں بھٹکے ہوئے اذہان کی صحیح سمت رہنمائی فرمائی۔ مولانا مودودیؒ کی انشاء پردازی کے حوالے سے ممتاز ادیب، صحافی اور دانش وَر، سجّاد میر نے کیا خُوب تبصرہ کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں، ’’سیّد مودودیؒ جب بحیثیت انشاء پرداز میدان میں آئے، تو انشاء پردازوں کو انشاء پردازی تَرک کرنی پڑی۔ 

مولانا مودودیؒ نے اس عہد کے نثر نگاروں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اندازِ نگارش بہت بلند ہے، مگر یہ اُن کی ذات پر ختم ہوگیا، اس میں سے عربی اور فارسی کے الفاظ نکال دیے جائیں، تو عبارت میں روح باقی نہیں رہتی۔ مولانا مودودیؒ کا کمال یہ ہے کہ اُنہوں نے سادہ، سلیس اور عام آدمی سے لے کر تعلیم یافتہ دانش وَروں کے سمجھ میں آنے والی اور اُنہیں یک ساں متاثر کرنے والی زبان استعمال کی، جو اُن کے عہد کی زبان بن گئی۔‘‘

ایک افسانہ نگار، ڈراما نویس، سائنس داں اور فلسفی اپنا مافی الضمیر اپنے قارئین تک پہنچانے کے لیے آزاد ہوتا ہے کہ جو اندازِ نگارش چاہے، اختیار کرے۔ مبالغہ آرائی سے کام لے یا طنز، استہزاء کے تیر چلائے، جھوٹ اور سچ کی آمیزش سے نت نئے پیکر تراشتا چلا جائے تاکہ اس کے پڑھنے والے اُس کی نگارشات سے لُطف اندوز ہوں اور بس…! اس کے برعکس، مولانا مودودیؒ نے قرآن و سُنّت کی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنی زبان اور قلم وقف کردیا تھا۔ ایسی صُورت میں یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اُن کی زبان و قلم دوسرے موضوعات پر لکھنے والوں کی طرح بے لگام ہوتے۔ 

مولانا نے جو لکھا اور جتنا لکھا، ان حدود میں رہ کر لکھا، جن میں رہے بغیر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیم بلا کم و کاست لوگوں تک پہنچانا ممکن ہی نہ تھی۔ یہی سبب تھا کہ اُن کے پڑھنے والوں میں قبولِ حق کی صلاحیت و استعداد بڑھتی اور پھیلتی گئی۔ مولانا نے وہی کچھ لکھا، جس کے اظہار و اِبلاغ کی تلقین اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی طرف سے کی گئی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے ساری پابندیاں قبول کرتے ہوئے ایسا دل پذیر اندازِ نگارش اپنایا، جس میں نئے شعور اور پرانی سوچ، دونوں کے لیے صلاح و فلاح سے ہم کنار ہونے کے یک ساں امکانات موجود تھے۔ 

مولانا مودودیؒ کی تحریریں عصری تقاضوں اور مطالبوں کو رَد نہیں کرتیں بلکہ اِن تقاضوں اور مطالبوں کے جائز وسائل بہم پہنچاتی ہیں۔ یہ سب کام اِس طرح انجام پذیر ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اُسے کسی نئی چیز کی طرف بلایا جارہا ہے۔ اِس کے برعکس، اُن کا قاری خُوب سے خُوب تر کی تلاش میں رواں دواں دِکھائی دیتا ہے اور بالآخر اُس مقام پر پہنچ کر دَم لیتا ہے، جہاں وہ یہ کہنے اور تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ دینِ اسلام، واقعی دینِ فطرت ہے۔

مولانا مودودیؒ کی اس اثر انگیز صداقت کو اُردو زبان کی معراج قرار دیا جاسکتا ہے۔ مولانا کے قارئین پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ مشکل سے مشکل مسئلے کو بھی آسانی سے بیان کردیتے ہیں۔ مولانا محترم کی اِسی خصوصیت نے اُنہیں ہر دِل عزیزی کے اس مقام پر پہنچا دیا، جہاں اُن کا کوئی حریف نظر نہیں آتا۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں میں افسانوی انداز ملے گا، نہ رُلا دینے اور ہنسا دینے والی مہارت کے کرشمے نظر آئیں گے۔ ایک سادہ، لیکن پُروقار اندازِ بیان ،جو ذہن و دل کو مسخّر کرتا چلا جاتا ہے اور قاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ زبان و بیان کا ایک چشمۂ شیریں رواں ہے۔

اِس میں اِتنا حُسن، اِتنی جاذبیت اور اِتنا انوکھا پن ملے گا کہ آپ اپنے اندر ایک روحانی فضا محسوس کریں گے۔اب آپ خود سوچیے کہ سچّے، کھرے اور بڑے ادب کی اِس سے بڑی شناخت اور کیا ہوسکتی ہے؟مولانا مودودیؒ ایک اور ہی فضا کے لیے پیدا کیے گئے تھے، لیکن آفرین ہے، اُن کی ہمّت اور قابلیت پر کہ اُنہوں نے جہاں ایک طرف مذہبی تقدّس حاصل کیا، وہاں دوسری طرف، ادب کا دامن بھی نہ چھوڑا۔ اُن کی ایک خُوبی یہ بھی ہے کہ اُنھوں نے سَر سیّد احمد خان اور مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح اسے اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے جانشینوں کی ایک مستقل جماعت بھی تیار کردی، جو اُن کی طرح ایک ہاتھ میں مذہب اور دوسرے ہاتھ میں ادب کا پرچم سنبھالے ہوئے ہے۔ 

مولانا مودودیؒ نے اپنے اندازِ تحریر کے ذریعے دین و ادب میں ایسی ہم آہنگی پیدا کردی، جسے کسی صُورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب بھی’’اسلامی ادب‘‘ کی بات کی جائے گی، مولانا مودودیؒ کا نام اور کام سرِفہرست ہوگا۔ اربابِ فکر و دانش کو مولانا مودودیؒ کی انشاء پردازی اور اُن کی شخصیت کے ادبی پہلو اجاگر کرنے کے لیے کوئی قدم اُٹھانا چاہیے تاکہ نئی نسل اُن کے ادبی کارناموں سے بھی رُوشناس ہوسکے۔

سنڈے میگزین سے مزید