• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2019، امریکی حکام نے ہزاروں میں سے صرف 5 تحفے اپنے پاس رکھے

اسلام آباد (قاسم عباسی) امریکا کی جانب سے جاری 2019 کے تحائف کی تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو ملنے والے ہزاروں تحفوں میں سے صرف 5 تحفے حکام نے اپنے پاس رکھے۔ ان تحفوں میں پاکستان نے 3 ہزار ڈالرز کا قالین ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا، جب کہ سب سے مہنگے تحائف عرب ممالک نے امریکا کو دیئے۔ 

تفصیلات کے مطابق، امریکی حکام کو بیرون ممالک اور معززین کی جانب سے موصول ہونے والے تحائف کی تفصیلات جو کہ امریکا کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ ان تحائف کو موصول کرنے والوں میں صدر، نائب صدر، سینئر مشیر، سیکرٹریز، سینیٹرز، سی آئی اے ایجنٹس، فوجی افسران، ججز اور دیگر سرکاری محکموں کے حکام شامل ہیں۔ 

ہزاروں ڈالرز مالیت کے سیکڑوں قیمتی تحائف میں سے صرف پانچ ہی 2019 میں امریکی حکام نے اپنے پاس رکھے تھے۔ سب سے زیادہ تحائف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موصول ہوئے تھے لیکن انہوں نے کوئی ایک بھی اپنے پاس نہیں رکھا۔ ان تحائف میں پاکستان کی جانب سے دیا گیا تحفہ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے دیئے گئے تحفے بھی شامل ہیں۔ 

پاکستان کے برعکس، امریکا بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات سالانہ بنیاد پر شائع کرتا ہے اور اسے عوامی سطح پر لاتا ہے۔ اس میں کوئی چیز خفیہ نہیں رکھی جاتی۔ امریکا کو موصول ہونے والے سب سے قیمتی تحائف عرب ممالک کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ 

ان میں یو اے ای، قطر، سعودی عرب، بحرین اور کویت شامل ہیں۔ تحائف موصول کرنے والوں میں میلانیا ٹرمپ، مائیک پینس، مسز کیرن پینس، مک ملوینی، جان بولٹن، سارہ سینڈرز، اسٹیفن ملر، مائیک پومپیو اور دیگر اہم حکام کے نام بھی شامل ہیں۔ 

رپورٹ میں ٹھوس تحائف اور سفری اخراجات کے تحائف کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ نے سفری اخراجات کی کم سے کم قیمت 2017-2019 میں 100 ڈالرز رکھی ہے، جب کہ اس سے زیادہ مالیت کے تحائف کی رپورٹ امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی۔ 

5 اگست، 2021 میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے شائع نوٹس میں تحفے وصول کرنے والوں کے نام، قیمت، موجودہ مقام یا وہ کس کے پاس ہے، تحفہ دینے والے کی شناخت اور جس مقام پر تحفہ وصول کیا گیا کی تفصیلات موجود ہیں۔ 

ان تحائف میں قیمتی زیورات، پینٹنگز، مجسمے، پرفیومز، کپڑے، کتابیں، جنگی سامان، سفری اخراجات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دستاویزات میں مختلف ممالک میں امریکا کی جانب سے قبول کیے گئے سفری اخراجات بشمول رہائش، کھانے یا دیگر تحائف شامل ہیں۔ 

2019 میں سب سے زیادہ تحائف ڈونلڈ ٹرمپ نے وصول کیے۔ انہیں مجموعی طور پر 23 تحائف ملے، جن کی مالیت 52626 ڈالرز ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان میں سے کوئی بھی تحفہ اپنے پاس نہیں رکھا بلکہ تمام تحائف نیشنل آرکائیوز اور ریکارڈز ایڈمنسٹریشن (نارا) امریکا کو دے دیئے۔ 

موصول ہونے والے تمام تحائف میں سے صرف پانچ وصول کنندہ نے اپنے پاس رکھے باقی ماندہ تحائف نارا یا دیگر سرکاری محکموں کے پاس جمع کرادیئے گئے۔ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 2019 میں ریشم کے قالین کا تحفہ دیا، جس کی قیمت 3000 ڈالرز تھی۔ یہ واحد تحفہ تھا جو امریکا نے پاکستان کی جانب سے وصول کیا۔ 

جب کہ بھارت کی جانب سے دو تحفے امریکا کو ملے ان میں ایک مجسمہ تھا جس کی مالیت 970 ڈالرز تھی اور یہ تحفہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا گیا تھا، جب کہ دوسرا تحفہ شمع ۔دان کا تھا جس کی مالیت 650 ڈالرز تھی اور یہ تحفہ جارڈ کشنر کو دیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 میں امریکی حکومت کو ملنے والے مہنگے تحائف قطر، کویت، یو اے ای، افغانستان، سعودی عرب، ازبکستان، بحرین، آذربائیجان، لیبیا، مصر وغیرہ سے موصول ہوئے۔ 

گو کہ زیادہ تر تحائف کی قیمتیں 1000 ڈالرز سے کم تھی لیکن عرب ممالک سے ملنے والے تحائف کی قیمت 20000 ڈالرز تک تھی۔ اشرف غنی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہاتھ سے بنا ہوا قالین تحفے میں دیا تھا، جب کہ مائیک پومپیو کو تانبے کا پیالہ اور ٹرے تحفے میں دی تھی، جس کی مالیت 10000 ڈالرز تھی۔ 

ازبکستان کے صدر نے دو قالین تحفے میں دیئے تھے جس کی مالیت 20000 ڈالرز سے زائد تھی۔ مصر کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی تصویر فریم کرکے دی تھی جس کی مالیت 5000 ڈالرز سے زائد تھی۔ اسی طرح امیر قطر نے بھی ہزاروں ڈالرز مالیت کا مجمسہ ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دیا تھا۔ 

جب کہ بحرین کے نائب وزیراعظم کی جانب سے دیئے گئے تحفے کی مالیت 7200 ڈالرز کے قریب تھی۔ سی آئی اے ایجنٹوں کو بھی جو تحائف ملے، انہیں بھی ظاہر کیا گیا لیکن دستاویز میں تحائف دینے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ ان تحائف میں زیادہ تر گھڑیاں تھیں جس کی مالیت 10000 ڈالرز کے قریب تھی۔ 

دو ایجنٹوں کو نقد رقم بھی تحفے میں ملی جو انہوں نے ظاہر کی، جس کی مالیت 30000 ڈالرز کے قریب تھی۔ اسی طرح فوجی افسران، بشمول چیف آف اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل مارک اے ملی اور جنرل جوزف ایم ووٹل نے بھی موصول ہونے والے تحائف ظاہر کیے۔

اہم خبریں سے مزید