• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواز شریف حقیقی شیر ہوتے تو آج ملک میں ہوتے، عثمان ڈار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک “ میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے کہا ہے کہ شیر کا انتخابی نشان ہونے سے بھی کوئی شیر نہیں بنتا نوا زشریف حقیقی شیر ہوتے تو آج اس ملک میں ہوتےرہنما ن لیگ محمد زبیر نے کہا کہ حساس معاملے کو سب سے پہلے وزیراعظم کو سمجھنا چاہئے کہ اس کو ہینڈل کیسے کیا جاتا ہے، رہنماپیپلز پارٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نےکہا کہ ملک میں مہنگائی، بیروزگاری ہے عوام اس وقت سخت تنگ ہیں، رہنما پی ٹی آئی عثمان ڈار نے کہا کہ اگر میں جنرل باجوہ کی بات کروں تو وہ بھی ایک ادارے کے چیف ہیں ان کا بھی ایک نکتہ تھااس نکتے کی نظر میں جو بھی ایک چیز سامنے آتی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم ہیں وہ بھی چیف ایگزیکٹو ہیں ان کا بھی ایک نکتہ تھا۔جب ایک ملاقات ہوئی اور اس میں دونوں درمیانی راستے پر متفق ہوتے ہیں اور جیسا آپ نے فرمایاکہ نوٹیفکیشن کی طرف بات جارہی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔جو خطے میں صورتحال چل رہی ہے ہمیں اس موضوع کو اتنا کھینچنے کی ضرورت نہیں تھی خاص طور پر جس طرح کا پروپیگنڈہ اپوزیشن نے کیا ۔ملک کے دشمن خواہش رکھ سکتے ہیں کہ یہ ساری صورتحال یہ غلط طرف جائے اور صورتحال خراب ہو۔نہ ہم نے آج تک سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو جو سیاست کا حصہ نہیں ہیں آج تک تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ خاتون اول کے بارے میں عدالتوں سے نا اہل کس طرح کی باتیں کررہی ہیں۔ن لیگ والے آج ہمارے آرمی چیف کے تقدس ، ڈی جی آئی ایس آئی کی باتیں کررہے ہیں۔ چند دنوں بات یہ پھر وہی کریں گے جو یہ کرتے آرہے ہیں پھر یہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔ شیر کا انتخابی نشان ہونے سے بھی کوئی شیر نہیں بنتا نوا زشریف حقیقی شیر ہوتے تو آج اس ملک میں ہوتے۔ رہنما ن لیگ محمد زبیر نے کہا کہ حساس معاملہ سب سے پہلے تو وزیراعظم کو سمجھنا چاہئے کہ اس کو ہینڈل کیسے کیا جاتا ہے ۔ جب نوٹیفکیشن آیا تو وزیراعظم پر دباؤ کہاں سے آیاکوئی کابینہ کا وزیر نہیں کہہ رہا کہ ہم نے دباؤ ڈالا تھا۔بائیڈن تو ویسے ہی فون نہیں کرتے نہ امریکا کی طرف سے دباؤ کہ آ پ نے تسلیم نہیں کرنا۔تو پھر کس کی طرف سے پریشر تھایہ بہت حساس معاملہ ہے وزیراعظم آفس کو ضرور وضاحت کرنی چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید