| |
Home Page
پیر 28 ذیقعدہ 1438ھ 21 اگست 2017ء
حذیفہ رحمٰن
June 30, 2016 | 12:00 am
انصاف ڈھونڈتے ہوراہزنوں کے دیس میں

Insaaf Dhondte Ho Rahzanoo Ke Dess Mae

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب برطانیہ اور جرمنی کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری تھی اورلگ رہا تھا کہ برطانیہ جلد یہ جنگ ہار جائے گا۔اسی جنگ کے دوران برطانیہ اور جرمنی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ،جس میں طے پایا تھا کہ جرمنی برطانیہ کی دو قدیم جامعات اوکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنائے گا ۔جس کے جواب میں برطانوی و اتحادی افواج بھی جرمنی کی دو قدیم تعلیمی درسگاہوں کو نشانہ نہیں بنائیں گی۔جب یہ معاہدہ طے پایا اور جرمن افواج نے اس کی پاسداری کرتے ہوئے پورے برطانیہ پر بمباری کی مگر اوکسفورڈ اور کیمبرج کو نشانہ نہیں بنایاتو برطانیہ کے سر ونسٹن چرچل نے اپنا دفتر کیمبرج یونیورسٹی کے ایک کمرے میںشفٹ کرلیا ،تاکہ محفوظ طریقے سے پوری جنگ کی کمان کی جاسکے۔حال ہی میں برطانیہ گیا ہوا تھا تو کیمبرج یونیورسٹی کے اس کمرے میں بھی جانے کا اتفاق ہوا جہاں ونسٹن چرچل نے دوسری جنگ عظیم کے دوران قیام کیا تھا۔آج بھی چرچل کا مشہور سگار،کتابیں ودیگر اشیاء کمرے میں ویسے ہی پڑی ہیں جیسے ابھی چرچل آئیں گے اور انہیں استعمال کرنا شروع کردیں گے۔تازہ ہوا کے جھونکے ابھی بھی کمرے کے در و دیوار کو چیرتے ہوئے ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف جارہے ہوتے ہیں۔70سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کمرے کی فضاؤں میں سگار کی مہک ایسے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے،جیسے ابھی کسی نے سگار بجھایا ہو۔شاید اسی وجہ سے رومٹ جولیو کا چرچل سگار دنیا بھر میں مشہور ہے۔بہرحال بات کہاں سے کہا ں نکل گئی ۔مورخ لکھتے ہیں کہ ایک صبح سر ونسٹن چرچل گہری نیند سورہے تھے کہ ان کا ایک سینئر فوجی افسر دوڑتا ہوا آیااور چلاتے ہوئے کہنے لگا کہ سر،جرمن فوجیں ہمارے سر پر پہنچ گئی ہیں اور کسی بھی وقت برطانیہ کو نیست و نابود کریں گی۔یہ سن کر ونسٹن چرچل اطمینان سے بولے اور کہنے لگے کہ کیا ہمارے ملک میں عدالتیں کام کررہی ہیں،جواب دیا گیا کہ جی ہاں عدالتیں کام کررہی ہیں ۔چرچل نے پھر پوچھا کہ عوام کو عدالتوں سے انصاف مل رہا ہے۔اسی فوجی افسر نے کہا کہ جی ہاں عوام کو بھرپور انصا ف دیا جارہا ہے۔یہ سن کر ونسٹن چرچل مسکرائے اور کہنے لگے کہ جب تک برطانیہ میں عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں ،ہمیں کوئی جنگ میں ہرانہیںسکتا۔یہ چرچل جیسے شخص کا انصاف پر یقین تھا۔اور ایک ہمارا ملک ہے۔جہاں پر صوبے کے چیف جسٹس کے بیٹے کو دن دیہاڑے اغوا کرلیا جاتا ہے اور ملک کا قانون سارادن سویا رہتا ہے۔رات کی تاریکی میں ایسے وقت میں ملک کا کمزور قانون جاگتا ہے جب اغواکار چیف جسٹس کے بیٹے کو لے کر کسی ایسے مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں جہاں قانون دوربین لگا کر بھی اغوا کاروں تک نہیں پہنچ سکتا۔جس صوبے کے چیف جسٹس کے بیٹے کو ہی اغوا کرلیا جائے ،بھلا وہاں پر ججز کیسے بلا خو ف و خطر انصاف فراہم کرسکتے ہیں۔جس ملک میں یہ صورتحال ہوگی وہاں پر واقعی عدل و انصاف کے معیار بدل جاتے ہیں۔حضرت علی ؓ کا یہ مقولہ ہے کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگرظلم و ناانصافی کی حکومت نہیں چل سکتی۔گزشتہ کئی دنوں سے طے کیا ہوا تھا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواپر حقائق قارئین کے گوش گزار کروں گا مگر امجد صابری مرحوم اور یکے بعد دیگرے مختلف واقعات نے عوام اور ارباب و اختیار کی اس معاملے سے توجہ ہی ہٹادی تھی ۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کا دن کی روشنی میں "پرامن"کراچی کی اہم شاہراہ سے اغواء ہوجانا کسی اچھنبے سے کم نہیں ہے۔چند روز قبل ایک دوست انتہائی جذباتی انداز میں کہنے لگے کہ شاہ صاحب تو وزیراعظم نوازشریف کے دوسرے دور حکومت میں سخت فیصلے دینے کی وجہ سے مقبول ہوئے تھے،میں موصوف دوست کی بات سن کر مسکراتا رہا۔انہیں کیا بتاتا کہ وہ سپریم کور ٹ کے چیف جسٹس (ر)سجاد علی شاہ تھے۔جنہیں ریٹائر ہوئے بھی کئی سال ہوچکے ہیں اور یہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ ہیں۔جنہوں نے ابھی ترقی پاکر سپریم کورٹ آف پاکستان میں جانا ہے۔لیکن تمام واقعات سے قطع نظر آج پاکستان میں قانون بے بس دکھائی دے رہا ہے۔کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ صوبے کا قاضی اپنے بیٹے کی بازیابی کے لئے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکتا ہو۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کے اغوا کے دوسرے دن معروف قوال امجد صابری کا قتل سمجھ سے بالا تر ہے۔کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ امجد صابری کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا۔اس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ایک مقبول شخصیت تھی اور ان کے قتل کا مقصد چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواکی خبر کو مدھم کرنا تھا۔ذاتی طو ر پر میں اس طرح کی تھیوریوں پر یقین نہیں کرتا ۔لیکن اگر حقائق دیکھے جائیں تو بات تو درست ہے کہ امجد صابری مرحوم کے قتل کے بعد کئی دن تک چیف جسٹس کے بیٹے کا تذکرہ بھی نہیں کیا جارہا تھا۔ظاہری حالات بتاتے ہیں کہ کراچی میں ہونے والے اوپرتلے کے واقعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔تاریخ دان جب بھی تاریخ لکھے گاتو ملک میں ہونے والے موجود واقعات کا کھل کر تذکرہ کرے گا۔میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ جو کوئی بھی یہ سب کچھ کررہا ہے وہ پاکستان کا مخلص نہیں ہوسکتا۔سر عام الزام لگائے جارہے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب کے بیٹے کو فلاں سیاسی جماعت یا فلاں شخص نے اغوا کرایا ہے۔بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی شخص یا ادارے پر ایسا سنگین الزام لگانا انتہائی غیر مناسب ہے۔کسی بھی جماعت یا ادار ے پر ذاتی اختلاف کی بنا پر ایسا الزام لگانا ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہوگا۔البتہ اب یہ اغوا کے سلسلے تھمنے چاہئیں،وگرنہ سابق گورنر،سابق وزیراعظم اور اب موجود چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کے اغوا کے بعد معاملہ کہیں اور چلا جائے گا۔اگر ہم نے اس سلسلے کو چلنے دیا تو پھر اس ملک میں کسی بزنس مین،بیوروکریٹ یا دیگر اداروں کے سربراہان کےبچے محفوظ نہیں ہونگے۔سمجھ نہیں آتی کہ یہ ہم کیسی روایات متعارف کرارہے ہیں۔قائد کے پاکستان کے ساتھ جو سلوک ہم کررہے ہیں،شاید کبھی قائد نے اس کا تصور بھی نہ کیا ہو۔
آج ملک میں جمہوریت کی مضبوطی،سویلین بالادستی اور اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام ریاستی مشینری چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کی رہائی کے لئے موثر اقدامات کرے۔جدید ٹیکنالوجی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہتر استعداد کار کرنے کے دعوے تقاضا کرتے ہیں کہ صوبائی قاضی کے بیٹے کو بحفاظت بازیا ب کراکر ناقدین کے منہ پر طمانچہ مارا جائے۔اگر چیف جسٹس کے بیٹے کو بازیاب نہ کرایا تو نقصان کسی اور کا نہیں ہوگا بلکہ ملکی اداروں کا بہت بڑا نقصان ہوجائے گا۔عوام کا آپ پر سے اعتماد اٹھ جائے گا اور یہ سلسلہ ایسا چلے گا کہ ہر گلی کوچے میںاغوا عام ہوجائیں گے۔بہتر ہوگا کہ نہ صرف اس سلسلے کو روکا جائے بلکہ اس کے پیچھے پس پردہ شخصیات کو بھی عوام کے سامنے لاکر نشان عبرت بنایا جائے ،جو کہ شاید کبھی نہیں ہوگا بہرحال جاتے جاتے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو اتنا ضرور کہوں گاانصاف ڈھونڈتے ہو راہزنوں کے دیس میں۔۔۔۔