| |
Home Page
جمعرات 24 ذیقعدہ 1438ھ 17 اگست 2017ء
اداریہ
October 21, 2016 | 12:00 am
ہم کہاں جارہے ہیں؟

Hum Kaha Ja Rahay Hein

ملک کو درپیش بیرونی چیلنجوں، اندرونی مسائل اور سیاسی چپقلشوں سے متعلق مباحث اس صورت میں یقیناً مفید ہوسکتے ہیں جب معاملات کا پورے اخلاص، دیانتداری اور خود احتسابی کے جذبے سے جائزہ لیا جائے اور خامیوں کو دور کرنے اور خوبیوں کو خوب تر بنانے کا جذبہ کارفرما ہو۔ یہ مکالمےمسائل و معاملات کے انفرادی پہلوئوں کی گہرائی تک اترنے کے لئے جتنے مفید ہیں اتنی ہی اہمیت خارجی و داخلی امور کے طائرانہ اجتماعی جائزے کو بھی حاصل ہے۔ کیونکہ اسی طرح یہ درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کس مقام پر ہیں، سفر کی سمت اور رفتار کیا ہے اور ہمیں کیا کچھ مزید کرنا ہے؟ یہ اجتماعی جائزہ اس لئے بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ریاست کی توجہ کسی ایک یا چند پہلوئوں تک اس طرح محدود نہ رہے کہ دوسرے ضروری امور نظر سے اوجھل ہوجائیں۔ قومی مالیاتی وسائل کی تقسیم، آبی وسائل کے انتظام ، صوبوں کے صوبوں اور وفاق سے تعلقات و روابط کے ادارے اسی لئے بنائے جاتے ہیں کہ معاملات کے مخصوص پہلو بھی سامنے رہیں اور اجتماعی نقشے کو بھی مدنظر رکھ کر اہم نوعیت کے فیصلے کئے جاسکیں۔ وطن عزیز میں پچھلے عشروں کے دوران پالیسیوں میں ایسے جھول نمایاں رہے کہ زراعت پر توجہ دی گئی تو صنعت کے بعض پہلو نظر انداز ہوگئے۔ مواصلاتی سہولتیں مرکز نگاہ بنیں تو بجلی، تعلیم اور صحت کے معاملات پوری توجہ نہ پاسکے۔ بڑے زمینداروں اور صنعتکاروں کو سہولتیں دی گئیں تو غریب مزدوروں، کسانوں، ملازمت پیشہ لوگوں، بیروزگار افراد، ضعیفوں، بیوائوں اور یتیموں کو جی ایس ٹی سمیت ان بالواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا جنہیں ماہرین معیشت استحصال کے بدترین صورت قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک دہشت گردی سمیت قومی سلامتی کے پہلو کا تعلق ہے۔ یہ بات تسلی بخش ہے کہ وطن عزیز چند برس قبل نظر آنے والی سنگین صورتحال سے بڑی حد تک باہر نکل آیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور ’’آپریشن خیبر‘‘ سمیت مسلح افواج کی کامیاب کارروائیوں اور قربانیوں کا نتیجہ بے گھر ہونے والے محب وطن قبائل کی اپنے علاقوں میں واپسی اور آباد کاری کی صورت میں نظر آرہا ہے۔دنیا ایک طرف اس حیرت انگیز کامیابی سے بہت کچھ سیکھنا چاہتی ہے تو دوسری طرف دشمن ملک بوکھلاہٹ میں اپنی پرانی عادت کے مطابق پٹھان کوٹ اور ’’اوڑی‘‘ جیسے خودساختہ ڈراموں کے ذریعے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش میں خود تنہا ہورہا ہے۔ امریکہ، روس اور چین سمیت متعدد ملکوں کے ساتھ پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقیں، ’’برکس‘‘ کانفرنس کے اعلامیے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی بھارتی کوششوں کی روس اور چین کے ہاتھوں ناکامی، پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی بھارتی پٹیشن کا پہلے امریکہ کی طرف سے اور بعدازاں برطانیہ کی طرف سے دہشت گردی روکنے کی پاکستانی کوشش کے اعتراف کے ساتھ مسترد کیا جانا اور بدھ کے روز برطانوی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل نکولس پیٹرک کامیران شاہ کے دورے کے بعد دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے کردار کو قابل ستائش قرار دینا یقیناً کچھ معنی رکھتا ہے۔ معاشی پہلو کو دیکھیں تو اعداد و شمار جتنے بھی خوش نما ہوں کرپشن کے عفریت پر قابو پانے میں غفلت اور بیرونی قرضوں کے بڑھتے ہوئے دبائو کی صورت حال نادانستہ طور پر ہی سہی ، ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے میںمعاون بن رہی ہے۔ آنے والی کئی نسلوں کے گلوں میں پڑنے والے 6127ارب روپے (57.8ارب ڈالر) کے اندرونی و بیرونی قرضوں کا پہلا پڑائو زرعی، صنعتی، سماجی بہبود، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے ہونا چاہئیں تھے۔ ان میں اگر کوئی بہتری آئی ہے تو عام آدمی نے تاحال محسوس نہیں کی۔ سیاسی چپقلش ہر جمہوری معاشرے میں نظر آتی ہے مگر قومی چیلنجوں کے موقع پر انہیں نظرانداز کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ بہت سے شعبوں میں تاریخ کا ارتقائی عمل سیاسی کوششوں کے ساتھ مل کر جو بہتری لارہا ہے اس پر پورے شعور کے ساتھ مزید توجہ دی جائے تو درخشاں نتائج جلد سامنے لائے جاسکتے ہیں۔

.