| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
کشور ناہید
October 21, 2016 | 12:00 am
کہ خوشی سے مرنہ جاتے۔۔۔!

Khushi Say Maar Na Jein

پچھلے کالم میں، میں نے اس سال کو رحلتوں کے حوالے سے منحوس سال لکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ تلمیح پسند نہیں آئی۔ انہوں نے میری جھولی میں بہت سی خوشیاں ڈال دیں۔ غیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے قانون جو سیدہ عابدہ حسین کی بیٹی سیدہ صغریٰ امام نے 2011میں جمع کرائے تھے جن کو بعد میں سینیٹ میں فرحت اللہ بابر مسلسل آگے بڑھانے اور پاس کروانے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر کو سات سالوں کے بعد، جوائنٹ سیشن میں پاس ہوگئے اور ان پر عملدرآمد کے لئے شدید قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔ ابھی قصاص کا قانون اسی طرح رہنے دیا گیا ہے۔ خدا کرے کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس ان قوانین پر عملدرآمد پر بے ایمانی اور کوتاہی نہ کریں۔ اس قانون کی وضاحت میں یہ بھی درج ہونا چاہئے کہ جو بالغ لڑکے، لڑکیاں، اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہیں، ان میں سے کسی کو غیرت کے نام پر قتل نہ کیا جائے۔ اسی طرح خاندانی دشمنی اور رنجشوں کو بہانہ بناکر لڑکی کے ساتھ زنا بالجبر نہ کیا جائے۔ سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اکثر لڑکے زیادتی کرکے غائب ہوجاتے ہیں۔ اس عالم میں DNA ٹیسٹ کیسے ہوگا۔ اس کی سزا بھی باقاعدہ وضاحت سے تحریر ہونی چاہئے کہ جو لوگ دشمنی میں عورت کے ساتھ جسمانی زیادتی کرنے کے بعد اس کو پورے گائوں میں برہنہ گھماتے ہیں۔ ان کو فوری شدید سزا دینی چاہئے۔ ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں بھی ان موضوعات پر کبھی فلمیں دکھائی جانی چاہئیں، کبھی گفتگو ہو، کبھی ڈرامے دکھائے جائیں اور نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ کیا جائے کہ لڑکے لڑکیوں، دونوں میں شعور، پختہ ہو۔ اس طرح وہ ہماری دوسری صف بنیں گے جو اخلاقی ملزموں کو سزا دلوانے میں مددگار ثابت ہونگے۔ آیئے اب دوسری خوشی مناتے ہوئے آپ کو بھی شریک کروں۔ خاور ممتاز کو دوبارہ ویمن کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے کہ پچھلے برس جون میں حسب ِ سابق یہ پروپوزل وزیراعظم سیکرٹریٹ بھیج دی گئی تھی۔ خاور کو یکم جنوری سے فارغ کردیا گیا تھا۔ گزشتہ دس مہینوں سے سیٹ خالی پڑی تھی۔ ایسی خالی کہ دفتر میں ایک پیسہ، ایک کاغذ اور ایک شخص کو بھی تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ کبھی کہا گیا پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہورہی، کبھی کہا گیا وزیر اعظم لندن میں بیمار ہیں۔ ہر چند فواد حسین فواد، ان کے ساتھ، دفتری لازمی امور نمٹا رہے ہیں، کسی نے کہا اس کمیشن کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ان تمام لغویات کے باوجود، روز اسمبلی اور سینیٹ میں یہ سوال اٹھتا رہا۔ جہاں اور بہت سے سوالوں کو درگزر کیا جاتا ہے، اس کو بھی بے معنی سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا رہا۔ آخر خدا خدا کرکے، تہمینہ دولتانہ کو جوش چڑھا، اس نے کمیٹی کی میٹنگ کی، فیصلہ کیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ فائل واپس کب آتی ہے۔ کبھی کبھی فائل واپس آتی ہے تو نام ہی بدلا ہوتا ہے۔ دیکھتے ہیں فواد حسین فواد، جو کہ سنا ہے شاعر بھی ہیں، مقطع میں سخن گستر انہ بات نہ ڈالدیں اور عورتیں بھی سکھ کا سانس لیں اور کچھ کام کرسکیں کہ اگلا سال پاکستان کے ستر سال مکمل ہونے کی خوشگواری چاہتا ہے۔ خداکرے بی جے پی کو بھی عقل آئے کہ دوستی کو دشمنی اور محبت کو نفرت میں نہ بدلے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ادیب اور فنکار قربتیں چاہتے ہیں۔ اب آیئے تیسری خوشی یہ کہ حوصلہ کرکے حکومتِ پاکستان نے مذہب کے نام پر1979سے کھل کھیل کر معصوم لوگوں کو مارنا، اور جو دہشت گردی کو فروغ دے رہے تھے کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بی بی بے نظیر بھی ان پر ہاتھ نہ ڈال سکیں بلکہ ان کا شکار ہوگئیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ کاغذی فیصلہ ثابت نہیں ہوگا کہ دہشت گردوں کے اڈے زیر زمین چلے جائیں اور اپنے کرتوت جاری رکھیں۔ امید ہے اب وکیلوں، دانشوروں اور ڈاکٹروں کو سڑک پر چلتے ہوئے مارا نہ جائیگا۔ مرید کے سے بہاولپور تک پھیلے یہ بعض مرکز بالکل اس طرح مسمار کردئیے جائیں گے جیسے ایم کیو ایم کے دفاتر کئے گئے ہیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کے پی تو ستر کروڑ ایک مدرسے کو دے رہی ہے اور سب چپ ہیں۔
اب آیئے پانچویں اور چوتھی خوشی اکٹھے ہی کرلیتے ہیں۔ دلّی یونیورسٹی میں تو پہلے ہی میری کتابیں انگریزی میں پڑھائی جارہی تھیں۔ اب حیدر آباد دکن والوں کی بھی نظموں پر نظر پڑی اور کورس میں شامل کرنے کی اجازت مانگی۔ اسی طرح پیرس یونیورسٹی میں نوجوان بچیوں نے نظمیں فرانسیسی میں ترجمہ کرکے کتاب بنائی ہے اور رخشندہ جلیل، ادب میں محبتیں بڑھانے کے لئے میری نظمیں انگریزی میں ترجمہ کررہی ہیں۔ یہ ہے اصلی انڈیا جو کبیرؔ اور غالب دونوں سے پیار کرتا ہے جو میرا اور سیتا کو خواتین کی شعوری رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ انڈیا جہاں علامہ اقبال کی نظم سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ،قومی نظم کے طور پر سارے اسکولوں میں گائی جاتی ہے۔ اے انڈیا والو! تمہاری مٹی میں مغلوں، راجپوتوں اور گرونانک کے علاوہ سارے صوفیا کی تہذیب ہے۔ چنگیز خان مت بنو، گاندھی جی کی طرح امن پھیلائو۔


.