| |
Home Page
جمعہ 25 ذیقعدہ 1438ھ 18 اگست 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
وزیراعظم کو نوٹس کسی کی کامیابی یا شکست نہیں بیرسٹر علی ظفر

Todays Print

کراچی(جنگ نیوز) سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کوا سلام آباد لانے اور فوج کو ملوث کرنے کی باتیں  ریاست کے خلاف ہیں،  وزراء اور عمران خان کو خود پر قابو رکھ کر بات کرنی چاہئے، سپریم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی ، سپریم کورٹ کے وزیراعظم کو نوٹس کو کسی کی کامیابی یا شکست قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی،وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ اور ماہرقانون سلمان اکرم راجہ بھی شریک تھے۔عارف علوی نے کہا کہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنا سپریم کورٹ کا کا م نہیں ہے، تحقیقات کی ذمہ داری حکومتی اداروں کی تھی جو انہوں نے نہیں نبھائی، پی ٹی آئی پر کالعدم تنظیموں سے مدد مانگنے کا الزام پاناما پیپرز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، دو نومبر کو اسلام آباد بند ہوگا مگر سپریم کورٹ کی کارروائی کے اعتبار سے معاملہ کھلا رہے گا۔عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ عمران خان کو اسلام آباد بند کرنے میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں ہے،عمران خان پر کسی نے فوج کو لانے کا الزام نہیں لگایا،پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام میں کوئی خرابی نہیں ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی میں الفاظ کی جنگ افسوسناک ہے، ٹی آئی نے اگر اسلام آباد کو مفلوج کردیا تو ادارے اور سپریم کورٹ حرکت میں آئے گی۔بیرسٹر علی ظفر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم کو نوٹس کسی کی شکست یا کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی ہے، عدالت اس پٹیشن پر خود تحقیقات کروانے کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے، عدالت کے وزیراعظم کو نوٹس جاری کرنے پر عمران خان کو سیاسی تحریک ختم کرنے کا کہنا قبل از وقت ہوگا، وزیراعظم نواز شریف کو اس کیس میں خود عدالت میں پیش نہیں ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں سیاستدانوں کو تحمل سے بات کرنی چاہئے، کالعدم تنظیموں کوا سلام آباد لانے اور فوج کو ملوث کرنے کی باتیں پاکستان کی ریاست کے خلاف ہیں، حکومتی وزیر اور عمران خان کی طرف سے بہت بڑے بیانات آئے ہیں، انہیں عوام کے سامنے خود پر قابو رکھ کر بات کرنی چاہئے، اس قسم کی بات ہمارے ملک، قومی سلامتی، فوج اور لوگوں کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہوتی ہے، سیاستدان بے شک ایک دوسرے سے لڑیں لیکن جب ملک کی بات آئے تو ساتھ کھڑے ہوجائیں اور باہر سے آنے والے ملک مخالف پراپیگنڈے کو کاؤنٹر کریں، ہمارے لئے اس وقت کسی کی حکومت نہیں ملک اہم ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قانونی اور سیاسی عمل دو مختلف چیزیں ہیں، قانونی عمل کی وجہ سے سیاسی عمل کو روکا جانا ضروری نہیں ہے، سپریم کورٹ نے ابھی صرف وزیراعظم کو نوٹس جاری کیا ہے، عمران خان نے اگر سڑکوں پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے تو اس وقت کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے اس آئینی حق کو چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی میں الفاظ کی جنگ افسوسناک ہے، دونوں طرف سے احتیاط نہیں برتی جارہی ہے، عمران خان کی طرف سے فوج کا ذکر کرنا باعث حیرت تھا، پی ٹی آئی نے اگر اسلام آباد کو مفلوج کردیا تو ادارے اور سپریم کورٹ حرکت میں آئے گی۔عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس کا مقصد پاناما لیکس کی تحقیقات کرنا تھا، تحریک انصاف کو کیس صحیح ہونے کا سوفیصد یقین ہے، ان کے کیس کی صداقت کو سپریم کورٹ نے مان لیا ہے، رجسٹرار نے پہلے جب کیس مسترد کیا تو چیف جسٹس سے پوچھ کر ہی کیا ہوگا، عمران خان کو اسلام آباد بند کرنے میں کسی بھی سیاسی جماعت اوروکلاء کی حمایت حاصل نہیں ہے،عمران خان پر کسی نے فوج کو لانے کا الزام نہیں لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں کرپشن ہوتی تو نو ہزار امیدواروں میں سے صرف دو سو امیدور پاس نہیں ہوتے، پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام میں خرابی نہیں ہے، اصل خرابی ہمارے تعلیمی اسٹینڈرڈرز ،تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں لوگوں کی عدم دلچسپی ہے، کسی زمانے میں بہترین لوگ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیتے تھے لیکن آج کل لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ٹیکنیکل شعبہ جات میں جارہے ہیں، ایف پی ایس سی کے چیئرمین کی بی اے میں تھرڈ ڈویژن کوئی مسئلہ نہیں ہے، دنیا میں تھرڈ ڈویژن حاصل کرنے والوں نے نوبل انعام حاصل کیے ہیں۔عارف علوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج سپریم کورٹ کے خلاف نہیں ہے، ہمیں جمہوریت کا درس دینے والے ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ کرچکے ہیں، پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنا سپریم کورٹ کا کا م نہیں ہے، پاناما لیکس کی تحقیقات کی ذمہ داری حکومتی اداروں کی تھی جو انہوں نے نہیں نبھائی، حکومت تصادم کے موڈ میں نظر آرہی ہے کہ جو مرضی آئے کرلو پاناما لیکس کی تحقیقات نہیں ہوں گی، وزیراعظم کی طرف سے اثاثے چھپانے کا معاملہ بہت خراب ہے، سپریم کورٹ اس سے چھوٹی باتوں پر رکن اسمبلی کو ڈی سیٹ کرچکی ہے، نیب کی شق نائین فائیو واضح طور پر کہتی ہے کہ جس شخص کے اثاثے ہوں گے وہ اسے اپنے ذرائع آمدنی سے جوڑ کر دکھائے گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اب تک عدالت کے سارے فیصلوں کو تسلیم کیا ہے، پی ٹی آئی پر کالعدم تنظیموں سے مدد مانگنے کا الزام پاناما پیپرز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، شکر ہے حکومتی وزراء نے یہ نہیں کہا کہ ہم ’را‘ سے پیسے لے رہے ہیں، وزیراعظم نواز شریف کو پاناما پیپرز کا معاملہ ذاتی طور پر لڑناچاہئے، الزامات نواز شریف پر ہیں تو حکومت کیوں ان کا دفاع کررہی ہے، حکومتی وزراء منہ کھول کر نہیں بول پارہے لیکن مسلسل کہہ رہے ہیں عمران خان کسی کے اشارے پرا حتجاج کررہے ہیں۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ حکومت کرپشن کے علاوہ کچھ نہیں کررہی ہے، سپریم کورٹ نے خود بھی حکومت پر کرپشن کا الزام لگایا کہ مس گورننس اور بادشاہت کی کیفیت ہے، دو نومبر کو اسلام آباد بند ہوگا مگر سپریم کورٹ کی کارروائی کے اعتبار سے معاملہ کھلا رہے گا، ہم اسلام آباد اور سیکریٹریٹ کے علاقہ کو بند کریں گے، گورننس کے کام کو بند کریں گے مگر ایمرجنسی اور اسپتالوں کے حوالے سے عوام کو تکلیف نہیں دیں گے۔