| |
Home Page
ہفتہ 30 محرم الحرام 1439ھ 21 اکتوبر 2017ء
March 21, 2017 | 12:00 am
کرکٹرزکیخلاف ایف آئی اے فی الحال اپنی انکوائری روک دے،نجم سیٹھی

Todays Print

کراچی(ٹی وی رپورٹ)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پی سی بی نے ایف آئی اے کو کرکٹرز کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کیلئے کوئی خط نہیں لکھا، پی سی بی نے ایف آئی اے کو خط کھلاڑیوں کے موبائل فونز کے ڈیٹا کی تصدیق کیلئے لکھا ہے، ایف آئی اے کو کرکٹرز کیخلاف انکوائری کیلئے پی سی بی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، پی سی بی اور آئی سی سی کے قانون کے تحت اسپاٹ فکسنگ یا میچ فکسنگ کیخلاف کارروائی بورڈ کرتا ہے،اگر کوئی اور ادارہ انکوائری کرتا ہے تو پی سی بی کیلئے آئی سی سی میں مسئلہ بن سکتا ہے، اگر پی سی بی اور ایف آئی اے کی انکوائریز کا نتیجہ مختلف آیا تو پاکستان کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا، ایف آئی اے کے سربراہ سے درخواست ہے کہ فی الحال اپنی انکوائری روک دیں اور پی سی بی کو انکوائری مکمل کرنے دیں۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”آپس کی بات“ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔ اسپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرزکیخلاف کارروائی کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی نے ایف آئی اے کو ان کرکٹرز کیخلاف انکوائری یا تحقیقات شروع کرنے کیلئے کوئی خط نہیں لکھا ہے، اگر ایف آئی اے کے پاس ایسا خط ہے تو دکھادیا جائے، پی سی بی ان کرکٹرز کیخلاف انکوائری کررہی ہے ہمارا موقف ہے کہ یہ ساری انکوائری ہماری ہے، پی سی بی اور آئی سی سی کے قانون کے تحت اسپاٹ فکسنگ یا میچ فکسنگ کیخلاف کارروائی بورڈ کرتا ہے، ایف آئی اے کو کرکٹرز کیخلاف انکوائری کیلئے پی سی بی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، ایف آئی اے اگر کوئی اڑتی اڑتی بات بھی سن لے تو قانون کے مطابق اسے کارروائی کی اجازت ہے۔ نجم سیٹھی نے بتایا کہ پی سی بی نے ایف آئی اے کو کھلاڑیوں کے موبائل فونز کے ڈیٹا کی تصدیق کیلئے ایک خط ضرور لکھا ہے تاکہ اسے ٹریبونل کے سامنے پیش کیا جاسکے، کھلاڑیوں کیخلاف کیس آگے بڑھانے کیلئے ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہے، اگر ہمیں کیس مضبوط کرنے کیلئے ثبوت جمع کرنے میں دیر ہوجائے تو کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے، قانون کے مطابق کھلاڑیوں کو دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا،اگر کوئی کھلاڑی ہمارے سوالات کا جواب نہیں دیتا تو پی سی بی اور آئی سی سی قوانین کے مطابق اسی مرحلہ پر اسے سزا دی جاسکتی ہے۔نجم سیٹھی نے مزید بتایا کہ کھلاڑیوں سے کی گئی تمام بات چیت کیمرے پر ریکارڈ کی گئی ہے، کھلاڑیوں نے کھل کر ہمارے سوالات کے جواب دیئے ہیں، کھلاڑیوں کو چارج شیٹ دیدی گئی ہے، قانون کے مطابق انہیں جواب دینے کیلئے چودہ دن دیئے، اگر کھلاڑی اپنا قصور مار لیتے ہیں تو فوراً سزا دی جاسکتی ہے لیکن اگر نہیں مانتے تو انہیں ٹریبونل کے سامنے بھیجا جائے گا، کھلاڑیوں نے اپنا قصور نہیں مانا اس لئے ہمیں ٹریبونل بنانا پڑا ہے، ٹریبونل میں سابق چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیاء، سابق کرکٹر وسیم باری اور ایک ریٹائرڈ جج شامل کیا گیا ہے، ٹریبونل چوبیس تاریخ کو ابتدائی سماعت کرے گا جس میں پی سی بی اور کھلاڑیوں کو الزامات اور جوابات پیش کرنے کا حکم دیا جائے گا،پی سی بی ٹریبونل کی کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اگر ایف آئی اے بھی اسی دوران انکوائری شروع کردیتا ہے تو یہ مناسب نہیں ہوگا،آئی سی سی رولز کے مطابق انکوائری پی سی بی کو کرنی ہے،اگر کوئی اور ادارہ انکوائری کرتا ہے تو پی سی بی کیلئے آئی سی سی میں مسئلہ بن سکتا ہے، اگر پی سی بی اور ایف آئی اے کی انکوائریز کا نتیجہ مختلف آیا تو پاکستان کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا، ایف آئی اے کے سربراہ سے درخواست ہے کہ فی الحال اپنی انکوائری روک دیں اور پی سی بی کو انکوائری مکمل کرنے دیں، پی سی بی جب انکوائری مکمل کرلے گا تو تمام چیزیں ایف آئی اے کو دیدے گا اس وقت اگر ایف آئی اے چاہے تو کارروائی کرسکتا ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی اپنا کام طریقہ کار کے تحت کرے گا اور کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونے دے گا۔