• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہماری تمام(genetic information) ہمارے جین میں محفوظ ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹے سے خوردبینی ہار کا تصور کریں جس میں چار رنگوں کی تین بلین موتیاں پروئی ہوئی ہیں(دراصل چار اقسام کے سالمے ہیں جن کو نیوکلیک ایسڈکہا جاتا ہے )۔ ان کی ترتیب ہماری تمام خصوصیات، قد ، رنگ، آنکھوں کا رنگ ، ہمارے دل اور دماغ کی ساخت کا تعین کرتی ہے ۔ان موتیوں کی ترتیب کو جینیاتی کوڈ کہا جاتا ہے ۔انسانوں میں پہلی دفعہ یہ کوڈ 2007 میں پروفیسر جم واٹسن کا معلوم کیا گیا تھا۔ اس میں کئی لاکھ ڈالر کا خرچ آیا تھا اور اس کو مکمل کرنے میں دو سال لگ گئے تھے ۔ اب اس کام کے لئے تیز رفتار مشینیں آگئی ہیں جن کی مدد سے یہ کام صرف دو ماہ کے اندرمحض چالیس ہزار ڈالر سے ہوجاتاہے ۔
اس حوالے سے امپیریل کالج ، لندن کے سائنس دانوں نے ایک نئی پیش رفت کی ہے ۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی مائکرو چپ تیار کی ہے (صرف 50نینو میٹر طویل) جس کے درمیان میں ایک سوراخ کیا گیاہے ، جب سالمیاتی ہاراس انفرادی نیوکلک ایسڈ سے گزارا جاتا ہے تو برقی رومیں آنے والی تبدیلیوں سے اس کی خصوصیات کی شناخت کر لی جاتی ہے۔ اس کی رفتار حیران کن حد تک تیز ہے ، ایک پورے جینوم کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پڑھ لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس کی رفتار ایک کروڑ سالمےفی سیکنڈ ہے جو کہ اس سے قبل اختیار کئے گئے طریقوں سے حیران کن حد تک زیادہ تیز رفتار ہے ۔
ہم بوڑھے کیسے ہوتے ہیں ؟کیا ہم بوڑھے ہونے کے عمل کو سست کرکے زندگی کے دورانیہ کو بڑھا سکتے ہیں ؟یہ وہ سوالات ہیں جو طویل عرصے سے طبی اور حیاتی کیمیا دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے آرہے ہیں۔ بڑی عمر کے افراد میں 50سے 70بلین خلئے روزانہ مرجاتے ہیں ،ہر خلئے میں موجود عمل یعنی خلیاتی موت کی وجہ سے ہوتا ہے8سے 14سال کے بچوں میں 20 سے 30ارب خلئے روزانہ ہلاک ہوجاتے ہیں اور اتنے ہی نئے بن جاتے ہیں ایک سال کے اندران کی مقدار بچے کے جسم کے وزن کے برابر ہوجاتی ہے۔واقعی حیرت انگیز ہے!سائنس دان اس اشارے (سگنل) کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں جو خلئے کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ اب تقسیم کے ذریعے بڑھنے کا عمل روک دو اور ہلاک ہوجاؤ ۔ اس عمل میں مداخلت کے ذریعے خلیوں کو زیادہ لمبے عرصےزندہ رکھاجا سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے زندگی کا دورانیہ بڑھ جائے گا اس حوالے سے طبی دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو عمررسیدگی کے عمل میں مداخلت کرکے طویل اور صحت مند زندگی کو ممکن بنا سکیں گی۔
زندگی بڑھنے کے عمل کی ایک اوروجہ ہمارے DNAپرUVروشنی اور دوسرے اقسام کے شعاعی اخراج سے ہونے والے نقصانات ہیں ، یہ ڈی این اے میں ساختی نقص پیدا کردیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ڈی این اے کے نقصان زدہ حصوں کی بعض خامروں (Enzymes) کی مدد سے مرمت کی جاسکتی ہے۔ تاہم جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے مرمت کا عمل غیر مؤثر ہوتا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹوٹے پھوٹے ڈی این اے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو آخر کار بڑھاپے اور موت کا باعث بن جاتے ہیں۔ آکسیجن جو ہماری زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہے اپنی متعامل شکل (آکسیجن ریڈیکل) میں عمر رسیدگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے یہ ہمارے DNA کو نقصان پہنچا کر عمر رسیدگی کے عمل کو تیزکرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض (ضد تکسیدی عمل) جو کہ سرخ انگوروں اور بعض سبزیوں میں پائے جاتے ہیں ہمارے لئےبہتر سمجھے جاتے ہیں۔سائنس نے بہتر طبی نگہداشت کے ذریعے دنیا کے اکثر خطوں میں زندگی کے دورانیہ کو سو سال تک بڑھا دیا ہے تاہم یورپ، چین، کوریا وغیرہ میں بوڑھے لوگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پیدائش کی شرح میں کمی کی وجہ سے نوجوان آبادی میں کمی پریشانی کا سبب ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے تخلیقی کارکنان کا قحط واقع ہورہا ہے اور صحت کے نظام پر اخراجات کی وجہ سے مالیاتی بوجھ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔
جینیاتی طور پر انسان اور بندر تقریباً یکساں ہیں۔ انسانی جنیو م کو بنانے والے تین ارب حروف میں سے 2.985ارب ایک جیسے ہیں ان کا فرق صرف ایک فیصد جنیوم کا بنتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بندر ظاہری شکل ،ذہانت، بولنے کی صلاحیت سے محرومی یا ہاتھوں کی بناوٹ وغیرہ کے لحاظ سے ہم سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ اکثر جینیاتی تبدیلیاں عمومی نوعیت کی ہیں مگر بعض سلسلے بہت اہم ہیں ۔ DN کاایک اور سلسلہ ہمیں الفاظ تشکیل دینے، نشاستہ ہضم کرنے اور سنجیدہ آلات کے استعمال میں اپنے ہاتھ اور انگلیوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
بعض جین ہمارے جارحانہ مزاج کے ذمہ دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے سوا کوئی دوسرا جانور اپنے ہم نسلوں کو ہلاک نہیں کرتا۔ ہماری تاریخ میں موجود جنگیں اس بات کاثبو ت ہیں۔ انسانی جنیوم کی پیچیدگی کے سلجھنے اور جنیوم کے ان حصوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد جو کہ غصے ، یا جارحانہ مزاج میں حصہ دار ہوتے ہیں جارحیت پیداکرنے والے جین کے افعال کابند کرنا ممکن ہوگیا ہے جس سے انسان زیادہ انسانی خوبیوں کا حامل ہو جائے گا۔
بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جارحیت پسند ہوتے ہیں۔ اس کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ اس قسم کے رجحان انھیں مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب لے جاتے ہیں۔ یہی حال جانوروں کا ہے کہ بعض جانور اپنی اندرونی خصوصیات کی وجہ سے گھریلو طور پر سدھائے نہیں جاسکتے۔ ان جانوروں میں بھیڑیا، لومڑی، لنگور، زیبرا، چیتا، گینڈا، افریقی بھینس اور دوسرے جانور شامل ہیں۔
1970 میں روس میں ادارہ برائے علم الخلویات اور جینیات میں ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا۔چوہوں کے دو گروپ ایک کے بعد دوسری نسل سے لے کر جارحانہ اور سدھانے والی خصوصیات کے حوالے سے علیحدہ کئے گئے ۔اس قسم کے بار بار دہرائے جانے والے انتخاب کے 30سال گزرنے کے بعد دونوں گروہوں نے حیران کن مختلف رویوں کا اظہار کیا۔ سدھانے والے گروپ نے سدھائے جانے کی انتہائی صلاحیت کا اظہار کیا جب کہ جن کی جارحانہ مزاج کے حوالے سے نشو و نما کی گئی تھی وہ انتہائی جنگلی اور غضب ناک ثابت ہوئے اس سے یہ بالکل واضح ہو تا ہے کہ اس کے ذمہ دار بعض جین ہیں۔
20مئی 2010 میں سائنس کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا جب کریگ وینٹر اور اس کے ساتھیوں نے پہلے مصنوعی ،خود سے نقش ثانی بنانے والے جراثیمی خلیے کی پیدائش کا اعلان کیا اس انکشاف نے زندگی کی نوعیت کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھائے۔یہ حیران کن پیش رفت صنعتی انقلاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے زیادہ اہم ہے۔ پہلا مصنوعی خلیہ بنانے کے بعد جس کو مکمل طور پر مصنوعی جنیوم سے کنٹرول کیا گیا ہے سائنس دانوں کو ا مید ہو چلی ہے کہ وہ اس طریقہ کار کو استعمال کرکے جراثیمی خلیے بنالیں گے اور اس طرح بائیو فیول ،ادویات سازی اور دوسرے کار آمد کیمیاوی مواد تیار کرسکیں گے۔
ایک مصنوعی خلئے کی تیاری کے لئے سائنس دانوں نے در حقیقت کیا کیا ؟ کیا کوئی بھی قدرتی ڈی این اے استعمال نہیں ہوا ؟جس ڈی این اے کی تالیف کرنا تھی اس کا ڈیزائن کمپیوٹر کے ذریعے تیار کیا گیااوربنیادی تعمیری یونٹس کو کامیابی سے ایک خلیے میں جمع کیا گیا جو کہ لمبائی میں لاکھوں یونٹس (نیوکلیک ایسڈ)پر مشتمل تھے۔ جب اس کو ایک بیکٹیریا کے خالی خلئےمیں داخل کیا گیا تو مصنوعی جسم نےجراثیمی خلیے کا کنٹرول حاصل کرلیااور پھر نقش ثانی کے عمل کے ذریعے اس خلیے کی کروڑوں نقول تیار ہو گئیں دوبارہ بننے کے عمل کی صلاحیت زندہ اجسام میں انتہائی حساس طریقہ کار ہے۔
ہمارے لئے یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ہم صرف شکل تبدیل کرسکتےہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم کاغذ کا کوئی ٹکڑا جلاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بننے والی راکھ ،کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دوسری گیسوں میں تبدیل ہوجاتی ہےاور ان سب کا اگر وزن کیا جائے تو ان کا مجموعی وزن کاغذ کے اصل وزن کے برابر ہوگا۔ ہم اس صورت میں صرف کاغذ کی شکل کو راکھ اور گیسوں میں تبدیل کر پاتے ہیںبالکل اسی طرح کاغذ کی تیاری کا عمل بھی صرف اسی صورت میں ہوسکتاہے جب لکڑی کا گودا اور دوسرے اجزا کاغذ میں تبدیل کرنے کے لئے موجود ہوں۔
اب سوال یہ کئے جا رہے ہیں کہ یہ کام ہمیں نئے جانوروں اور پودوں کی تیاری سے کہاں تک لے کر جائے گا ؟کیا ہم ایسے عفریت تیار کرنے جارہے ہیں جو ہمیں یا انسانیت کو تباہ کردیں گے یا پھر مصنوعی حیاتی اجسام کی تیاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جو انسانیت کو بالکل نئے انداز سے فائدہ پہنچائے گا؟ مصنوعی حیاتیات کی ترقی ہماری آنے والی زندگیوں پر لا متناہی اثرات مرتب کرنے کا باعث ہوگی۔

.
تازہ ترین