| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
امریکہ نے طوطا چشمی کی ہے، پاکستان تحریک آزادی کشمیر کیلئے دنیا میں اپنی لابی مضبوط کرے، کمیونٹی رہنما

Todays Print

گلاسگو (طاہر انعام شیخ) سکاٹ لینڈ کی پاکستانی کمیونٹی نےبھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورہ امریکہ سے متعلق کہا ہے کہ مودی کے دورے کے وقت امریکہ کی طرف سے حزب المجاہدین کے سربراہ سیدصلاح الدین کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے سے جو تصویر ابھری اس سے واقعات کے رخ کا اندازہ ہورہا تھا۔ نریندر مودی کے ہاتھ گجرات کے دوہزار بے گناہ مسلمانوں کے ہاتھ سے رنگے ہوئے ہیں اور خود امریکہ نے اسے ویزہ دینے پر پابندی عائد کررکھی تھی اب اس کو غیرمعمولی طور پر وائٹ ہائوس میں دعوت دی گئی اور اس کے بعد ٹرمپ اور مودی نے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اس سے واضح طور پر پاکستان دشمنی جھلکتی ہے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی تمام قربانیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے پھر طوطا چشمی کا ثبوت دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ امریکہ نریندرمودی پر زور دیتا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم بند کرے، وہاں پیلٹ گن سے لوگوں کو اندھا کرنے کی مذمت کرتا اور گائے کا گوشت کھانے پر 2010کے بعد جو مسلمانوں کو شہید کیا گیا ہے اس کی طرف بھارتی وزیراعظم کی توجہ دلاتا اس نے الٹا پاکستان کومورد الزام ٹھہرایا ہے۔ پاکستان فورم سکاٹ لینڈ کے چیئرمین بیلی کونسلر حنیف راجہ نے کہا کہ امریکی حکومت نے کشمیر کی جنگ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو جس طریقے سے دہشت گرد قرار دیا ہے یہ مکمل طور پر غلط اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی راہ میں رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہے جس کے خطے کے امن اور جمہوریت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو چاہیئے کہ وہ اپنی لابی کو مضبوط کرے اور دنیا کی تمام امن پسند اور انصاف پسند قوتوں کے ذریعے بھارت پر کشمیر میں استصواب رائے کرانے کے لئے دبائو ڈالے پاکستان یوکے فرینڈشپ کے چیئرمین ملک غلام ربانی ایم بی ای نے کہا کہ اس مشترکہ اعلامیے میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی ہے ۔ امریکہ نے بھارت کو جو ڈرون طیارے دیئے ہیں اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن سکاٹ لینڈکے صدر مرزا امین نے کہا کہ 37ممالک میں کی گئی تازہ ترین ریسرچ کے مطابق امریکی صدر کو وہاں خطرناک، غیرذمہ دار اور مفرور شخصیت قرار دیا گیا ہے اور اسرائیل، روس کے علاوہ باقی ہر جگہ وہ نہایت غیرمقبول ہے۔ کونسلر شاہد فاروق نے کہا کہ ٹرمپ ایک کاروباری شخص ہے اس نے بھارت کو چند ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کیلئے اسے خوش کیا ہے عملی طور پر امریکی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو اس طرح تنہا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ ممتاز سماجی رہنما اشرف شیخ نے کہا کہ مودی اور ٹرمپ دونوں اسلاموفوبیا کا شکار ہیں ۔ امریکہ پر ایک ایسا شخص قابض ہوگیا ہے جس کی ذہنی استعداد کا ہرکسی کو علم ہے چنانچہ دنیا کو ان جیسے اشخاص کی حرکات سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام اچھے لوگ دوسری طرف متحد ہوجائیں۔ ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت چوہدری محمد رمضان نے کہا کہ موجودہ زمانہ تجارتی مفادات اور جنگ کا ہے۔ بھارت کی تجارت امریکہ کے ساتھ پاکستان کے مقابلے میں 5گنا زیادہ ہے۔ امریکہ اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں یورپ ، روس اور چین سے تعلقات مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نیز ہم اپنے وسائل اسلحہ پر لگانے کے بجائے تجارت کو بڑھانے اور عوام کو سہولیات مہیا کرنے پر صرف کریں۔ پیپلزپارٹی سکاٹ لینڈ کے سابق صدر سیدخورشید بخاری نے کہا کہ اس وقت پاکستان اپنی تاریخ کی ناکام ترین خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے ہمارا کوئی وزیرخارجہ تک نہیں تو ایسی صورت میں اس طرح کے نتائج نکلتے ہیں جب پہ در پہ ناکامیاں ہمارا مقدربن رہی ہیں۔ ممتاز سماجی شخصیت خورشید انورخان نے کہا کہ نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کی پالیسیاں تو نسلی اقلیتوں اور مسلمانوں کے لئے شروع ہی سے الارمنگ رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ میں گزشتہ 20سال سے وائٹ ہائوس میں ہونے والی افطار اور عید پارٹیوں تک کو ختم کردیا ہے۔ نوجوان رہنما سید ناصر جعفری نے کہا کہ نریندر مودی کی پالیسیاں نہ صرف اندرون بھارت مسلمانوں کے خلاف ہیں بلکہ وہ خطے کے امن کے لئے بھی نہایت خطرناک ہیں اور اب امریکہ کی طرف سے اس کو شہہ ملنے سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اگر ٹرمپ اور مودی کا مشترکہ اعلامیہ حقیقی طور پر امریکی پالیسی کی عکاسی کرتاہے تو اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اس کو تنہا کرنے کی کوششیں کسی کے حق میں نہیں ہوں گی۔ ایڈنبرا کے معروف رہنما راجہ عابد نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 50ہزار سے زیادہ افرادکی جانوں کی قربانی دی ہے اور70ارب سے زیادہ کا نقصان اٹھایا ہے۔ امریکہ کی تھوپی ہوئی افغان جنگ سے پاکستان میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کا آغاز ہوا اور اب امریکہ پاکستان کے مخالف ملک بھارت کے ساتھ مل کر اس کی زبان بول رہا ہے۔ گلاسگو کی مقبول عوامی شخصیت فریداحمد انصاری نے کہا کہ پاکستانیوں کو اپنے دیرینہ دوست امریکہ کے لئے ہر دور میں خطرات مول لئے اور قربانیاں دیں پاکستان کے متعلق ایسے مشترکہ اعلامیے اور رویئے کی ہرگز توقع نہ تھی۔ اب پاکستان کی وزارت خارجہ کو بڑی دوراندیشی سے کام لے کر مستقبل کی پالیسیاں طے کرنا ہوں گی۔