| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
منصور آفاق
November 15, 2017 | 12:00 am
مقابلہ سخت ہے

Muqabala Sakht Hai

جب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تھا، جب نواز شریف سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئیے گئے تھے تو کسی طرح کا کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا۔ الٹا مٹھائیاں تقسیم ہوئی تھیں۔ اُس وقت نواز شریف کے کسی نادیدہ ہمدرد نے کہا تھا کہ ’’نواز شریف کو سیاست کے بے مہر کوفیوں نے چھوڑ دیا ہے اور وہ سیاست کے کربلا میں تن و تنہا کھڑے ہیں‘‘۔ اس جملے میں اتنی کاٹ تھی کہ میرے اندر کا پتھر بھی پگھل کر آنکھوں میں سمٹ آیا تھا۔ میں اُس محترمہ بے نظیر بھٹو کے اشارہ ِ ابرو کو ملک و قوم کی نجات کا راستہ سمجھتا تھا اس کے باوجود مجھے کربلائے وقت میں ظلم اور جبر کے سامنے جسم کے نیزے پر نواز شریف کا سر نظر آرہا تھا۔ مجھے اُس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کی یہ بات پسند نہیں آئی کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی بغاوت کو غلط قرار نہیں دیا بلکہ کسی حد تک حمایت کی تھی۔ نواز شریف کے تقریباً 80فیصد ساتھی بھی پرویز مشرف کے لشکر میں شامل ہو گئے تھے۔ انہی میں سے جب ایک شخص نے اپنے پیشرو کے سامنے ضمیر کی بات کی ہے اور کہا کہ نواز شریف کے ساتھ بے وفائی میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے تو جواب آیا ۔’’کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ‘‘ اُس وقت میں نے سوچا تھا کہ یہ کوفی سچائی کی ہر آواز کو کربلا تک پہنچا کر اکیلا کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں زندان ِ سنگ زاد میں آنے والوں کو پہلا سبق یہی دیا جاتا ہے کہ وفا نام ہی نادانیوں کا ہے؟ اورمیرے کان میں سرگوشی ہوئی تھی۔ کسی نے کہا کہ نواز شریف کی خوش قسمتی پر رشک کرو کہ انہوں نے اتنی کم مدت میں اہل کوفہ کے اصل چہروں کو پہچان لیا ہے۔ ابھی اُن کی سیاست میں وہ روشنائی موجود ہے جو صبح کی زرتار کرنوں کو افق پر لکھنا جانتی ہے۔ یہ شخص مقدر کا اسکندر ہے۔ دیکھنا پھر اقتدار میں آ جائے گا۔ وہ شخص واقعی مقدر کا اسکندر ثابت ہوا۔ اسے تیسری بار پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر ایک عجیب و غریب حیرت ہوئی تھی کہ اُنہوں نے پھر اپنے ارد گرد وہی کوفی جمع کر لئے تھے جو اسے بارہ اکتوبر کی سیاہی میں اکیلا چھوڑ گئے تھے۔ پرویز مشرف کے انہی ساتھیوں کو نہ صرف ساتھ ملا لیا گیا تھا بلکہ چودہ وزارتیں بھی عطا کر دی گئیں۔ چوالیس ایم این ایز ایسے نون لیگ میں اس وقت بھی موجود ہیں جو پرویز مشرف کے بھی ساتھی تھے یعنی جو جو پچھلی بار چھوڑ کر گئے تھے انہیں چُن چُن کر گلے لگا لیا گیا اور جنہوں نے ساتھ دیا تھا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں، انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ باغی کے لقب سے مشہور ہونے والے جاوید ہاشمی کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا کہ اس نے پی ٹی آئی میں جائے پناہ لی۔ غوث علی شاہ کی قربانیوں کا انہیں جو صلہ ملا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ وہی غوث علی شاہ ہیں جن کے متعلق جلاوطنی کے دنوں میں نواز شریف فرمایا کرتے تھے۔ ’’سید غوث علی شاہ میرے اور آپ کے لیڈر اور قائد ہیں۔‘‘ سردار ذوالفقار علی کھوسہ کی قربانیاں اور جدوجہد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور ان کے ساتھ ہونے والا سلوک سب کے سامنے ہے۔ کہتے ہیں جس ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کئے جاتے ہیں اسے سنبھال کر نہیں رکھا جاتا۔ شاید کچھ لوگوں کی حیثیت ٹشو پیپر جیسی تھی۔ نواز شریف کے قرب و جوار میں ایسوں کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے جن میں جنرل ضیاء الحق، جنرل جیلانی، محمد خان جونیجو، میاں اظہر، فدا محمد خان اور سردار عبدالرحیم جیسے نام بھی موجود ہیں۔ اس لمبی تمہید کا مقصد صرف اتنا ہے کہ گزشتہ روز نون لیگ کے اجلاس میں جب اس بات پر غور کیا گیا کہ آنے والے دنوں میں کون کون نون لیگ کو چھوڑ کر جانے والا ہے تو 84 ایم این ایز اور ایک 105ایم پی ایز کی فہرست مرتب ہوئی۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو دوران ِ اقتدار نون لیگ کی لیڈرشپ کو دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت کے خاتمہ کے بعد اِس فہرست میں کس کس نام کا اضافہ ہوگا، میں ان کے متعلق سوچ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہوں۔ اسی بات سے اندازہ لگالیں کہ اس فہرست میں لیڈر شپ نے چوہدری نثار علی خان کا نام بھی شامل نہیں کیا۔ ان ارکان کے نون لیگ چھوڑنے پر لیڈرشپ کو اتنا پختہ یقین ہےکہ جن ارکانِ اسمبلی کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ان میں یہ 84ایم این ایز اور105 ایم پی ایز شامل نہیں کئے گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ تمام لوگ بے وفا ہیں یا یہ لوگ اس بات کو جان چکے ہیں کہ نواز شریف کے پاس وفاداری کی کوئی اہمیت نہیں۔
اس صورتحال میں نوازشریف کے پاس صرف ایک راہ ہے اور وہ راہ مفاہمتی آرڈیننس سے نکلتی ہے۔ اس مقصد کیلئے سعودی عرب اگرچہ پہلے کی طرح گرم جوش نہیں مگر اس کی کوشش سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دبئی بھی اس سلسلے میں نوازشریف کی حمایت کررہا ہے مگر دونوں ممالک کی خواہش صرف اتنی ہے کہ ان کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہیں قید و بند کی صعوبتیں نہیں برداشت کرنا چاہئیں۔ ایک عجیب و غریب افواہ بھی سننے کو مل رہی ہے کہ نوازشریف قبل از وقت انتخابات پر راضی ہیں مگر شہباز شریف نے اس بات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ شاید نواز شریف کا خیال ہے کہ حکومت کا دورانیہ جتنا زیادہ ہوتا جائے گا نون لیگ پر سیکنڈ لیڈرشپ کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی جائے گی اور وہ کمزور ہوتے جائینگے۔ ان کیخلاف جو مقدمات چل رہے ہیں ان کے فیصلے ان کی سیاسی ساکھ کو اور زیادہ نقصان پہنچا چکے ہوؒں گے۔ اگرچہ نواز شریف نے نون لیگ کی انتخابی مہم کا ابھی سے آغاز کردیا ہے۔ عمران خان اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی کچھ عرصہ پہلے کرچکے ہیں اور وہ اس بات پر یقین بھی رکھتے ہیں کہ فوری طور پر انتخابات ہونے والے ہیں۔ شہباز شریف کی طرح پیپلزپارٹی بھی فوری انتخابات کے حق میں نہیں ہے۔ بلاول بھٹو نے لاہور آکر کہا ہے کہ عمران خان کو الیکشن کیلئے کس چیز کی جلدی ہے اور اُس کی بظاہر وجہ تو پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ یقیناً دونوں اپنی حکومتوں کا دورانیہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں اپنے نامکمل پروجیکٹس مکمل کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ نئے انتخابات سے پہلے پہلے پنجاب میں بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو چکی ہے۔مقابلہ سخت ہے۔