| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
January 14, 2018 | 12:00 am
نئے وزیراعلیٰ کو ن لیگ کے 7ارکان نے سپورٹ کیا،عبدالقادر بلوچ

Todays Print

نئے وزیراعلیٰ کو ن لیگ کے 7ارکان نے سپورٹ کیا،عبدالقادر بلوچ

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان میں جمہوریت کا تسلسل جاری ہے،صوبے میں ہماری پارٹی کی حکومت نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، نئے وزیراعلیٰ کو ن لیگ کے سات ارکان نے سپورٹ کیا، اس سب کا مقصد ثناء اللہ زہری کو باہر نکالنا تھا، بلوچستان میں ق لیگ، ن لیگ، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا اتحاد تھا، بلوچستان میں جے یوا ٓئی ایف اور پشتونخواہ میپ ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے، ن لیگ کی اعلیٰ سطح پر پشتونخوا میپ کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جے یو آئی کو وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والوں میں نہیں ہونا چاہئے تھا۔عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بہت افسوس اور شرمندگی ہوتی ہے کہ ن لیگ ایک پارٹی کا نام ہے لیکن بدقسمتی سے ہم ان لوگوں پر مشتمل تھے جو ماضی میں مختلف چراگاہوں میں چرتے رہے ہیں، تکنیکی طور پر بلوچستان میں ن لیگ اب بھی موجود ہے، فی الحال ن لیگ کے ارکان نے پارٹی تبدیل نہیں کی ہے،دو سال فاٹا اصلاحات کیلئے جے یو آئی کو مناتے رہے،اس دوران کسی صورت بل روکتے رہے، کل بھی مولانا فضل الرحمٰن کے کچھ تحفظات دور کئے۔سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ابتداء سے ہی بلوچستان میں اپوزیشن میں ہے، بلوچستان میں ن لیگ کیلئے ہماری پارٹی شجرممنوعہ بنی رہی، بلوچستان میں ن لیگ کی اتحادی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کو اتحاد کا حصہ بنانے سے انکار کردیا تھا، ثناء اللہ زہری کو جے یو آئی سے نہیں اپنوں سے مار پڑی، ن لیگ کے ارکان ثناء اللہ زہری کے استعفے سے پہلے ان پر کرپشن اور غلط ترجیحات کے الزامات لگاتے تھے، بلوچستان میں ن لیگ کا کوئی منحرف رکن وزیراعظم سے ملنے کیلئے تیار نہیں ہوا، وزیراعظم نے انٹرویو میں بتایا کہ انہیں ارکان اسمبلی نے بتایا کہ ان پر انٹیلی جنس اداروں کا دبائو تھا، اگر یہ بات درست ہے تو وزیراعظم ان اداروں کے سربراہان کیخلاف کارروائی کریں۔ پروگرام میں سماجی کارکن حنا جیلانی،سابق وفاقی وزیر اطلاعات جاوید جبار اور تجزیہ کارریحام خان نے بھی اظہار خیال کیا۔سماجی کارکن حنا جیلانی نے کہا کہ قصور واقعہ سے بچوں کے استحصال سے متعلق معاشرے کی آگاہی کی بات شروع ہوگئی ہے، یہ معاملہ لوگوں کی توجہ کا مرکز ضرور بنا ہے مگر کیا زیادہ دیر تک بنا رہے گا، 2015ء میں بھی قصور شہر میں ہی چائلڈپورنوگرافی کے معاملہ پر بھی شور مچا تھا مگر کچھ دن بعد سب بھول بھال گئے، ریاست کو شور مچنے پر نہیں بلکہ جرم ہوتے ہی کارروائی شروع کردینی چاہئے،جرم سے پہلے لوگوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، زینب قتل کیس میں مجرم کی گرفتاری میں تاخیر پولیس کی نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے ہے، پولیس کو پہلے ہی سنجیدگی سے تحقیقات شروع کردینی چاہئے تھی۔