| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
February 10, 2018 | 12:00 am
دبئی میں پاکستانیوں کی 800 ارب روپے کی جائیدادیں، نیب کو ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ

Todays Print

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے دبئی سمیت بیرون ممالک میں پاکستانیوں کی جانب سے اربوں ڈالر کی غیر قانونی سرمایہ کاری پر کاروائی کیلئے نیب کو ریفرنس بھیجنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا،کمیٹی نے سیکور ٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آ ف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے انسائیڈر ٹریڈنگ کی روک تھام کے حوالے سے کارکردگی پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کیا جبکہ کمیٹی نے رئیل اسٹیٹ( پراپرٹی) کی رجسٹر یشن کے حوالے سے مسائل کے حل کیلئے میاں عبدالمنان کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی، اجلاس میں دبئی میں پاکستانیوں کی جانب سے اربوں روپے کی غیر قانونی سرمایہ کاری کے معاملہ پر ذیلی کمیٹی کے رپورٹ پیش کردی گئی جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے کہا کہ حکومت کے پاس دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں غیر قانونی طور پر سرمایہ کاری کے حوالے سے مستند سرکاری فہرست موجود نہیں ہے، غیر سرکاری فہرستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اسد عمر نے کہا کہ جان بوجھ کر معاملہ کو چھپایا جا رہا ہے، نیب اینٹی منی لانڈرنگ کے قانون کے تحت کارروائی کر سکتا ہے، ایف بی آر اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکے پاس یہ فہرست پہلے سے موجود تھی لیکن اجلاسوں میں جھوٹ بولا گیا، ایف آئی اے اور ایف بی آر جان بوجھ کر معلومات کو چھپا رہے ہیں،ایف آئی اے نے کاروائی سے انکار کیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں نیشنل بینک ملازمین اور افسران کی خلاف ضابطہ ترقیوں کے حوالے سے معاملہ پر غور کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نیشنل بینک میں ملازمین کی ترقیوں کے عمل کے دوران آخری وقت پر معیار میں تبدیلی کی گئی، جس سے کئی ملازمین ترقی کے عمل سے باہر ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ نے کہا کہ اس معاملہ پر تحقیق مکمل کرلی ہے، رپورٹ کمیٹی کو فراہم کرینگے، کمیٹی رپورٹ کو نیشنل بینک کے بورڈ کو بھیجے اور ترقیوں کے عمل میں خامیوں اور سفارشات پر عملدرآمد کی ہدایات کی جائیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ معاملہ پر اسٹیٹ بینک کی رپورٹ ملنے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔