Mubashir Ali Zaidi - ایوریج…… - column - 2016-06-30
| |
Home Page
بدھ 03 شوال المکرم 1438ھ 28 جون 2017ء
مبشر علی زیدی
June 30, 2016 | 12:00 am
ایوریج……

Average

فرشتے نے مجھے مرغا بنایا اور چھترول شروع کردی۔
چار سو تک تو میں نے گنا، پھر بے ہوش ہوگیا۔
فرشتہ کرنٹ مار کے مجھے ہوش میں لایا۔
میرا حال خراب تھا۔
بہت دیر تک سانس ہی نہیں آیا۔
بڑی مشکل سے طبیعت سنبھلی۔
بولنے کے قابل ہوا تو شکایت کی،
’’میں ڈکیت یا بھتا خور نہیں، بجلی کمپنی کا ڈائریکٹر تھا۔
میرا جرم زیادہ سے زیادہ سو جوتے یومیہ کا ہے۔
اتنی زیادہ چھترول کیوں کررہے ہو؟‘‘
فرشتے نے کندھے اچکائے،
’’جہنم کی اس کالونی کے تمام میٹر خراب ہیں۔
یہاں سب کو ایوریج پر جوتے مارے جاتے ہیں۔‘‘