ناظم جوکھیو کا موبائل اور کپڑے مل گئے

November 14, 2021

ملیر کے علاقے میمن گوٹھ میں شکار کرنے والے غیر ملکی مہمانوں کی ویڈیو بنانے کے جرم میں قتل کیے گئے سماجی کارکن ناظم جوکھیو کا موبائل فون پولیس نے کنویں سے برآمد کرلیا ہے

تفتیشی حکام کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور تفتیشی ٹیم نے جیو نیوز کی ٹیم کی موجودگی میں کنویں سے مقتول کے کپڑے اور موبائل فون نکال لیا ہے۔

پولیس کی تفتیشی ٹیم کرین لے کر ملیر میں واقع کنویں پر پہنچی جو کافی عرصے سے پانی نہ ہونے کے سبب بند تھا اور اس میں کچرا جمع تھا۔

کرین کے ذریعے ایک باوردی پولیس اہلکار کو کنویں میں اتارا گیا، پولیس اہلکار نے بیلچے کی مدد سے کچرے سے موبائل تلاش کیا۔

قتل کیس میں گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے ناظم جوکھیو کا موبائل فون اور کپڑے کنویں میں پھینک کر کنویں میں آگ لگائی تھی۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر تفتیشی ٹیم کنویں پر پہنچی اور دونوں چیزیں برآمد کیں، جبکہ ملنے والا موبائل فون کافی حد تک جل چکا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق مقتول کے برآمد کیے گئے کپڑے اور موبائل فارنزک کے لئے پنجاب فارنزک لیبارٹری بھیجے جائیں گے ، لیبارٹری رپورٹ آنے پر تفتیش میں مزید پیش رفت ہوگی۔

واضح رہے کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں گرفتار 2 ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے مقتول کا موبائل میمن گوٹھ میں کئی سال سے خشک 50 سے60 فٹ گہرے کنویں میں پھینک دیا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملیر کے میمن گوٹھ میں واقع اس خشک کنویں میں لوگ کچرا ڈال کر جلاتے ہیں اور غیر معمولی تپش کی وجہ سے کنویں میں موبائل فون نہیں ڈھونڈا جاسکتا تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کو کنویں میں کچرا جلانے سے روک دیا گیا تھا تاکہ کنواں ٹھنڈا ہونے کے بعد اس میں موبائل فون تلاش کیا جائے۔

گزشتہ روز ناظم جوکھیو قتل کیس میں سیشن کورٹ نے نامزد ملزم سلیم ہالار کی عبوری ضمانت منظور کی جبکہ کیس میں نامزد ملزم رکنِ قومی اسمبلی جام عبدالکریم نے بلوچستان ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی ہے تاہم ان کے چھوٹے بھائی ایم پی اے جام اویس پولیس کی حراست میں ہیں۔