سائنس، مسلمان اور اقبال

April 22, 2018
 

21اپریل علامہ اقبال کی وفات کا دن ہے۔ اس دن کے حوالے سے ہمیں کچھ تعلیم کی بات کرنی چاہئے۔
اکانومسٹ رسالے کا ایک شمارہ دیکھنے کے بعد سر کچھ شرم سے جھک سا گیا ہے، یعنی آپ اندازہ کریں کہ صرف ایک یونیورسٹی ہارورڈ میں 2005ء میں جو ریسرچ آرٹیکلز لکھے گئے ان کی تعداد 17عرب مسلمان ملکوں میں لکھے گئے ریسرچ آرٹیکلز سے زیادہ تھی۔ دنیا کے 1.6 بلین تعداد کے مسلمان ملکوں میں صرف ایک نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہیں اور یہ یعنی احمد حسن زویل۔ اب امریکہ کی کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ اس کے مقابلے میں یہودیوں نے 79سائنسدان پیدا کئے ہیں جنہیں نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ کہنے والے تو اسے بھی یہودیوں اور مغرب کی سازش ہی قرار دیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کے اندر موجود 57 ملک اپنی GDPکا صرف 0.81فیصد سائنس کی ریسرچ پر خرچ کرتے ہیں اور یہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ امریکہ میں خرچ کی جانے والی رقم 2.9فیصد اور اسرائیل میں 4.4فیصد ہے۔
مغرب میں رہنے والے اور خود بہت سے مسلمان سائنسدان اس کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ اسلام شاید سائنس سے متصادم ہے۔ اسی وجہ سے آج کل کے مدرسوں میں جو نظام تعلیم رائج ہے وہ بالکل سائنسی بنیادوں پر استوار نہیں کیا گیا۔ یہاں پڑھنے والے لوگوں کے ذہن استدلالی سوچ سے محروم ہیں۔ ایسا برا حال تو 7ویں اور 8ویں صدی میں بھی نہیں تھا۔ عباسی خلفا نےسائنسی تحقیق پر بے پناہ رقم صرف کی اور یہ اسی کی بدولت تھا کہ 11ویں صدی میں نظام کیمیا کے باوا یعنی ابن سینا کا لکھا ہوا نصاب ایک زمانے تک یورپ کی یورنیورسٹیوں اور درس گاہوں میں پڑھایا جاتا رہا۔ 9ویں صدی میں الخوارزمی نے کتاب الجبر لکھی جو الجبرا کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتی ہے۔ ایسے ہی بڑے نام ابن الہیثم اور البیرونی کے ہیں۔
یونان کے سائنسدانوں اور حکما ءسے سیکھ کر مسلمان سائنسدانوں نے سائنس کے اصولوں کو بام عروج تک پہنچا دیا۔ یہ اسی علم کی بدولت ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ ہوئی اور مسلمان حکماء ابن عربی، خوارزمی اور البیرونی جیسے بڑے لوگوں کی بدولت روجر بیکن، فرانسس بیکن، دانتے جیسے حکماء اور بے شمار سائنسدان پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی محنت اور لگن کے باعث ایسی تخلیقات کیں جنہوں نے یورپ اور دوسری دنیا کو علم کی روشنی دی۔ مسلمان سائنسدانوں نے اس وقت تک ترقی کی جب تک ان کے ہاں سائنس کی تحقیق پر کام ہوتا رہا۔ ان کی شکست اس وقت ہوئی جب یورپ سائنسی تحقیق میں ان سے آگے نکل گیا اور جیسے ہی یہ ہوا مسلمان اپنے مفتوحہ علاقوں سے دھکیل دیئے گئے۔ صرف یہی نہیں اگلے کئی سو برس مسلمانوں کے غلامی کے زمانے ہیں۔
یورپ سے سیکھے گئے سائنس کے علوم اور استدلالی نظام کو آگے بڑھانے میں کیا کوئی قباحت ہے؟ حضرت علامہ اپنی کتاب Six Lectures میں اس کا جواب دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام علوم مسلمانوں نے ہی یورپ کو دیئے ہیں سو اگر وہ ان کو واپس لے کر اس میدان میں آگے بڑھتے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے۔ لیکن مسلمانوں کے حالات خاص طور پر بہت سے عرب ملکوں اور پاکستان کے ایسے ہیں کہ جن کی بدولت اکانومسٹ جیسے جریدے یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں حال یہ ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں تین مساجد ہیں اور چوتھی بن رہی ہے لیکن کتابوں کی ایک بھی دکان نہیں ہے۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے سائنسدان اور سائنس کے استاد پرویزہود بھائی کو ایک بڑی یونیورسٹی سے صرف اس لئے فارغ کر دیا جاتا ہے کہ ان کے پڑھانے کے انداز کو بعض مذہبی سوچ کے لوگ اعتراض کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
یورپ، امریکہ اور پھر اب جاپان اور چین کے ساتھ ساتھ انڈیا کی ترقی کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ یقین کر لینا چاہئے کہ ہمیں ہر سطح پر سائنسی علوم کو اور پھر دیگر علوم کو استدلالی سوچ کے ساتھ نہ صرف یہ کہ پڑھنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ بھی کہ ہمیں اس کے لئے انفرادی اور اجتماعی طور پر بے حد محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں جس وقت ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم سیلاب فنڈ کے اربوں روپے حکومتی رہنماؤں کو منتقل کر دیتے ہیں۔ اربوں روپے رشوت ، چوربازاری اور ناقص منصوبوں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ پی آئی اے اور ریلوے جیسے محکمے جہاں حکومتی پارٹیوں کے ورکرز کی سیاسی بھرتیوں نے ان کو اربوں کا مقروض بنا دیا ہے۔ یہاں سائنس کی ترقی کے لئے اور علوم کو بہتر انداز میں پڑھانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
ایسا ہی ایک منصوبہ پنجاب حکومت کا بھی ہے۔ 30ارب روپے بقول حکومت کے اور 70ارب بقول اپوزیشن کے صرف 27کلومیٹر لمبی سڑک پر میٹرو بس منصوبے کے نام پر جھونک دیئے گئے۔ یہ بھی ایسے کہ اس منصوبے کے قابل عمل ہونے اور اس کے دیرپا انداز میں چلتے رہنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ کروڑوں روپے ریسرچ کے نام پر لیپ ٹاپ اسکیموں میں جھونک دیئے جاتے ہیں لیکن اچھے سائنسی بنیاد فراہم کرنے والے منصوبے عنقا ہیں۔ اب کئی سو ارب روپے اورنج لائن کو مکمل کرنے پر لگ رہے ہیں۔
دوسرے صوبوں کے تعلیمی نظام کو دیکھیں تو حال اس سے بھی برا ہے۔ یہاں تک کہ چیف جسٹس کو صوبہ خیبرپختونخوا کےبارے میں کہنا پڑا کہ تعلیم کی صورتحال یہاں بھی بری ہے۔ پرائمری تعلیم ہو یااعلیٰ سب کا حال برا ہے۔ اگر ’’اعلیٰ تعلیم یافتہ‘‘لوگوں سے اقبال کے اشعار کا مطلب پوچھ لیں تو شاید ان کے اورہمارے سر شرم سے جھک جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرویز ہود بھائی ہماری یونیورسٹیوں کو ’’جنک یارڈ‘‘ کہتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں