غزل: گلوں کی بزم سجانا، اُسے پسند نہ تھا

July 08, 2018
 

گلوں کی بزم سجانا، اُسے پسند نہ تھا

کسی کے پیار کو پانا، اُسے پسند نہ تھا

وہ ایک ایک سے ملتا تھا پیارسے، لیکن

ہمیں سے ہاتھ ملانا، اُسے پسند نہ تھا

وہ دِل میں بغض بھی رکھتا تھا، ذہن میں کد بھی

گِلے کو ہونٹ پہ لانا، اُسے پسند نہ تھا

ہمارے نام کو لکھ لکھ کے جو مٹاتا تھا

ہمارے دِل میں سمانا، اُسے پسند نہ تھا

انوکھی بات ہے شہزاد ،لوٹ آیا ہے

اگرچہ لوٹ کے آنا، اُسے پسند نہ تھا

(آصف شہزاد،فیصل آباد)


مکمل خبر پڑھیں