’’مینی کیور‘‘ سے کریں ہاتھوں کی صفائی

August 15, 2018
 

مہرالنساء

عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے چہرے کے حسن و خوبصورتی کے لیے تو کئی گھنٹے صرف کر دیتے ہیں ،لیکن ہاتھوں اور پیروں کی طرف ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہاتھوں اور پیروں کا پھٹنا‘ ایڑیوں کا زخمی ہونا اور چہرے سے پہلے ہاتھوں پر جھریاں پڑنے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ خاص کر’ہاتھ‘ عمر جانچنے کا پیما نہ ہوتے ہیں، شکن آلود، کٹے پھٹے اور جھریوں بھر ے ہاتھ عمر کا راز فاش کر دیتے ہیں بعض اوقات ہاتھ کے اشارے الفاظ کے مقابلے میں اظہار کا زیادہ بہتر انداز ہوتے ہیں ان پر توجہ ضرور مبذول ہوتی ہے۔

اکثر خواتین گھریلو امور بہتر طور پر سرانجام دینے کی وجہ سے خود سے غافل ہوجاتی ہیں۔اگر فرصت مل بھی جائے زیادہ تر خواتین کی توجہ چہرے کے میک اپ اور جلد کی صفائی تک ہی محدود رہتی ہے،جبکہ ہاتھ اگر صاف ستھرے،خوب صورت نہ نظر آئیں توشخصیت پر اچھا اثر نہیں چھوڑتے۔ہاتھوں کی دیکھ بھال آپ کے روز مرہ بیوٹی کے معمول کاحصہ ہونی چاہئے۔ آپ کو اپنے ہاتھوں پر بھی اتنی ہی توجہ دینی چاہئے جتنی کہ آپ اپنے چہرے پر دیتی ہیں۔

سونے سے پہلےاپنے ہاتھ صابن سے دھونے چاہئیں۔ ناخنوں ،کیوٹیکلز اور انگلیوں کے جوڑوں کوآہستہ آہستہ رگڑیں، اس عمل کو اپنے روز کے معمول کا حصہ بنالیں۔ آپ کی جلد ملائم اور ریشم جیسی ہو جائے گی۔اسسے جلد کا رنگ یکساں ہوجاتا ہے ۔ اپنی کہنیوں پرخصوصی توجہ دیں۔ انہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جس کی بناء پر یہ کھردری اور سیاہ ہو جاتی ہیں۔ کہنیوں پر آ دھا لیموں رگڑ لیا کریں تا کہ صاف اور نرم رہیں۔انگلیوں کے ناخن دلکش ہاتھوں کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ ناخنوں کی باقاعدگی سے تراش خراش اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس کے علاوہ ناخنوں کو صحت مند رکھنے کے لئے اچھی غذا بھی ضروری ہے۔ غذا میں کیلشیم کی مناسب مقدار موجود ہونی چاہئے تا کہ ناخن مضبوط رہیں۔اپنی غذا میں دودھ اور ڈیری کی پراڈکٹس، مچھلی اور بینز بھی شامل کریں۔

’مینی کیور‘ کرنے کے لیےمطلوبہ اشیاء کو پیشگی اکٹھا کرلیں ،تا کہ عین وقت پر آپ کو اشیاء ڈھونڈنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ان ہدایات پرعمل کر یں۔ آپ کو صابن کے پانی کا ایک پیالہ درکار ہو گا۔ اس کے ساتھ کاٹن وول اورنج اسٹک،کیوٹیکل کلپرز یا قینچی، نیل پالش ریموور،بیس کوٹ نیل پاش اور سیلر بھی چاہئے ہوں گے۔ مینی کیورشروع کرنے سے قبل اپنے ہاتھوں کو دھولیں اور ناخنوں کو برش سے رگڑ لیں۔ پھر آپ تہ کیا ہوا تولیا لے کر ہاتھ میز پر رکھ کربیٹھ جائیں اور وہ اشیاء جن کی آپ کو ضرورت پڑے گی اپنی دسترس میں رکھیں۔

سب سے پہلے نیل پالش ریموور کی مدد سے پرانی نیل پالش اتار لیں۔ احتیاط کے ساتھ صاف کرلیں ۔کاغذی ریگ مال (ایمیری بورڈ ) کی عمدہ سائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے اور اسےناخن سے 45 درجہ کےزاویے پر تھامتے ہوئے نیچے کی جانب فائلنگ کریں ہر سمت میں صرف کناروں سے درمیان کی جانب عمل کریں تا کہ نیل پلیٹ کی تہ الگ ہونے سے بچی ر ہے۔ ناخنوں کے آزاد کناروں کوا بھی فائل نہ کریں۔ کیونکہ وہاں پر ناخنوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاوٴ کے لئے سہارا درکار ہوتا ہے۔ دھات کی ریتی ( فائلر) استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ ناخنوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

جب آپ ناخنوں کو مطلوبہ شیپ کے مطابق فائل کریں تو لازمی ہے کہ کناروں کو ڈھال دیں۔ ڈھال کا مطلب ناخن کے کناروں کو ملائم کرنا ہے اور اس کے لئے کاغذی ریگ مال کو سیدھا کھڑارکھیں اور ان کے کناروں کو ہلکے ہاتھوں سے اس پر نیچے کی جانب برش کریں۔ اس عمل میں کاغذی ریگ مال کو فائن سائیڈ استعمال میں لائیں اور صرف ایک سمت میں یہ عمل کریں۔ اس سے نیل پلیٹ کی تہوں کو آپس میں سیل ہونے میں مدد ملے گی اور تہیں بننے سے بچاوٴ ہوگا۔

کیوٹیکلز کے اندر تھوڑی سی کیوٹیکل کریم یا ویسلین کی مالش کریں اور ناخنوں کو چند منٹ کے لئے صابن کے نیم گرم پانی بھرے پیالے میں تررکھیں تا کہ کیوٹیکلز نرم ہو جائیں۔ یا پھر ایک تیر سے دو شکار کریں۔ یعنی ایک عمل سے دو فائدے حاصل کریں۔ ناخنوں کو مونگ پھلی کے گرم تیل کے چھوٹے سے پیالے میں تر رکھیں۔

تیل ایک ارزاں کیوٹیکل ر یموور کے طور پر کام کرتا ہے اور یہ ناخنوں کے لئے بھی عمدہ ہے،کیونکہ یہ کیوٹیکل کونرم اور گداز رکھتا ہے۔ ناخنوں کو خشک کر لیں اور ان پر ہینڈ کریم مل لیں۔

کاٹن وول کے ایک گچھے کو اورنج اسٹک کےنوکیلے کنارے پر لپیٹ لیں اور اسے کیوٹیکل ریموور یا تیل میں ڈبولیں۔ کیوٹیکل کے اطراف میں احتیاط کے ساتھ عمل کریں تا کہ وہ نیل پلیٹ سے ڈھیلا پڑ جائے اور پھر اسے نہایت نرمی کے ساتھ واپس دھکیل دیں۔ہینڈ کریم سے مساج جاری رکھیں۔

ہاتھوں کو ملائم رکھنے کیلئے چار چمچ عرق گلاب، دو چمچ گلیسرین اور ایک چمچ لیموں کا رس ملا کر کسی بوتل میں بھر لیں اور بوتل کو باتھ روم اور کچن میں رکھ دیں۔ برتن یا کپڑے دھونے کے بعد اچھی طرح ہاتھ خشک کرکے یہ محلول اچھی طرح لگائیں۔ ہاتھوں کو نرم کرنے کا یہ بہت بہترین طریقہ ہے۔


مکمل خبر پڑھیں