عجیب وقت!

August 16, 2018
 

عجیب وقت ،لیگی حکومت کی ’’فنکاریوں‘‘ پر بات کر نہیں سکتے، وہ جاچکی، اپنی فنکاریاں خود ہی بھگت رہی، نئی حکومت کے حوالے سے بات ہو نہیں سکتی ، وہ ابھی آئی ہی نہیں، نگران حکومت کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتے، وہ دو چار دنوں کی مہمان، عجیب وقت، گزری بیڈ گورننس،کرپشن کا رونا رو نہیں سکتے، وہ خود ہی رو دھو رہے، متوقع گڈ گورننس کا ذکر ہو نہیں سکتا، ابھی سب کچھ باتوں تک محدود، عجیب وقت، اسٹیٹس کو کو پتھر مار نہیں سکتے، اسٹیٹس کو پہلے ہی زخموں سے چور، عوامی راج پر پھول نچھاور ہو نہیں سکتے، وہ ’’راج‘‘ ابھی شروع ہی نہیں ہوا اور عجیب وقت، پچھلے رہے نہیں، اگلے آئے نہیں، درمیان والے سامان باندھ چکے۔

آسان لفظوں میں، صورتحال یہ کہ صورتحال ہی واضح نہیں، لہٰذا یہی صورت حال دیکھ کر دل چاہا کہ چلو یہی بتا دوں، کون معافی تلافی کے چکر میں، کون ’’مٹی پاؤ‘‘ کی کوششیں کر رہا، کون ابھی بھی پرامید کہ درمیانی رستہ نکل آئے گا ،جی یہ بھی کیا کہ یہی سنادوں، کہاں کے پرندے کس جانب اڑان بھرنے کیلئے تیار، اندرو اندر کیا رولے پڑے ہوئے ، سامنے کیا ،پیچھے کیا ہورہا ،خیال یہ بھی آیا کہ یہی لکھ دوں، کل ریحام خان سے مل کر ’’شیرو‘‘ سے دشمنیاں کرنے والے وہ کون جو آج شیرو کی ہر ادا پرایسے میں واری ، میں قربان کہ خود شیرو بھی پریشان ، سوچا یہی بتادوں ، کون کس سے ناراض ،کس کی کس سے بول چال بند،بند دروازوں کے پیچھے کیا ہوا ، کتنے انوکھے لاڈلے کھیلن کو ’’چاند‘‘مانگ رہے لیکن اس عجیب وغریب وقت کا اثر یا کچھ اور، نہ چاہتے ہوئے دل نہ مانا کچھ بتانے کو ،دماغ نے کہا ابھی راز ،راز ہی رہے ، اک عرصہ بعد اقتداران کے پاس ، جو نئے بھی ،کنفیوژ بھی ،خوش بھی ،کچھ بدلنا چاہتے بھی ،کچھ نیا کرنے کے خواہش مند بھی ،لہٰذا ابھی پردہ رہنا چاہیے ، یہ جوڑ توڑ ،یہ معصوم حماقتیں اورسازشیں ،یہ بھولی بھالی مفافقتیں اور خوشامدیں ،چند دن اور سہی ،ہوسکتا ہے کچھ بہتر ہو جائے، کچھ نیا ہوجائے ،عین ممکن اس بار وہ ہوجائے جو پہلے نہ ہوا ،لہذا دوستو،اس عجیب وغریب لمحوں میں جب یہ سب نہ لکھنے کا فیصلہ کیا تو سوچا پھر کیا لکھا جائے، اچانک استادوں کے استاد حسن نثار یاد آگئے ، اگست کا مہینہ، توقعات،امیدیں، زمینی حقائق اوریہ عجیب وغریب وقت ، اس صورتحال میں کالے قولوں سے بہتر بھلا اور کیا، لہٰذا حاضرِخدمت چند ترو تازہ کالے قول ، آپ نے توجہ سے پڑھ لئے تومیرے پیسے پورے !

چودہ اگست اور چودہ طبق کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

14اگست کو پاکستان بنا، اس کے بعد کیا بنا؟ سوائے بنگلا دیش کے اور کچھ نہیں بنا۔

بابائے قوم نے کہا کام ،کام،کام، قوم سمجھی کلیم، کلیم، کلیم

صرف نام،جھنڈے اور قومی ترانے کا نام ہی ملک نہیں ہوتا

پاکستان میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں، اہلِ وسائل اور اہلِ مسائل اور مسائل صرف سائل ہی پیدا کر سکتے ہیں۔

’’شہید‘‘ کبھی مرتے نہیں اور ’’غازی‘‘ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔

وہ کون بدنصیب جو صفیں تو سیدھی رکھتے ہیں لیکن معاملات سیدھے نہیں رکھتے۔

حاجی صاحب سو نفل پڑھتے ہیں، ضرورت مند کو سو روپیہ نہیں دیتے۔

دن میں 5 مرتبہ صفائی کرنے والے اتنے غلیظ کیوں ہیں؟

جب اوپر ناجائز قبضہ ہو تو نیچے قبضہ گروپ ہی جنم لیتے ہیں، اوپر آئین ٹوٹے تو نیچے ٹریفک کا اشارہ ٹوٹتا ہے۔

لوگ، لوگوں کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، ہم وہ بدنصیب جو خود اپنے ساتھ جھوٹ بول رہے۔

ہماری جہالت یا منافقت، بلھے شاہ بھی ہمارا ہیرو اور احمد شاہ ابدالی بھی، حالانکہ بلھے شاہ ابدالی کو ڈاکو سمجھتا تھا، ہم اورنگزیب عالمگیر کے بھی گن گاتے ہیں اور اسی کے حکم پر قتل کیے گئے سرمد کو بھی شہید سمجھتے ہیں۔

جب کچھ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ ’’تحفظ‘‘ حاصل ہوجائے تو پوری قوم عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہے۔

خالی جیب جرائم سے بھر جاتی ہے، کچھ لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا، کچھ لوگوں کی آنکھ نہیں بھرتی۔

جن کے سینے میں دل ہی نہیں، ان کے دل میں سارے جہاں کا درد ہے۔

سب بھاشن دیتے ہیں، راشن کی فکر کسی کو نہیں۔

ایک قیدسے دوسری قید تک کے فاصلے کو آزادی کہتے ہیں اور آزادی کے بعد ہم نے جو پہلی چیز کھوئی وہ خود ’’آزادی‘‘ تھی۔

یہ ایک ایسا اسلامی معاشرہ ہے جہاں نلکے کا پانی ابال کر اور بوتل کا پانی دو مرتبہ ابال کر پینا چاہیے۔

آج کے ’’جمہوری اور غیر جمہوری‘‘ حکمران خلفائے راشدین کی تو بات کرتے ہیں لیکن ان جیسا بننے سے ڈرتے ہیں۔

غریب کے گھر آٹا نہیں، امیر کو کوئی گھاٹا نہیں۔

جو حکمران اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے، وہ ملکی حالات کو کیسے قابو رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان اس باڑے کی مانند ہے جس کے ہر تھان پر ایک ’’مقدس گائے‘‘ بندھی ہے جو چارہ تو کھاتی ہے، جگالی بھی کرتی ہے لیکن دودھ دیتے وقت دولتیاں مارنے لگتی ہے یا سینگ اٹھا کر پیٹ پھاڑنے کو چڑھ دوڑتی ہے۔

ہم مبالغہ آرائی پر مبنی ترانوں کی ماری ہوئی قوم ہیں۔

تیسری دنیا کے بیشتر ممالک پر ’’قبریں‘‘ حکومت کر رہی ہیں۔

مجھ سے کوئی پوچھے کہ میں ایک لفظ میں اپنے ملک اور معاشرے کو بیان کروں تو میں کہوں گا ’’تضادات‘‘۔

ہم ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے تو ایک دوسرے کے دکھ، درد کیسے پڑھ سکتے ہیں؟

جیسے ہر لکھنے والا لکھاری نہیں ہوتا، ویسے ہی ہر حکمران لیڈر نہیں ہوتا۔

ہم نے 70سالوں میں وحید مراد سے سلطان راہی تک ترقی کی ہے۔

اپنا ہر بگلا اس وقت تک بھگت ہے جب تک مچھلی اس کی رینج میں نہیں آ جاتی۔

ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ اہم اکثر دھوئیں سے بچنے کیلئے آگ میں کود جاتے ہیں۔

جسے اپنے حسن پر مان ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ مدھو بالا کی برسی ضرور منائے۔

میرے بچو یاد رکھنا ۔۔۔۔۔ یہاں بابائے قوم کی ایمبولینس ’’خراب‘‘ ہو جایا کرتی ہے، یہاں بھٹو پھانسی چڑھ جایا کرتے ہیں، یہاں ساغر صدیقی اور حبیب جالب بھوکے مر جایا کرتے ہیں۔

جھوٹے منصفوں کا ہونا بدنصیبی نہیں ۔۔۔۔ سقراط اور گلیلیو کا نہ ہونا بدنصیبی ہے، فرعونوں کا ہونا المیہ نہیں ۔۔۔ المیہ تو یہ کہ کوئی موسیٰ ؑ نہ ہو، یزیدوں اور شمروں کی موجودگی سانحہ نہیں ۔۔۔ سانحہ تو یہ ہے کہ کوئی رسم حسین ؓ کی ادائیگی پر آمادہ نہ ہو۔

اس ملک کو ہر اس شخص سے خطرہ ہے جس کی کھوپڑی میں مغز کی بجائے ’’میں‘‘ بھری ہو۔

اگر یونہی ’’جمہوریت‘‘ چلتی رہی تو پاکستان کو ایک ’’جمہوری ملک‘‘ بننے کیلئے 5ہزار سال بھی کم ہوں گے۔

حکمرانوں کو ’’کیپٹل ازم‘‘ کا کینسر اور ’’جمہوریت‘‘ کا ہسٹریا ہو گیا ہے۔

ناجائز بچے نہیں۔۔۔۔والدین ہوتے ہیں۔

میرٹ کی لاش پر کرپشن کا مجرا بھی دہشت گردی ہے۔

کبھی فرات کے کنارے کتے بھوکے نہ تھے، آج راوی، چناب،جہلم، سندھ سے لے کر سمندر کے کناروں تک انسان بھوکے ہیں۔

ہمارے تو حلوے میں بھی ہڈی آجاتی ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا ۔۔۔۔۔فرق صرف ’’یا ‘‘ کا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں