ریڈیو پاکستان کی قدر کیجئے

August 17, 2018
 

ایک بات طے ہے، چاہے ٹیلی وژن آسمان کو چھولے۔ چاہے سوشل میڈیا انسانی ذہن کو بدل ڈالے۔ ریڈیو کی اہمیت ذر ا بھی کم نہ ہوگی۔ ہم نئے پرانے لوگوں نے جس دن سے دنیا کے حالات کو جاننا چاہا ہے، ریڈیو ہمارے سرہانے پنجے گاڑ کر بیٹھا ہے۔ ہم نے جس روز اپنے گلی محلے، علاقے اور تحصیل ضلعے سے آگے کی دنیا کے حالات و واقعات کو دھیان سے دیکھنا چاہا ہے، ریڈیو کے ڈائل پر چلتی ہوئی سوئی ہی نے ہمیں ان دور دراز سر زمینوں کے نظار ے کرائے ہیں۔

میں وہ دن کیسے بھول سکتا ہوں جب جرمن فوجیں دنیا کے سیاسی نقشے کو پامال کرتی ہوئی دور دور تک اپنا تسلّط کا جال پھیلارہی تھیں، گھر کے کسی نہ کسی گوشے میں رکھا ہوا ریڈیو دنیا کو خبر دار کررہا تھا کہ دشمن کہاں تک جا پہنچا ہے اور کون سا علاقہ اس کی زد میں آنے کو ہے۔ مجھے یا د ہے جب شہر میں جا بجا خندقیں کھودی جارہی تھیں اور لوگوں کو جانیں بچانے کے گُر سکھائے جارہے تھے ۔ اس وقت ریڈیو ہی تھا جو رات کے سنّاٹے میں بھی دنیا کو خبردار کررہا تھا۔ بس لے دے کر سینما میں ایک نیوز ریل یعنی فلمی خبر نامہ چلتا تھا جو دنیا میں جا بجا کھلنے والے محاذوں کی دو چار جھلکیاں دکھا دیا کرتا تھا۔ باقی تمام کی تمام ذمے داری ریڈیو نے اٹھا رکھی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ انگریزوں نے بر صغیر کے عوام کو با خبر کرنے کے لئے آل انڈیا ریڈیو کو خوب خوب فروغ دیا لیکن جرمنوں ، روسیوں، ترکوں اور دوسری قوموں نے اپنی اپنی سرزمینوں پر طاقت ور نشر گاہیں قائم کر کے وہیں سے اپنا پروپیگنڈہ نشر کیا۔ اس پر انگریزوں کو سجھایا گیا کہ اپنی بات کو پُر اثر بنانے کے لئے سرزمین انگلستان ہی میں نشر گاہیں قائم کرو۔ ہندوستانیوں کے ذہنوں میں اترنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بات دلّی، بمبئی، لکھنؤ، لاہور اور پشاور سے نہیں بلکہ لندن سے نشر کی جائے۔

اسی کے نتیجے میں بی بی سی کے نام سے ایک عالمی نشرگاہ قائم ہوئی اور وہاں سے ہندوستانی زبانوں میں خبر نامے نشر ہونے لگے۔ وہ دن اور آج کا دن، ٹی وی کو بالا دستی حاصل ہو یا انٹرنیٹ کا بول بالا ہو، ریڈیو کو ایک دن کے لئے بھی ترک نہیں کیا گیا۔اسے کبھی فضول نہیں سمجھا گیا ، نہ کبھی نظر انداز کیا گیا اور نہ پسِ پُشت ڈالا گیا۔ آندھی آئے یا طوفان، تار ٹوٹیں یا کھمبے گریں، بجلی گرے یا چھت پر لگے ہوئے ایریل یا انٹینا اکھڑ جائیں، ایک ریڈیو ہے جو ساری بربادیوں کے بیچ اپنی بات کہے جاتا ہے۔

یہ اطلاعات کا واحد ذریعہ ہے جس کے سامنے بیٹھنا ضروری نہیں۔جس کو توانائی کے لئے ایک چھوٹی سی بیٹری کافی ہے۔ نہ فضا میں کثافت گھولتا ہے اور نہ اپنا ڈائل روشن رکھنے کے لئے کوئی بڑا مطالبہ کرتا ہے۔ سرحدیں پار کر جاتا ہے، گھروں میں چلا جاتا ہے، نہ کوئی روک تھام ہے نہ کسی طرح کی ممانعت، بس ایک شرط ہے کہ سچ بولے، اپنا اعتبار اور اعتماد قائم کرے اور سننے کے لئے وہ مال بازار میں لائے جس کے گاہک موجود ہوں۔

اتنی لمبی تمہید بس اتنی سی بات کہنے کے لئے باندھی گئی ہے کہ خدارا ریڈیو پاکستان جیسے ادارے کو گوشہء گمنامی میں نہ ڈالا جائے۔ ایسے میں جب تبدیلی کے نام پر پاکستان میں ایک نیا نظام قائم ہونے کے آثار ہیں اور نئے حکمرانوں پر تجویزوں اور مشوروں کی یلغار ہورہی ہوگی، میرا بھی یہ چھوٹا سے مشورہ ہے کہ یہی ریڈیو پاکستان جو کبھی لوگوں کے کانوں میں رس گھولا کرتا تھا ، اسے نظر انداز نہ کیا جائے، اس کی اہمیت کو کم نہ سمجھا جائے اورایک بات اور۔ ریڈیو میں نئی روح نہ پھونکی جائے بلکہ پرانی روح تازہ کی جائے۔ یہ دنیا کے اس علاقے کی نہایت موثر نشر گاہ ہوا کرتی تھی ، اس کو اور اس کی خوبیوں کو یوں کونے کھدروں میں نہ ڈالا جائے۔ اس میں وہی اچھے دنوں کا ماحول واپس لایا جائے ، اس کو باصلاحیت اور ہنرمند لوگوں کی مدد سے اوپر اٹھایا جائے ، اس کا احساس کمتری ختم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت ہی ضروری بات: کراچی کی بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کی شاندار تاریخی عمارت کو بحال کیا جائے۔ اس میں آگ لگ گئی تھی، وہ تو بہت عمارتوں میں لگا کرتی ہے لیکن جیالے لوگ انہیں دوبارہ بنا سنوار کے نئی نکور بنادیتے ہیں، بنائیے اور اگر اس عمارت کو کسی دوسرے مصرف میں لایا جارہا ہے تو وہ مصرف ختم کرکے اسے ایک بار پھر وہی ریڈیو پاکستان بنا ئیے جس پر تمام باشعور اور باذوق لوگ بجا طور پر ناز کیا کرتے تھے۔وہ عمارت نہیں، ایک علامت ہے۔ اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔

مجھے کچھ عرصہ ہوا ملتان اور بہاولپور کی ریڈیو پاکستان کی نشر گاہیں دیکھنے کا موقع ملا۔ اور ابھی حال ہی میں ہمالیہ کی وادیوں میں اسکردو کا نہ صرف ریڈیو اسٹیشن بلکہ اس کا عملہ بھی دیکھا۔ بہت سرگرمی سے کام کرنے والے جوشیلے لوگ دیکھے۔ مگر ہر جگہ کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی۔ وسائل کی، سرپرستی کی، پشت پر وہ جو حمایت ہوا کرتی ہے، اس کی۔ لوگ ہنرمند تھے، کچھ کرنا چاہتے تھے مگر وہ تازہ ہوا کا جھونکا نہ تھا جو روح میں تازگی بھر دیا کرتا ہے۔ جی چاہتا ہے با اختیار افراد اور اداروں سے بات کی جائے ۔ اپنی بات سمجھائی جائے اور ا ن کی دشواریاں اور مجبوریاں سنی جائیں۔ مگر کوئی سنے گا، کان دھرے گا، ہمّت جٹائے گا؟جواب میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی۔ اس لئے بہتر ہے کہ جی پر جو بوجھ سا ہے،یوں لکھ لکھ کر وہ ہلکا کر لیا جائے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں