واجپائی کا لکھنؤ سے رشتہ کیا؟

August 17, 2018
 

گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر جانے والے بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ماضی میں مسلسل چار مرتبہ بھارت کے شمالی شہر لکھنؤ سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ان کا لکھنؤ سے چھ دہائیوں پرمشتمل تعلق تھا۔اس شہر سے انہیں بریانی ، مکھن ملائی ، گلاب اور چمبیلی کی پتیوں کی یاد آتی تھی۔

لکھنؤ اٹھارویں صدی میں مسلم تہذیب و تمدن کے مرکز کے طور پر مشہور تھا،شہر کی خوبصورت تعمیرات مسلمان حکمرانوں اور اشرافیہ کی سرپرستی کا نتیجہ ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ لکھنؤ کا انتخاب واجپائی جیسے سیاستدان کے لئے، جو ایک مقرر اور شاعر بھی ہیں، بہت موزوں ہے۔

لکھنؤ سے صحافت کا آغاز

واجپائی کے قریبی دوست اور مقامی رہنما لال جی ٹنڈن کے مطابق واجپائی کالکھنؤ کے ساتھ بڑا مضبوط رشتہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’ یہ وہی شہر ہے جہاں سے انہوں نے نا صرف اپنے کیریئر کا آغاز ایک صحافی کے طور پر کیا تھا بلکہ یہ شہر ان کی شاعری کا محرک بھی تھا۔‘

1947 میں وہ لکھنؤ میں ایک نئے روزنامہ میگزین کے ایڈیٹر رہے ، اس کے بعد ہفتہ وار میگزین سے منسلک ہوئے اور پھر روزنامہ سوادیش نامی اخبار سے وابستہ ہو گئے۔

سب سے پہلا انتخاب لکھنؤ سے لڑا

واجپائی نے اپنی زندگی کا سب سے پہلا انتخاب1954میں لکھنؤ سے لڑا جس میں انہیں شکست ہوئی لیکن بعد میں یہ شہر ان پر خاصا مہربان رہا ۔

لکھنؤ کے شہریوں میں بہت مقبو ل

واجپائی لکھنؤ کے شہریوں میں بہت مقبو ل تھے۔لکھنؤ کے100 سالہ پرانے مشہور ’ٹنڈے میاں کباب ریسٹورنٹ‘ کے مالک رئیس احمد کے مطابق باہر سے آنے والوں کو خوش آمدید کہنا اہل لکھنؤ کی پرانی روایت ہے۔

مسٹر واجپائی کی پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششوں سے بھی لکھنؤ میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ۔

ایک مقامی دکاندار جمیل اختر کے مطابق واجپائی باقی رہنماؤں سے مختلف ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کوئی امتیاز نہیں برتتے اور سب کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔

نوابوں کی تہذیب

2004 میں بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ لکھنؤ کے نام سے مجھے بارادری اور چوک یاد آجاتا ہے جو نوابوں کی تہذیب کی جھلک سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے لکھنؤ کی تاریخی عمارتوں ، رومی دروازہ ، بارا امام بارہ، امین آباد کا شوپنگ سینٹر، بھول بھلیاں کا تذکرہ بھی اپنے اس انٹرویو میں کیا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے امین آباد کی سڑکوں پر دوستوں کے ساتھ بہت سا وقت گزارا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ بہت محفل جمتی تھی، اب وہ دن کہاں ہیں‘۔

بریانی ، مکھن ملائی،گلاب اور چمبیلی کی پتیاں

اس شہر سے انہیں بریانی ، مکھن ملائی ، گلاب اور چمبیلی کی پتیوں کی یاد آتی ہے۔انہوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پھول بیچنے والے مزاحیہ انداز میں کہتے جاتے تھے’ مجنوں کی ہڈیاں، لیلیٰ کی پسلیاں لے لو‘۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے شاعرانہ انداز میں کہا کہ کیا منظر ہو تا تھا ’ ٹوکری میں پھولوں کی پتیاں رکھی ہوئی، بیچ میں موم بتیاں جلتی ہوئی‘۔

انہوں نے لکھنؤ کی مکھن ملائی کی تعریف کرتے ہوئےبتایا کہ مجھے وہ وقت یاد ہے جب اندرا گاندھی جب لکھنؤ آئیں تو انہوں نے مکھن ملائی کھانے کی فرمائش کی تھی۔

واضح رہےبھارتیہ جنتا پارٹی کے قد آور رہنما اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی93سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کر گئے، انہوں نے شام پانچ بج کر5منٹ پر آخری سانس لی۔ ان کو گردوں کے عارضہ، پیشاب میں انفیکشن ، سینے میں تکلیف اور سانس کی نالی میں انفیکشن کے باعث ایمز میں داخل کیا گیا تھا ۔


مکمل خبر پڑھیں