شجرِ سایہ دار، ابوجی نے ہمیشہ رزقِ حلال ہی کو اہمیت دی

September 02, 2018
 

ہمارے ابّو خود تو دو کلاسیں ہی پڑھ پائے تھے کہ دادا کے انتقال کے سبب کم عُمری ہی میں محنت مزدوری شروع کر دی تھی، مگر گھر میں سب سے بڑے ہونے کا حق یوں ادا کیا کہ چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کردیا۔ پھر یہ کہ اُنھوں نے اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت پر بھی اس قدر دھیان دیا کہ آج ہم تینوں بھائی پڑھ لکھ کر اچھی ملازمتوں پر فائز ہیں، جب کہ ہماری دونوں بہنوں نے بھی گریجویشن کیا، حالاں کہ گاؤںکے مخصوص ماحول میں اتنی تعلیم حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، مگر ہمارے والد صاحب نے بچّوں کی تعلیم پر کبھی سمجھوتا نہیںکیا۔ نیز، اُنھوں نے ہمیںپُر آسائش زندگی کی فراہمی کے لیے اَن تھک محنت کی اور اللہ نے اُن کی محنت کا صلہ کچھ ایسا دیا کہ آج اُس کے فضل سے ہم خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارا گھرانہ کئی برس قبل اندورنِ سندھ سے کراچی منتقل ہو گیا تھا، جس کا سبب ہم دو بھائی تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہمیں کراچی میں ملازمتیں ملیں اور پھر شادیاں بھی یہیں ہوئیں، جس کی وجہ سے ہم والدین کو بھی یہاںلے آئے، چھوٹا بھائی گاؤں میں خاندانی کاروبار سنبھالتا ہے۔

والد صاحب کی پوری زندگی گاؤں میں گزری، جو کراچی جیسے انسانوں کے سمندر سے خاصی مختلف ہوتی ہے، جس کے سبب کبھی کبھی وہ بے زار سے ہوجاتے ہیں۔ اس کا حل ہم نے یہ نکالا ہے کہ والد کو سال میں چند ہفتوں کے لیے گاؤں لے جاتے ہیں تاکہ وہ خوش رہیں۔ ہم نے رواں برس جنوری میں والد صاحب کی ستّرویں سال گرہ منائی، جس میں بیٹوں، بیٹیوں اور اُن کے بچّوں نے شرکت کرکے اپنے اس عظیم محسن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ابّو جی نے ہمیشہ رزقِحلال ہی کو ترجیح دی اور ہر طرح کی دو نمبری سے خود کو دور رکھا، شاید یہی وجہ ہے کہ سال گرہ کی تقریب میں بھی ہمیں ہیر پھیر سے دور رہنے کی نصیحت کرتے رہے۔ اللہ کرے اُن کا سایہ تا دیر ہم پر سلامت رہے کہ انہی کے دَم سے سارا خاندان باہم جُڑا ہوا ہے۔

( پرنس احسان، اورنگی ٹاؤن، کراچی)


مکمل خبر پڑھیں