’’موہن جودڑو‘‘ یہاں کے قدیم آثار گوہرِ نایاب سے کم نہیں

August 29, 2018
 

آج بھی دنیا کے گوشے گوشے میں ایسے لاتعدا دکھنڈرات ہیں، جن میں رہنے والی اقوام کی زبانیں کبھی عالمی زبانیں تھیں، اب نہ وہ اقوام ہیں اور نہ ان زبانوں کو بولنے والے،کھنڈرات کی حالت دیکھ کر ان میں بسنے والی اقوام کا اندازہ ہوتا ہے۔ جنہوں نے فطرت، حوادث، حملہ آوروں اور تقدیر کے ساتھ ہر لمحے جنگ لڑی ہو، جن کو وقت کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑ کر خاک میں سوئے ہوئے ہزاروں سال گزرچکے ہیں۔چند ایسی ہی تہذیبوں میں سے ایک تہذیب وادیٔ سندھ بھی ہے، تاریخ کے دریچوں میں جھانکنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وادیٔ سندھ کے معاشی، معاشرتی اور تجارتی تعلقات اپنی ہم عصر تہذیبوں یعنی مصری اور سومیری تہذیبوں سے استوار تھے، موہن جو دڑو اور ہڑپا اس تہذیب کے دارالحکومت تھے ،لیکن آثاروں میں دریافت ہونے والے گھروں، گلیوں، محلوں وغیرہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس تہذیب کا اصل مرکز موہن جو دڑو ہی تھا، کیوں کہ اس کی ٹائون پلاننگ، نکاسی و فراہمی آب کا نظام اور گھر و گلیاں ہڑپہ سے بدرجہا بہتر ہیں۔ موہن جو دڑو کو اگر کسی اونچائی سے دیکھا جائے ،تو یہ شہر دو حصوں میں منقسم ہے، اس کا ایک حصہ جو Upper Cityشہر کہلاتا ہے، ایک طرح کا ایڈمنسٹریشن بلاک ہے، اس میں اسٹوپا، بڑا تالاب، ایک جامعہ اور ستونوں والے ہال کی باقیات موجود ہیں، اس کا دوسرا حصہ نچلا شہر یا زیریں شہر کہلاتا ہے۔ یہ رہائشی اور کاروباری علاقہ ہوگا، یہاں رہائشی مکان، دکان اور گودام وغیرہ تھے۔سرجان مارشل نے اس منصوبہ بندی کو دیکھ کر حیرت زدہ لہجے میں کہا تھا ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں کے لوگ اس وقت بھی اتنے ترقی یافتہ تھے کہ انہوں نے اس شہر کو آباد کرلیا، مجھے تو اس شہر کی فرسٹ اسٹریٹ اور ایسٹ اسٹریٹ کے مقام اتصال کو دیکھ کر موجودہ لندن میں واقع آکسفورڈ سرکس کا چورہا یاد آتا ہے۔ ‘‘تاریخ دانوں کے مطابق اس بات کا فخر بھی سندھ ہی کے باشندوں کو حاصل ہے کہ دنیا بھر میں نکاسی آب کا پہلا مربوط نظام ان کی سرزمین پر بنا اور اس سلسلے میں دنیا کی کوئی بھی ہم عصر تہذیب موہن جو دڑو کی ہم عصری نہیں کرسکتی۔

موہن جو دڑو کے بارے میں تاریخی کتب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ لاڑکانہ ضلع لب دریا تعلقہ میں لاڑکانہ شہر سے پچیس میل دور اور ڈوکری اسٹیشن سے فقط ساڑھے تین میل کے فاصلے پر ایک ویرانہ ہے جسے عام طور پر ’’مہن جو دڑو‘‘ کہا جاتا ہے۔ آرکیالوجیکل محکمےوالوں نے اس نام کے معنی بتائے ہیںMound of the Dead ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نام دراصل ہے ’’مہن جہ دڑو‘‘ یعنی ’’مرے ہوئے لوگوں کا ٹیلہ ‘‘ اور محض غلطی سے ’’مئن‘‘ کے بہ جائے ’’موہن‘‘ لکھا ہے۔ تحقیق کرنے سے معلوم ہوگا کہ صحیح تلفظ ہے’’مہن جو دڑو‘‘ اور کچھ لوگ ’’مہین جو دڑو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ دونوں کے معنی ہیں ’’مات ہوجانے والوں کا ٹیلہ۔‘‘قدیم دور میں دریائے سندھ مہن جو دڑوکے پاس سے گزرتا تھا۔ وہاں دریائے سندھ اور مغربی کنارے کے درمیان میں ایک جزیرہ تھا۔اس جگہ کا جائزہ لینے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہاں پر دراصل پانچ جزیرے تھے ،جو بعد میں دریا کےپاس سے سمت تبدیل کرنے اور ان کے اوپر ریت چڑھ جانے کے سبب سے اکٹھے ہوگئے اور اب جزیروں کا گویا ایک گچھا ہوگیا ہے۔ اب وہاں صرف ٹیلے ہی ٹیلے ہیں جو تقریباً اڑھائی سو ایکڑ اراضی لیے ہوئے ہیں۔ کچھ ٹیلے بیس، تیس فیٹ اونچے ہیں۔ موہن جو دڑو کی تقریباً تیرہ ایکڑ زمین اب تک کھدوائی گئی ہے۔ یہاں سے سات شہر ایک دوسرے کے اوپر دریافت ہوئے ہیں۔ پانی کے دریائے سندھ کے کناروں سے اوپر بہنے اور برساتی موسم میں پہاڑوں پر سے پانی کے تیزی سے نیچے اترنے کی وجہ سے یہ ایک دفعہ ویران ہوجاتا تو پانی کے سوکھ جانے کے بعد لوگ اس ویران شہر کے اوپر دوسرا شہر تعمیر کیا کرتے تھے۔ اس طرح سے شہرکے اوپر شہر تعمیر کرتے گئے ،جن سے سات شہروں کا پتہ چل سکا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ شہر تجارت یا کسی دوسری وجوہ سے اہم تھا، جس وجہ سے لوگ بار بار اسی شہر کو آباد کرتے رہے۔ موہن جو دڑو میں سے جو شہر دریافت ہوئے ہیں، ان کا طرز تعمیر آج کے دور سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ وہاں کے راستے کشادہ اور ہموار تھے ،جو سیدھے شمال سے لے کر جنوب کی طرف جاتے ۔ ان راستوں میں سے گلیاں ایک دوسرے کے سامنے نکلتیں، جس کی وجہ سے ہر ایک محلہ علیحدہ نمایاں ہے۔شہر کی کھدائی کے دوران جن چیزوں کے آثار ظاہر ہوئے ہیں، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

عمارتیں : ہر ایک شہر میں جو عمارتیں دریافت ہوئی ہیں، ان میں سے کسی بھی عمارت کے اوپر چھت نہیں ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چھتوں کے شہتیر اور کڑیں بڑا عرصہ گزرنے کی وجہ سے گل کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہیںیا پھر آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی ہیں ۔ تمام عمارتیں پکی اینٹوں سے بنی ہیں، جنہیں نہایت عمدگی سے لگایا گیا ہے۔ تمام مکانات کشادہ اور ہوادار ہیں۔ کچھ مکانات کے صحن میں سیڑھیاں بھی ہیں، جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چند مکانات کے اوپر منزلیں بھی ہوتی ہوں گی۔ ہر ایک مکان کا علیحدہ علیحدہ کنواں اور غسل خانہ تھا ۔ غسل خانوں میں اینٹوں سے فرش بندی کی گئی تھی ۔ کمروں میں ایک کونے میں سے پانی کی نکاسی کا اہتمام تھا ، جہاں سے پانی بہہ کر گلیوں کی نالیوں میں جا کر گرتا تھا۔ گلیوں کی نالیاں ڈھکی ہوئی تھیں، جن سے اندر ہی اندر سے پانی کی نکاسی ہوتی تھی۔ کچھ غسل خانوں مین اینٹوں کو کوٹ کردہ پائوڈر چونے سے ملا کر اس سے غسل خانوں کے فرش پر پلاسٹر کیا گیا تھا، تاکہ زمین پانی جذب نہ کر لے۔ دیواروں پر پلاسٹر تین انچ موٹا چڑھا ہوا تھا۔ اینٹوں کو چپکانے کے لیےپتلی مٹی استعمال کی گئی ، لیکن کسی کسی جگہ پر جپسم استعمال کیا تھا، جو نئی گاج میں آج بھی بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔

پنچائتی مال: کچھ عمارتیں ستونوں پر کھڑی ہیں، جن میں سے ایک ہال جو تقریباًاسّی فیٹ کا ہوگا، وہاں شاید پنچائت بیٹھتی تھی یا کچھ مواقع پر لوگ آکر اکٹھے ہوتے تھے۔

دکان :کچھ عمارتوں کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ وہ دکان کے طور پر استعمال ہوتی تھیں، ایسی ایک عمارت سے رنگریز کی بھٹی ملی ہے اور رنگوں کے نقش و نگار بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

بڑا تالاب: موہن جو دڑو سے دریافت ہونا والا بڑا تالاب ہر کسی کی خاص توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس کی دیواریں موٹائی کے حساب سے سات آٹھ فیٹ ہیں۔ تالاب کے دونوں اطراف سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ یہ تالاب 39فیٹ لمبا، 23فیٹ چوڑا اور 8فیٹ گہرا ہے۔ اس تالاب کے ایک سرے پر ایک بڑی نالی بنی ہوئی ہے، جس سے زائد پانی کی نکاسی ہوا کرتی تھی۔ وہ نالی نہایت ہی عمدہ طریقے سے بنی ہوئی، اتنی گہری ہے جس میں 6فیٹ کا شخص کھڑا ہو سکتا ہے۔ پوری نالی ڈھکی ہوئی ہے، لیکن چھت سے تھوڑا سا ٹکڑاکھلا ہوا ہے ،جس میں سے ایک شخص اندر داخل ہو کر ساری نالی صاف کرسکے۔

کنویں : موہن جو دڑو کے ہر ایک مکان میں علیحدہ کنواں ہے۔ کچھ تو چھوٹے کنویں ہیں، کئی گلیوں اور بڑے راستوں کے پاس سے بڑے کنویں ملے ہیں جو پکی اینٹوں سے بنے ہوئے اور گول ہیں۔ ایک دو کنویں بیضوی شکل کے بھی ہیں۔ دو کنوئوں کے پاس پکی اینٹوں سے بنے بینچ بھی ہیں۔ یہ شاید اس لئے کہ جب تک کسی کے پانی بھرنے کی باری آئے تب تک اس پر بیٹھ کر انتظار کرے۔

نالیاں : سارے شہر کے گندے پانی کی نکاسی کی ترتیب نہایت ہی اچھی طرح کی ہے۔ اس حوالے سے سر جان مارشل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ پانی کی نکاسی کا طریقہ غیر معمولی طور پر بہترین طرز کا ہے۔ ‘‘

حفظانِ صحت : لوگوں کو صاف و ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی مناسب انتظامات کیے گئے تھے۔ ہر ایک گھر ایک دوسرے سے اس قدر دور تھے کہ کسی بھی گھر کوہوا اور روشنی ملنے میں رکاوٹ نہ ہو، جس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کو انجینئرنگ کی بھی معلومات تھی، جو دریاء کے سیلاب سے شہری بچائو کے لئے خاطر خواہ بندوبست کرسکتے تھے اور گندے پانی خواہ برساتی پانی کی نکاسی کے لئے نالیاں نہایت عمدہ طریقے سے بناسکتے تھے۔ نالیوں کی وقت بوقت صفائی کرنے کے لئے ان میں ’’مین ہول‘‘ بھی رکھتے تھے جیسا کہ آج کل انتظامیہ کرتی ہے۔ گھر کے گند کچرے (فضلہ) کو نکالنے کے لیےدیواروں میں سوراخ کردیتے تھے تاکہ کچرا(فضلہ) وہاں سے بہہ کر باہر گلی میں جا کر گرے۔ گلیوں میں کچراجمع ہونے کے لیےگڑھے تھے۔

شکل شبیہ لباس اور زیور: موہن جو دڑو سے جو مجسمے ملے ہیں انہیں دیکھ کر قدیم سندھیوں کی شکل اور شبیہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ قد کے چھوٹے اور جسم میں بھرے ہوئے تھے۔ ہونٹ موٹے اور آنکھیں چھوٹی تھیں۔یہ شبیہات صرف مہن جو دڑو کے لوگوں کی تھیں یا عام طرح سارے سندھیوںکی تھیں، اس سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مجسموں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مرد داڑھی چھوٹی رکھتے ہوں گے، سر کے بال پیشانی پر سے موڑ کے پیچھے سے لپیٹ کر ان میں کنگہ (بکل) لگادیا کرتے تھے جس وجہ سے ان کو لپیٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ زنانہ شکل کے مجسموں سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ عورتیں اپنے بال گردن سے موڑ کر پیچھے کی طرف سے کھلے چھوڑ دیتی تھیں اور کچھ اپنی چوٹیا لپیٹ کر سینگ کی طرح نوکدار بناتی تھیں۔

وادیٔ سندھ کی عظیم موہن جوڈرو تہذیب کا ایک پہلو جس نے روز اول سے محققین کو متحیر کیے رکھا ، وہ ان کی امن پسندی ہے، ہڑپا ہو یا موہن جو دڑو، کاہو جو دڑو ہو یا جھکر جو دڑو، غرض کہ وادیٔ سندھ میں دراوڑی تہذیب کے جتنے بھی شہر دریافت ہوئے ، ان سب کی باقیات سے کسی بھی قسم کے آلات حرب و ضرب برآمد نہیں ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ کی یہ عظیم و پرشکوہ تہذیب پورے ایک ہزار برس تک بڑی شان و شوکت اور آن بان سے زندہ رہی۔ پھر کچھ معاملہ ایسا ہوا، جس کی وجہ سے اس شہر بے پناہ کی رونقیں اور پرہجوم بازار، ایک بھولا بسرا خواب بن کر رہ گئے اور دراوڑوں کے دور کا خاتمہ ہوا۔ اس عظیم دور کے خاتمے کے مختلف عوامل بیان کیے جاتے ہیں ،جن میں بارش کی سالانہ اوسط کی کمی، دریائے سندھ کا رخ بدلنا وغیرہ شامل ہیں، لیکن جس چیز نے دراوڑوں اور موہن جو دڑو کی تباہی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکی، وہ آریائوں کے حملے تھے۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے اس سلسلے میں تاریخ خاموش ہے۔ وادیٔ سندھ کی خاک مشک میں قدرت نے کچھ ایسی تاثیر رکھ دی ہے ،کہ یہ خاک گم ناموں کو نام وری اور فانیوں کو ابد شہرت بخش دیتی ہے۔ اس خاک نے ذروں کو آفتاب، جنگلیوں کو مہذب بلکہ متمدن اور خانہ بدوشوں کو عظیم سلطنتوں کا وارث بنایا ، جب نگر نگر میں کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح، حالتوں کی ہوائوں کے رخ پر آوارہ بھٹکنے والے آیائی اس خطہ ارض میں سکونت پزیر ہوئے، تو ایسی عظیم سلطنتوں کے موجد ٹھہرے ،جن کے نام تاریخ کے افق پر چودھویں کے چاند کی مانند جگمگاتے رہیں گے۔ موہن جو دڑو کے قدیم آثار وادیٔ سندھ کے لیے کسی گوہر نایاب سے کم نہیں، اس ضمن میں حکومت سندھ بالخصوص سندھ کے باسیوں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ قدیم تہذیب کے آثار کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں، ثقافت کے حوالے سے ہر شخص کو اپنی حیثیت اور قد کے حساب سے کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ جس طرح آج ہم پرانی تاریخ و کرداروں کو یاد کررہے ہیں، بالکل اسی طرح آنے والی نسلیں ہمیں یاد کریں کہ ہم نے اپنی دھرتی اور ثقافت کی حفاظت کے لیے کام کیا ۔ ورنہ تاریخ شاہد ہے کہ جو قومیں اپنی تہذیب و تمدن کی حفاظت نہیں کرتیں انہیں تاریخ حرف غلط کی طرح مٹادیتی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں