ستمبر1965ء کی جنگ ...نئی نسل کیا سوچتی ہے!

September 02, 2018
 

ملک بھر میں پاکستان کے53ویں یوم دفاع کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ جہاں پاکستانی قوم فتح کا جشن مناتی ہے وہیں بھارتیوں کے لیے ستمبر کا مہینہ آج بھی یقیناً اتنا ہی تکلیف دہ ہوگا جتنا کہ 1965ء میںتھا۔ 6ستمبروہ تاریخ ساز دن ہے، جب پوری پاکستانی قوم بھارت کے ناپاک عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی۔ اس دن فوج کے جوان جہاں سرحدوں پردشمن کے حملوں کا ڈٹ کرمقابلہ کررہے تھے تو وہیںگھروں میں مائیں بہنیں مصلّے بچھائےان کے لیےدن رات کی پروا کیے بغیر دعاگو تھیں۔ ایک طرف عمررسیدہ باپ کےکانپتے ہاتھ گھر میں خندق کھودتے دکھائی دے رہے تھے، تو دوسری طرف فنکاروں گلوکاروں کے الفاظ اور نغمے جوانوں کا لہو گرما رہے تھے، غرض یہ کہ اس جنگ میں وطن عزیز کا ہر فردقربانی دینے کو بے قراراور ملک کی خاطر جذبۂ شہادت لیے پر جوش تھا۔ جنگ چلتی رہی اور وطن عزیز کی حفاظت پر مامور شہیدوں اور غازیوں کے کارنامے قوم کے سامنے آتے گئے اور بالا ٓخر کامیابی ہمارا مقدر ٹھہری۔

ملکی تاریخ میں 6ستمبر کی اہمیت نہ کبھی کم ہوئی اور نہ آئندہ ہوگی کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو کبھی اپنے ہیروز کو نہیں بھولتی۔ ان تمام شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہر پاکستانی یہی کہہ رہا ہے کہ’’ ہمیں پیار ہے پاکستان سے۔۔ہمیں پیار ہے پاکستانی افواج سے‘‘۔ آج بھی وطنِ عزیز کا ہر فردملک کے دفاع کی خاطرپاکستانی افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔ ملک کے دفاع میں کردار ادا کرنے کے جذبے سے سرشار کچھ طلبہ کی رائے ہم آج قارئین سے شیئر کرنے جارہے ہیں، جو 1965ء کی جنگ میںقربانیاں دینے والے ان تمام ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے دشمن کے گھمنڈ کو خاک میں ملا دیا اور دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی۔

٭جنگ ستمبر کا خیال ذہن میں آتے ہی یہ خواہش بھی درآتی ہے کہ کاش میں بھی اس وقت پاک فوج میںہوتا اوردشمن کےخلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتا۔ ملک بننے کے بعد، صرف 18سال کے مختصر عرصے میںناقابل یقین کارنامے انجام دینا بلاشبہ ہماری غیور اور جذبوں سے لبریز فوج کا ہی خاصہ تھا، جس کی دنیا بھی معترف ہے۔ آج بھی دنیا کے عالمی مقابلوں میں پاکستانی افواج کاسرِ فہرست آنا اس بات کی غمازی کرتاہے کہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں جب تک جذبہ حب الوطنی زندہ ہے، ہمیںشکست دینا تو درکنار کوئی طاقت ہمیںللکارنے کا سوچ بھی نہیںسکتی۔ (شیخ فراز احمد ،جامشورو یونیورسٹی)

٭یہ بات صحیحہےکہ امن قائم رکھنے کیلئے جنگ بھی ناگزیر ہو جاتی ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہےجب سرحدوںکی حفاظت مضبوط ہاتھوںمیں ہو۔ اس معاملے میںہم بہت خوش نصیب واقع ہوئے ہیںکہ ہماری عسکری فوج دنیا کی بہترین افواج میںسے ایک ہے اور اس میںہمیںشک نہیںہونا چاہئے کہ ہمارا دشمن ہم سے بھلے کئی گنا طاقتور ہی کیوںنہ ہو، ہمارے جذبۂ ایمانی کے سامنے ٹھہرنہیں سکتا۔ میںپاک افواج کے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہوں، جن کی قربانیوںکے طفیل یہ وطن قائم و دائم ہے اور دعاہے کہ یہ ہمیشہ سلامت رہے، آمین۔ (ماہ نور نظامی، جامعہ کراچی )

٭ 1965ء کی جنگ میں افواج پاکستان نے جس بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا وہ ہم نوجوانوں کیلئے ایک مثال ہے۔ ہمارے بڑے بتاتے ہیں کہ جب مختلف محاذوں پر افواج ِپاکستان کی کامیابیوں کا بتایا جاتا تھا تو وہ جذبۂ حب الوطنی سے سرشار ہوجاتے تھے اور یہی حال ہمارا بھی ہے۔ جب بھی 1965ء کی جنگ کا ذکر آتا ہے تو بہادری کی داستان ہمارا لہو گرما دیتی ہے اور ہمیںفخر ہوتا ہے کہ ہم ایسے ملک کے باشندے ہیںجس کے سپوتوں نے اپنے خون سے اس مٹی کی آبیاری کی ہے۔ ہم اپنی افواج سے یہی توقع کرتے ہیں کہ ماضی کی طرححال اور مستقبل میں بھی وہ ملکی دفاع کے لیے ایسے ہی کارہائے نمایاں انجام دیتی رہیں گی اور وطنِ عزیز کی حفاظت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دیںگی۔ (صہیب حسن، علماءیونیورسٹی)

٭بس ایک ہی خواہش ہے کہ میں رہوں نہ رہوں میرا ملک پاکستان رہے، کاش میرا وجود بھی اتنا خوش قسمت ہوتا کہ میں 1965ء کی جنگ میں اپنے ملک پاکستان کی خاطر لڑتے ہوئےشہید یا غازی ہوتا۔ میں1965ء کی جنگ میں پاک افواج کے شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوںاور دعاگو ہوں کہ میرا پروردگار میری افواج کی شان وشوکت ہمیشہ قائم ودائم رکھے،آمین۔(یاسر عباس، فیڈرل اردو یونیورسٹی)

٭6ستمبر 1965ء کی جنگ وہ عظیم جنگ تھی، جس میں پاکستانی قوم کو اپنے سے کئی گنا بڑی ہندوستانی فوج کا سامنا تھا۔ اس عظیم جنگ میں پاکستانی افواج نے متحد ہوکرجس عزم وحوصلہ اور جواں مردی سے ہندوستانی فوج کےناپاک عزائم خاک میں ملائے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ بحیثیت طالب علم اس عظیم جنگ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اتحاد،تنظیم اور یقینِ محکم کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنے قوت بازو اور بہتر حکمتِ عملی سے مشکل حالات میں بھی وطن عزیز کا نام روشن کرسکتے ہیں اور پاکستان کو دنیا کی عظیم قوموں کی فہرست میں شامل کرسکتے ہیں۔(سید محمد طیب رضوی، اقراء یونیورسٹی)


مکمل خبر پڑھیں