خالصتان تحریک کا احیا، احتیاط کی ضرورت

September 04, 2018
 

پاکستانیوں پر باہمی عزت و ذلت کے فتوے لگانے کے بعد اب اپنے گردو پیش کی خبر لینا مزید از حد ضروری ہو گیا ہے۔ انڈیا صرف کشمیر اور اس سے منسلک معاملات میں ہی پاکستان کے حوالے سے واویلا نہیں کر رہا بلکہ کینیڈا اور برطانیہ میں خالصتان کے حامی سکھوں کے اقدامات کو بھی پاکستان کی سازش قرار دے رہا ہے تاکہ طاقت کے زور پر دبائے گئے مشرقی پنجاب اور اس سے جڑے ہوئے علاقوں میں موجود سکھوں کی بے چینی اگر کسی مسلح جدوجہد کا رخ اختیار کرتی ہے تو الزامات کی ساری توپوں کا رخ پاکستان کی جانب کر دیا جائے۔ امریکی تنظیم سکھ

فار جسٹس کے زیر اہتمام لندن میں کچھ دن قبل خالصتان کے حق میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ انڈیا نے اوّل تو برطانیہ پر جولائی میں دبائو ڈالنا شروع کیا کہ وہ اس ریلی کو منعقد ہونے سے روکے۔ برطانیہ نے اس پر بیان جاری کیا کہ برطانیہ میں اظہار رائے اور اس کیلئے اجتماع کی ہر کسی کو اجازت ہے اسلئے اسکو روکنا ممکن نہیں۔ اس ریلی کا مقصد یہ تھا کہ 2020 میں پوری دنیا میں موجود سکھوں کو اس ریفرنڈم سے روشناس کروایا جا سکے کہ جس کا موضوع بھارت سے آزاد خالصتان کا قیام ہے۔ برطانیہ میں سفارتی شکست کے بعد بھارت نے اپنا پرانا ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا کہ اس سب کے پیچھے آئی ایس آئی ہے اور اس کا ایک لیفٹیننٹ کرنل اس کا منصوبہ ساز ہے۔ اسی طرح کینیڈا میں بھی سکھوں کے خالصتان کے حق میں متحرک ہونے کو پاکستان سے جوڑنا شروع کر دیا گیا اور بھارت کا یہی پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف کسی نئی منظم عالمی دنیا میں جاری طرز فکر کی بنیاد ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ صرف بھارت دشمنی ہے اور ایسے تصور کا دنیا میں فروغ پا جانا ہمارے لئے مزید مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ حالانکہ سکھ تاریخ سے واقف یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ برطانوی نو آبادیاتی دور میں سکھوں کی ایک قابل لحاظ تعداد کینیڈا اور امریکہ وغیرہ میں جا بسی تھی اور اس وقت سے ہی وہاں پر وطن کی آزادی کے حوالے سے تحاریک نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ آج سے ایک صدی قبل جو پنجاب میں معروف غدر پارٹی کی تحریک چلی تھی اس کا مرکزی دفتر سان فرانسسکو میں ہی تھا اور جب پہلی عالمی جنگ کے دوران آزادی کی خاطر پوری دنیا کے سکھوں کو اس تنظیم نے پنجاب آنے کی دعوت دی تو کینیڈا ان سکھوں کا مرکز تھا جو پوری دنیا سے پنجاب کا رخ کر رہے تھے اور ان کا مقصد صرف برطانوی سامراج سے آزادی تھی۔ سکھ تاریخ کا دیو مالائی کردار میوا سنگھ بھی کینیڈا میں ہی رہائش پذیر تھا جس نے کینیڈا کی عدالت کے احاطے میں پولیس افسر ہوپ کنسن کو اس لئے قتل کر دیا تھا کہ وہ اپنے پولیس مخبر لیبا سنگھ کو ان قتلوں سے بچانا چاہتا تھا جو اس نے ہوپ کنسن کے ایما پر 5 ستمبر1915ء کو کینیڈا میں سکھوں کے ایک مجمع پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے کئے تھے۔ سکھوں کی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے بھارت سے باہر موجود سکھوں کی اس تحریک کا محرک پاکستان کو قرار دینا درحقیقت صرف الزام تراشی ہے اور کچھ نہیں۔ بھارت عرصے سے ایک تاثر قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ خالصتان تحریک درحقیقت سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی لگائی گئی وقتی آگ تھی جو کہ اب بجھ چکی ہے مگر ان واقعات کے ظہور پذیر ہونے سے ان کا یہ دعویٰ باطل ثابت ہو رہا ہے۔ بھارتی یہ دلیل بھی دے رہے ہیں کہ سکھوں کی نامی گرامی شخصیات جو انڈیا میں موجود ہیں ریفرنڈم 2020ء کے آئیڈیا سے لاتعلق ہیں حالانکہ غدر پارٹی کے وقت بھی سکھوں کی معروف شخصیات تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو پر عمل پیرا تھیں مگر عوام میں جذبات موجود تھے ابھی ریفرنڈم 2020ء دور ہے بھارتی پنجاب اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ سکھ اپنی علیحدہ شناخت کے حوالے سے کتنے پُرجوش ہیں کہ ان کو بھارتی نہ سمجھا جائے۔ اس کی ایک مثال برطانیہ میں مردم شماری کے معاملے میں دیکھنے میں آئی کہ جب سکھوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ان کی شناخت کے لئے مردم شماری فارم میں انڈین کی بجائے سکھ کا علیحدہ خانہ شامل کیا جائے اور اس مطالبے کی گونج اتنی تھی کہ 140برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے اس مطالبے کے حق میں برطانوی محکمہ شماریات کو خط تحریر کر دیا۔ گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کیرولین لوکاس علانیہ خالصتان تحریک کی بھی حمایت کر رہی ہیں جبکہ لیبر پارٹی کی پریت کور گل نے بھی مخالفت سے اعتراض کیا ہے۔ اگر بھارت پاکستان کی جانب انگلی نہ اٹھاتا تو پاکستان کے لئے بھی یہ ممکن تھا کہ وہ بھارت میں جاری دیگر علیحدگی پسند تنظیموں کی مانند ان معاملات سے بھی صرف نظر کر دیتا۔ مگر اب اس حوالے سے بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ احتیاط اوّل تو صرف بھارت کے ساتھ ہی کی جائے کہ وہ اس حوالے سے دنیا میں کیا شور مچاتا پھر رہا ہے۔ دوئم عالمی برادری اس شور کے اثرات کو کیسے دیکھ رہی ہے اور سوئم سکھ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ خیال رکھنا چاہیے کہ مغلوں کے عہد سے 1947ء کے خون آشام واقعات تک سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک کشیدگی کی فضا قائم رہی۔ اس کا آغاز مغلوں کے ہاتھوں سکھ گروئوں پر مظالم سے ہوا جس کے نتیجے کے طور پر سکھ سردار بندہ سنگھ نے مسلمانوں کیخلاف مظالم کی ایک تاریخ لاہور سے سرہند تک اپنی تلوار سے تحریر کر ڈالی ۔ مجیب الرحمٰن شامی اور عبدالرئوف طاہر نے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جس میں ، میں بھی موجود تھا اس نشست میں سعود سحر بتا رہے تھے کہ میں سوچتا تھا کہ 1947ء میں سکھ اتنے متشدد کیوں ہو گئے تھے لیکن یہ معمہ تب حل ہوا جب میں نے پنجہ صاحب میں موجود تصاویر کی گیلری میں وہ سینکڑوں تصاویر دیکھیں کہ جن میں سکھوں کا قتل عام یا مغلوں سے انکی لڑائی دکھائی گئی کہ جنکے نتیجے میں عام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں لقمہ اجل بنے۔ پھر معلوم ہوا کہ 1947میں غصے کو پورا عروج حاصل تھا۔ ان تلخ واقعات کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ 1984میں ہوئی سکھ نسل کشی اور گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کے واقعات سے سکھوں کے مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے نظریے میں ایک مثبت تبدیلی وقوع پذیر ہو گئی۔ درمیان میں ایک سابقہ وزیر داخلہ کے غیر ذمہ دارانہ اقدام نے ممکن ہے کہ بھارتی حکمرانوں کیلئے تو انکے دل میں نرم گوشہ پیدا کر دیا ہو مگر سکھوں کیلئے ایک نئے تکلیف دہ واقعہ کا اضافہ ضرور کر ڈالا۔ مگر پھر بھی سکھوں کا پاکستان کے حوالے سے تصور اس درد کے باوجود مثبت ہی رہا۔ نہایت احتیاط سے کسی دوسرے ملک میں جاری شورش سے پاکستان کوسوں دور رہے اور نہایت احتیاط کہ کسی قوم میں موجود مثبت جذبات ہمارے لئے منفی نہ ہو جائیں۔


مکمل خبر پڑھیں