جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار

September 06, 2018
 

دونمایاں اپوزیشن جماعتوں پی ایم ایل(ن) اورپی پی پی کو 25جولائی کےالیکشن اورپاکستان تحریک انصاف اوروزیراعظم عمران خان کوآگےبڑھنےدینےکےبعدسےکی گئی غلطیوں سے ابھی بہت کچھ سیکھناہے۔ صورتحال سےاچھا فائدہ اٹھانے کا کریڈیٹ حکمران جماعت کو بھی جاتا ہے۔ اپوز یشن کے اختلافات حکومت اورعمران کیلئےنعمت کی طرح ثابت ہوئے۔ کسی بھی جمہوریت میں اپوزیشن کاکردا ر حکومت کی خامیوں پرنظررکھنا،قانون سازی میں اپنی رائے دینا اور حکمران جماعت اورحکومت کومشکلات میں ڈالناہوتاہے۔ موجودہ اپوزیشن بڑی بھی ہے اور اس میں کئی بڑے اچھے پارلیمنٹیرینزہیں جو اپوزیشن کاہنر جا نتےہیں۔ حکمران پی ٹی آئی کےپاس اپوزیشن کا22 سالہ تجربہ ہےاورجس طرح یہ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، وہ جانتی ہے کہ کس طرح خود کی اصلاح کرنی ہےاورمعاملات سے کیسے نمٹناہے۔ عمران انھیں اخلاقی میدان میں چیلنج کررہےہیں کیونکہ ان کی حکومت ایسی تمام زیرِالتواانکوائریاں دوبارہ شروع کرنےلگی ہیں جو مبینہ طورپرپی ایم ایل (ن)اورپی پی پی کےدورکی کرپشن سےمتعلق ہیں۔ یہ ہی وجہ ہےکہ وزیراعظم نےاپنےمشیراورسابق پی پی پی رہنمابابر اعوان کومستعفیٰ ہونےاورنیب ریفرینس کاسا منا کر نے کا کہا ہے ۔ تینوں ’اپوزیشن کےکردار‘سے متعلق جانتے ہیں۔ پی ایم ایل(ن) کے پاس حکومت کا وسیع تجربہ ہےلیکن جنرل (ر)پرویز مشرف کے نوسال کے دوران وہ بھی اپوزیشن کاہنرسیکھ چکےہیں اوروہ بھی اسٹیبلشمنٹ کوچیلنج کرنےکا، یہ وہ سیاست ہے جو پی پی پی نےکی تھی اورانھوں نےاس کی بھاری قیمت بھی چکائی۔ اپوزیشن کی سیاست ان دنوں مخصوص اصولوں کی بجائےذاتی اناکےگردگھوم رہی ہے۔ شہبازشریف اور چو ہد ری اعتزاز احسن کی اپوزیشن بالتر تیب کسی اصول پرمبنی نہیں تھی بلکہ ذاتی باتوں اورکمنٹس پرمبنی تھی۔ دونوں اپنےماضی سےسیکھ سکتےتھےجیساکہ ایسے حالات جس میں مرحومہ بےنظیربھٹواورنوازشریف ’چار ٹر آف ڈیمو کریسی‘ پرمتفق ہوئےتھے۔ پی پی پی نےماضی میں ایسے لوگوں کوجگہ دی جنھوں نےبراہِ راست یاغیربراہِ راست طورپرذوالفقارعلی بھٹو کےعدالتی قتل میں کردار ادا کیاتھا۔ آج پی پی پی اورپی ایم ایل(ن)دونوں کا دفاع کسی اہم اصول کی بجائےمحض بیانات اورریمارکس سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ اپوزیشن2013کی پی ٹی آئی کے مقابلے میں تعدادمیں مضبوط نظر آتی ہے، لیکن انھوں نے حقیقی معنوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف کومشکل وقت دیا۔ یہ دیکھنااچھا ہے کہ دونوں شہباز شریف اور بلاول بھٹو گزشتہ چند دنوں میں جوکچھ ہوا اسےبھولنےاور آگے بڑھنے پرراضی ہوگئے۔ کوئی بھی اپوزیشن اگرقریب آنا چاہتی ہے توان کیلئے آگے بڑھنے کاراستہ ’معاف کرنے‘میں ہے، یہ ایسی چیز ہے جو موجودہ وقت دو اہم اپوزیشن جماعتوں میں نظر نہیں آتی۔ اگر وہ 25جولائی کے بعد متحد ہوجاتے تو وہ پی ٹی آئی اور اس کے رہنما عمران خان کومرکز اور پنجاب میں مشکل میں ڈال سکتےتھے۔ لیکن دونوں ہی سابق صدر آصف زرداری اور شہباز شریف ایک دوسرے کے خلاف نظر آئے اور آخر میں دونوں ہار گئے۔ منگل کوہونےوالے صدارتی انتخابات اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات تھے جہاں تین میں سے صرف ایک امیدوار اور پارٹی جیتنے کیلئے پُرا عتماد تھے اور وہ جیت کیلئےکوئی دعویٰ بھی نہیں کررہے تھے۔ یہ سچ ہے کہ متحد اپوزیشن بھی منتخب صدر ڈاکٹرعارف علوی کو ہرا نہیں سکتی تھی لیکن یہ بالکل ’والک اوور‘والی صورتحال نہ ہوتی اور پی ٹی آئی کو اپنے اتحادیوں ایم کیوایم(پاک)، بلوچستان نیشنل پارٹی، اور دیگر آزاد اراکین کی جانب سے’ صدارتی ووٹ‘مشکل صورتحال کا سامناہوتاہوتا۔ اپوزیشن جماعتیں نے آغاز اچھا کیا تھا جب وہ پہلی بار الیکشن کے فوری بعد ملی تھیں۔ ان کے درمیان پہلااختلاف حلف لینے پرتھاکہ اگر وہ حلف نہ اٹھاتیں تو اس سے جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا، یہ اختلاف اصول پرمبنی تھا۔ لہذا پی پی پی نے خاص طورپر وہ ہی موقف اختیار کیا جو 2014میں کیاتھا، اور دیگر جماعیتں بشمول پی ایم ایل(ن) اور ایم ایم اے نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ لیکن پھر پی پی پی ٹریک سےاتر گئی جیسےانھوں نےبلوچستان میں سینٹ الیکشن اور چیئرمین سینٹ کے الیکشن سےقبل کیاتھا۔ بعد میں وہ اصولوں پر متفق ہوگئے جب انھوں نے فیصلہ کیاکہ کس پارٹی کو سپیکر، ڈپٹی سپکیراور وزیراعظم کیلئے سپورٹ کرنا ہےلہذا پ پی پی اور پی ایم ایل(ن) نے ’یوٹرن‘ کیوں لیا۔ جب یہ فیصلہ ہوچکا تھاکہ پی پی پی پی پی پی سپیکر کیلئے امیدوار نامزد کرےگی، ایم ایم اےڈپٹی سپیکراور پی ایم ایل(ن) وزیراعظم کیلئے امیدوار نامزد کرےگی، ناموں کی تفصیل میں جائےبغیر پی پی پی ، پی ایم ایل(ن) کے نامزد کردہ امیدوار سے کیوں پھر گئی جبکہ پی ایم ایل اور ایم ایم اےنے سید خورشید شاہ کو سپیکرکیلئے سپورٹ کیا اور پی پی پی کیا اور پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) نے ڈپٹی سپیکرکیلئے ایم ایم اےکے امیدوار کو ووٹ دیاتھا۔ پی پی پی کی جانب سے شہبازکےنام پرآخری لمحے میں پیچھے ہٹ جانےکےباعث اپوزیشن کوپہلانقصان پہنچا۔ تاہم پی ایم ایل(ن) دوبارہ سوچ سکتی تھی کیونکہ وہ سب نتیجہ جانتے تھے اور شہباز پہلے ہی اپوزیشن لیڈرکاعہدہ حاصل کررہے تھے۔ لیکن پی پی پی کے پاس یوٹرن لینے کیلئے کمزوردفاع تھا اور ان کے رہنما خود جانتےتھے کہ یہ کچھ نہیں ہے سوائے ’ذاتی ‘وجہ کے۔ زرداری ہارتے نہیں اگر وہ بھول جاتے جو کچھ شریف برادران نے ان کے بار ے میں کہاتھا۔دوسری جانب شہباز شریف کو بھی تسلیم کرلینا چاہیئےتھااورماضی کے اپنےذاتی ریمارکس پرافسوس کرناچاہیئےتھا جیساکہ نواز شریف نے 2006میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیاتھا۔ انھوں نےاپنی غلطی تسلیم کی تھی اور کس طرح اسٹیبلشمنٹ نے انھیں استعمال کیا یہ بھی تسلیم کیا۔ بے نظیر نے بھی لچک دکھائی اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اسی طرح پی ایم ایل(ن) کی جانب سےبطورصدرچوہدری اعتزاز احسن کے نام کی مخالفت کسی اصول پر مبنی نہیں تھی بلکہ بیگم کلثوم نواز کے خلاف ان کے ذاتی ریمارکس پر مبنی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف کے آصف زرداری کے خلاف اور اعتزاز احسن کے بیگم کلثوم نواز کے خلاف دیئےگئے ریمارکس برے تھے لیکن ہماری سیاست میں ہمارے رہنما زبان پر بمشکل ہی کنٹرول رکھ پاتے ہیں۔ پی ایم ایل(ن) یہ بھی سوچ سکتی تھی کہ جو کرادار وکلاءتحریک کےدوران اعتزاز احسن نے اداکیاتھا اور ماضی میں انھوں نے نوازشریف کی حمایت بھی کی تھی اوریہ سب انھوں نے اپنی پارٹی کی لیڈرشپ کی قیمت پرکیاتھا۔ دونوں جماعتیں اتفاق رائےکرسکتی تھی اگر پی ایم ایل(ن) کے رہنما پرویز رشیدکابیان حالات کو بدسے بدترنہ کرتا کیونکہ کوئی بھی پی ایم ایل(ن) کے’نرم مزاج‘ کےسینیٹرسےاس طرح کی ’سخت شرط‘ کی امیدنہیں کررہاتھا۔ لہذا اگرکوئی پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) کی جانب سے پیش کیےگئے دفاع کودیکھے تو یہ بہت کمزور لگتے ہیں کیونکہ ایک بار آپ ایک دوسرے کی حمایت پرراضی ہوجاتے ہیں تو یہ پارٹی پر چھوڑ دیاجاتا ہے اور ایسا نہیں ہوا۔ جب مرحومہ بے نظیر بھٹو نے’جمہوریت سب سے بڑاانتقام ہے‘ کی اصطلاح استعما ل کی تھی، تو ان کے مخالفین نے اسے اصولوں پر سمجھوتوں کی سیاست قراردیا تھا۔ جب انھوں نے نواز شریف کے ساتھ ’چارٹرآف ڈیمو کریسی‘ پراتفاق کرلیاتونقادوں نے اسے فرینڈلی اپوزیشن کیلئے چارٹر قراردیاتھا کیونکہ دونوں کے مفادات کونقصان پہنچاتھا۔ لیکن اگر آپ چارٹرآر ڈیموکریسی کی دستاویز پڑھتے ہیں تو اس سے آگے بڑھنے کا راستہ ملتا ہے، نہ صرف پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) کیلئے بلکہ تمام حزبِ اختلاف اور جماعتوں کیلئے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں کوفیصلہ کرنا ہوگا کہ انھیں کس قسم کا کردارادا کرنا ہے ۔ کارڈزان کے ہاتھ میں ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ کشمکش کاشکار ہیں کہ ان کارڈز سے کس طرح کھیلنا ہے۔سیاست میں وقت اہم ہوتا ہے اور دونوں حکومت اور اپوزیشن پارٹیز کے پاس کارڈز کھیلنے کاکافی وقت ہے، بس انھیں پتہ ہونا چاہیئےکہ کس طرح اور کب کھیلناہے۔


مکمل خبر پڑھیں