ورزش نہ کرنیوالوں کو سرطان اور دیگر امراض لاحق ہونیکا خطرہ

September 10, 2018
 

Your browser doesnt support HTML5 video.

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں صحتمند زندگی گزارنے کیلئے لوگوں کو متحرک کرنے میں بہت کم کامیابی حاصل ہوئی ہے اور زیادہ آمدن والے ممالک کے عوام سست اور آرام طلب ہے۔

عالمی ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کی ایک تہائی آبادی یعنی ایک ارب 40 کروڑ افراد ضرورت کے مطابق جسمانی ورزش نہیں کرتے۔ جسمانی ورزش نہ کرنے کے سبب انھیں امراض قلب، ذیباطیس اور مختلف نوعیت کے سرطان لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گو کہ سنہ 2001کے مقابلے میں اب صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے لیکن ابھی بھی عوام کو ورزش کی جانب مائل کرنے کی ضرورت ہے۔

زیادہ آمدن والے دنیا کے امیر ممالک کے عوام زیادہ سست ہیں جبکہ ایشیا کے دو خطوں کے علاوہ دنیا بھر کی خواتین بہت کاہل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر کے 168ممالک میں سے 358افراد کو اپنے سروے میں شامل کیا۔ سروے کے مطابق زیادہ آمدن والے ممالک جیسے امریکہ اور برطانیہ میں سنہ2001 میں غیر متحرک افراد کی تعداد 32 فیصد سے بڑھ کر اب 37 فیصد ہو گئی ہے جبکہ کم آمدن والے ممالک میں یہ شرح 16فیصد پر برقرار ہے۔

اس جائزے میں اُن افراد کو غیر متحرک قرار دیا گیا ہے جو ہفتے میں75 منٹ سخت یا تقریباً ڈھائی گھنٹہ متعدل ورزش نہیں کرتے ہیں۔ جرمنی اور نیوزی لینڈ میں ورزش کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ سست ہیں لیکن مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کی خواتین دیگر ایشیائی اور امیر مغربی ممالک کے مقابلے میں متحرک ہیں۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ ان خواتین کے زیادہ متحرک ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے بچوں کی نگہداشت کی زیادہ ذمہ داریاں اور سماجی رویے جن کی وجہ سے وہ زیادہ متحرک ہوتی ہیں۔ برطانیہ میں سنہ 2016 میں ورزش نہ کرنے کی شرح36فیصد تھی جن میں 32فیصد مرد اور 40فیصد خواتین ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ آمدن والے ممالک میں آرام دہ نوکریاں، مشاغل اور گاڑیوں پر آمدورفت کی وجہ سے آرام طلبی بڑھی ہے۔ کم آمدن والے ممالک میں مشکل نوکریاں اور ملازمت پر جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی وجہ سے لوگ زیادہ متحرک ہیں۔ وہ ممالک جہاں کے عوام سب سے کم ورزش کرتے ہیں۔

کویت 67فیصد سعودی عرب 53 فیصد عراق 52فیصد وہ ممالک جہاں کے عوام سب سے کم سہل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے انفراسٹکچر کو فروغ دینا چاہیے جس میں کھیل، سائیکلنگ جیسی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔


مکمل خبر پڑھیں