زمین کی پرانی کہانی

September 12, 2018
 

احمد آفتاب

کیا حال ہیں پپو؟۔۔۔

بدبو کے ناقابل برداشت گرم بھپکے کے ساتھ اس کی غراتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی تو میں اچھل پڑا۔

اپنے کلین شیو چہرے سے صرف چند انچ دور، اس کا بالوں سے بھرا چار فٹ چوڑامنہ دیکھ کر میں بوکھلا گیا تھا۔

وہ تیس فٹ اونچی گردن کو نیہواڑے، میری طرف موٹی موٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

میرے ہاتھ کانپنے لگے تو پلیٹ میں چائے چھلک کر گرگئی۔ وہ زور سے ہنسا۔ پھر خوشی میں گُرزنما دونوں پاؤں اٹھا کر زمین پر مارے تو زوردار دھمک سے زمین لرزگئی اورمیں کرسی سمیت الٹ کر پیچھے جاگرا۔ پلک جھپکتے میں میرے زمین آسمان ایک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ فضا میں ہر طرف گردوغبار چھا گیا تھا۔ میرے ہاتھ سے چائے کی پیالی چھوٹ کر دور جاپڑی تھی۔

اس کی ہنسی کیا تھی۔ گویا چٹان کی گڑگڑاہٹ تھی جس کی گونج سے پاس ہی لگے درخت پر اونگھتے پرندے بھی ہڑبڑا کر اڑگئے تھے۔ چند لمحوں کے اندر،بے جان ماحول میں افراتفری پھیل گئی تھی۔

’کیا بکواس ہے یار؟‘ ۔۔۔ میں چلایا اور جلدی سے اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑے ۔ پھرجھینپ کر آس پاس دیکھا۔ دور کھڑی ایک لڑکی منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی۔ ’تمہیں دو کروڑ سال ہوگئے ہیں زمین پر۔ اب تک جانور ہی ہو۔ کچھ تو تمیز سیکھ لو‘۔

میں نے طیش میں آکر مکا گھمایا جو اس کے منہ سے پچیس فٹ دور سے گزر گیا۔ وہ اورزورسے ہنسنے لگا۔ آسمان میں کئی ہزار ریلوے انجنوں کی گرج پھیل گئی۔

’تمہیں بھی تو بیس لاکھ سال ہوگئے ہیں پپو سیدھے کھڑے ہوئے اپنے پاؤں پر’۔ وہ شوخی سے بولا۔ ’تم بن گئے کیا تمیز دار؟‘۔

’تم مرچکے ہو۔ سمجھے’۔ میں چیخا۔ ’دو کروڑ تیس لاکھ سال سے تمہارا نام و نشان بھی مٹ چکا ہے۔ ہم نے تمہاری ہڈیاں کھود کر نکالی تھیں بلوچستان سے۔ تمہیں دریافت کیا تھا دوبارہ۔ ریمیمبر۔ وی ڈسکورڈ یو۔ اور ہم نے ہی تمہاری کھال میں بھُس بھر کر یہاں کھڑا کیا ہے۔ اب ہم تمہیں ٹکٹ لگا کر دیکھتے ہیں، میوزیم میں۔ تم ہو کیا چیز ہمارے سامنے!’۔

’عزت کیا کرو میری۔۔۔ سمجھے‘۔۔۔ وہ کسی فلاسفر کی طرح بولا۔ ’میں نے تمہارے وطن کو وہ اعزاز بخشا ہے جو دنیا میں کم ہی ملکوں کو نصیب ہے۔ زمین پر حیات کا اتنا مکمل اور عظیم ثبوت کسی اور مقام پر نقش نہیں ہے‘۔میرے اشتعال دلانے پر بھی اس کی مسکراہٹ کم نہ ہوئی تھی۔ ’میں تمہارے آباء و اجداد سے کئی کروڑ سال پہلے اس زمین پر رہتا بستا تھا ۔۔۔ یہیں ۔۔۔ جسے تم اب بلوچستان کہتے ہو۔ لیکن تب یہ جگہ ایسی نہیں تھی ۔۔۔ تب یہاں سمندر تھے۔ دریا تھے۔ گھنے جنگل تھے۔ اتنے گھنے کہ تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ تب ان علاقوں میں میری حکمرانی تھی۔ ظاہر ہے، اپنی مملکت سے ہی میری ہڈیاں ملیں گی نا تمہیں۔‘ وہ گردن اکڑا کر بولا۔ ’اور مسٹر۔ ہسٹری غلط نہ کرو۔ تم نے نہیں۔ مجھے انگریزوں نے ڈھونڈا تھا۔ 1910ء میں بلوچستان سے، ڈیرہ بگٹی سے۔ انہوں نے ہی میرا نام رکھا تھا۔ بلوچستان کا دیو۔ بلوچی تھیریم‘۔

’تم کہاں سے دیو ہوگئے؟۔‘ میں نے کہا۔ ’اتنے سے تو ہو‘۔

’تمہاری غلط فہمی ہے‘۔ وہ پھر ہنسا۔ ’’تم تو بہت تیر مار کر اب چھ فٹ تک پہنچے ہو۔ میں تیس فٹ اونچا تھا جب معدوم ہوا تھا۔ یہ مت بھولو کہ میں تب سے آج تک ۔۔۔ زمین کا سب سے بڑا جانور ہوں۔ مجھ سے بڑا میمل زمین پر کوئی نہیں گزرا‘۔

اس نے اپنی تھوتھنی کو آگے نکالا اور مجھے منہ چڑایا۔ اس سے پہلے کہ میں سنبھلتا،اس نے اپنی لمبی سی زبان نکال کر میرے چہرے پر پلک جھپکتے میں پھیر دی۔ چالیس کلو وزنی زبان کا تھپڑ لگنا تھا کہ میں پھر ایک طرف لڑھک گیا۔ چپچپے لیس دار لعاب سے میرے پپوٹے بھرگئے اور منہ غلاظت سے لتھڑ گیا۔ میری حالت دیکھ کر وہ خوشی سے دیوانہ ہوگیا۔ اس نے دونوں پاؤں اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخنے شروع کردیے اور گول گول گھوم کر ناچنے لگا،مجھے یوں لگا گویا زلزلہ آگیا ہو۔ زمین کی دھڑدھڑاہٹ نے میرے کان پھاڑ دئیے۔ ناک میں دھول بھر گئی اور گلا گرد سے اٹ گیا۔ میں نے کھڑے ہونے کی کوشش ترک کردی اور مٹی پر ہی بیٹھ گیا۔

مجھے معلوم تھا وہ سچ کہہ رہا ہے۔ بیس ہزار کلوگرام وزن کا تیس فٹ اونچا اور پچاس فٹ لمبا دیوہیکل گینڈے جیسا چوپایہ ،جو ایک دن میں دو ٹن خوراک استعمال کرتا تھا، کسی ایسے مقام پر ہی ہزاروں برس زندہ رہ سکتا تھا جہاں اسے کھانے کے لیے وافر چارہ اور سبزہ میسر ہو۔ اور بلوچستان سے بہتر کون سی جگہ ہوسکتی تھی۔ اپنے ہیبت ناک جثے کے باوجود، وہ گوشت خور نہیں تھا اور درخت کے پتوں اور جھاڑیوں پر گزارا کرتا تھا۔ اسے کم نظر آتا تھا اور اس کی طبعیت امن پسند تھی۔ بڑی حد تک وہ شرمیلا سا تھا،الگ تھلگ رہتا تھا۔ جب ہی تو میں بھی اس کے سامنے اب تک بیٹھا تھا، کوئی اور ہوتا تو کب کا اس کے معدے میں پس رہا ہوتا۔

’اچھا ، اگر اتنا ہی جانتے ہو تو بتاؤ تم مرے کیوں تھے؟۔ تمہاری نسل کیوں ختم ہوگئی یہاں سے؟‘۔ میں نے اسے کریدا۔

’ہائے ہائے ۔۔۔ کیا پوچھ لیا تم نے مسٹر کمیونی کیٹر،لو اس پر ایک شعر سنو ۔۔۔ موت سے کس کو رستگاری ہے۔ آج ہم کل تمہاری باری ہے‘۔ میں نے دیکھا، اس نے دکھ سے اپنی گردن جھکالی۔ وہ بیٹھ نہیں سکتا تھا ورنہ شاید اس لمحے ضرور بیٹھ جاتا،اس کے پاؤں میں جوڑ نہیں تھے، اس لیے پاؤں موڑ نہیں سکتا تھا۔ اپنی پیدائش سے موت تک اسے کھڑے رہنے کی مشقت ملی تھی۔ اور پھر پاؤں بھی کیسے، کسی بلندوبالا سنگی ستون جیسے، کھردرے اور موٹی جھریوں بھری کھال سے بنے۔ ہاتھی کے پاؤں دیکھے ہیں نا آپ نے،سمجھ لیں اس سے دگنے موٹے اور اونچے۔

’یہ لمبی کہانی ہے۔ سنو گے؟۔ وہ اشتیاق سے بولا۔

’سنادو‘۔ میں نے بے دلی سے کہا۔ اب اتنے گندے حلیے میں یہاں سے اٹھ کر جانے کا ویسے بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

’ٹھیک ہے‘۔ اس نے خوش ہوکر اپنے نتھنوں سے ایک لمبی سی پھونک نکالی اور بولنے لگا۔ ’میری کہانی تمہارے تصور سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ آج سے بیس کروڑ سال پہلے شروع ہوئی تھی‘۔ میری آنکھیں حیرت سے پھیلنی شروع ہوگئیں۔ ’تم جسے اب برصغیر کہتے ہو یعنی’’ سب کانٹی نینٹ‘‘ ۔ تب وہ ایک بہت بڑی ٹیکٹونک پلیٹ کا حصہ تھا جس میں جنوبی امریکا، افریقا اور آسٹریلیا تک کے علاقے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ یہ بہت بڑی پلیٹ کئی کروڑ سال تک دھیرے دھیرے سرکتی رہی تھی اور پھر تقریباً چار کروڑ تیس لاکھ سال پہلے اس کا تصادم ایک اور پلیٹ سے ہوا،جانتے ہو اس ٹکراؤ کی شدت کتنی تھی؟‘۔ اس نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے نفی میں سر ہلادیا۔

’اس ٹکراؤ کی شدت اتنی تھی کہ زمین کا بہت سا حصہ، زمین کی گہرائیوں سے نکل کر باہر آگیا اور پھر اتنا اونچا ہوگیا کہ اب تم اسے ہمالیہ پہاڑی سلسلے کے نام سے جانتے ہو‘۔

کیا؟۔۔۔ میں چلا اٹھا۔ ’کیا ہمالیہ کے ہزاروں فٹ بلند پہاڑ اس طرح بنے تھے؟‘۔

’ہاں ۔۔۔ اور ابھی وہ پورے بنے نہیں ہیں، کیونکہ اس ٹکراؤ کی لہر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑ اب بھی بلند ہورہے ہیں۔ لیکن میرے لیے یہ ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوا۔ اس ٹکراؤ سے مقامی سمندر خشک ہوگئے اور کئی سو سال کے لیے بارشوں کا سلسلہ رک گیا، جس کی وجہ سے وہ گھنے جنگل جو صدیوں تک مجھے پناہ دیتے رہے تھے خود بھی ختم ہوتے گئے۔ بلوچستان جو سرسبزوشاداب ہوتا تھا، رفتہ رفتہ بنجر اور بے آب و گیاہ صحراؤں کی سرزمین بنتا گیا، اس کے نتیجے میں مجھے ملنے والی خوراک آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی اور پھر دو کروڑ تیس لاکھ سال پہلے، میری نسل کا آخری جاندار بھی مرگیا‘۔

وہ چپ ہوگیا۔ دکھ سے اس کے نتھنے پھڑ پھڑانے لگے اور حلق سے گھٹی گھٹی غرغراہٹ سنائی دینے لگی۔ ہمارے آس پاس صرف ان پرندوں کی آوازیں گونجتی رہ گئیں جو پھر سے ٹہنیوں پر آکر بیٹھ گئے تھے اور ہماری باتوں پر تبصرے کررہے تھے۔ مجھے اس سے ہمدردی محسوس ہونے لگی۔

’اچھا تو پھر تم یہاں کیسے پہنچے؟ ۔۔ اسلام آباد ۔۔۔ نیچرل ہسٹری میوزیم میں‘۔ میں نے باتوں کا رخ موڑنا چاہا۔

’میں کئی کروڑ سال تک وقت کی گرد میں دبا رہا۔ کسی کو میرے بارے میں خبر نہیں تھی، ہوتی بھی کیسے۔ انسان کو تو خود زمین پر اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے‘۔ اس کی شوخی پھر سے عود آئی۔

دیکھو تم اپنی بات کرو، میں نے جھنجھلا کر کہا۔ ’انسانوں کو بدنام کرنے کے لیے میں خود ہی کافی ہوں۔

اچھا اچھا ۔۔۔ سوری ،وہ مفاہمانہ انداز میں بولا،میں نے تمہیں 1910ء کا تو بتا ہی دیا تھا، تب سر کلائیو فورسٹر کوُپرنے ڈیرہ بگٹی میں میری ہڈیاں تلاش کی تھیں لیکن تب وہ یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ یہ کس جاندار کی ہیںاور صرف میری ہڈیاں ہی نہیں، یہاں اور بھی بہت کچھ تھا یعنی مچھلیاں، مگرمچھ، درخت اور چالیس سے زیادہ ایسے جاندار جو روئے زمین پر اور کہیں دریافت نہیں ہوئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا یہ علاقہ فوسلز کے لیے کسی سونے کی کان سے کم نہیں تھا، جہاں انسانی تاریخ سے قبل کے آثار نہایت محفوظ حالت میں اس طرح موجود تھے کہ محض چند فٹ کی کھدائی سے عیاں ہوگئے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے دستِ قدرت نے صدیوں تک اس خزانے کی خود حفاظت کی تھی،کسی کھوجی کے انتطار میں کہ وہ آئے اور انقلاباتِ زمانہ کی ان نشانیوں کو آشکار کردے۔

واہ واہ۔۔۔۔ واہ واہ ،کیا دلی کی ٹکسال میں ڈھلی اردو کچل ڈالی ہے جہاں پناہ آپ نے اپنے قدیم قدموں تلے‘ میں نے اس کا پھر مضحکہ اڑایا۔

’اچھا اب سنتے جاؤ۔ بیچ میں بولے تو پھر یہ دیکھی ہے نا!‘۔ اس نے مجھے گھورا اور لمبی سی زبان باہر نکالی۔ میں نے ڈر کر اپنے گالوں کو دونوں ہاتھوں سے چھپالیا۔

۱۹۹۰ء میں ایک فرانسیسی ماہر بلوچستان آیا اور اس نے پرانی معلومات کی بنیاد پر پھر سے فوسلز کی تلاش کا کام شروع کیا۔ بدقسمتی سے تب ڈیرہ بگٹی کا علاقہ شورش میں مبتلاتھا۔ سرکاری فورسز اور مقامی قبائلیوں کے مابین شدید لڑائی چھڑ ی ہوئی تھی۔ فرانسیسی ماہر نے اسی دوران میری بہت سی ہڈیاں ڈھونڈ لی تھیں جن سے میرا ایک مکمل ڈھانچہ بنانا ممکن تھا۔ نواب اکبر بگٹی اس وقت زندہ تھے۔ انہوں نے کئی ایسی سائٹس کا معائنہ کیا اور کہا جاتا ہے کہ ملنے والی ہڈیوں کو اپنے ساتھ سات صندوقوں میں بند کرکے لے گئے تھے جو ان کی وفات کے بعد برآمد ہوئے تھے۔میں صندوقوں سے نکلنے والی انہی ہڈیوں سے بنا ہوا ہوں‘‘۔

لیکن تم تو اصلی ہڈیوں سے نہیں بنے ہو؟۔ رائٹ۔ تم تو مجھے فائبر گلاس سے بنے ہوئے لگتے ہو!۔ میں نے پوچھا۔

ہاں۔ تم صحیح کہہ رہے ہو، اس نے سر ہلایا۔ ’ میرا یہ ماڈل اصل کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یعنی اگر تم مجھے دیکھ لیتے تو شاید میں ایسا ہی ہوتا۔

’اووووووکے ‘۔ میرے منہ سے اطمینان کی سانس نکلی، گویا میں جس سے اتنی دیر سے خوفزدہ تھا، وہ محض ایک فائبر گلاس کا کھوکھلا ماڈل تھا۔ مجھے اپنی حماقت پر غصہ آنے لگا۔ لیکن پھرر وہ گھن گرج، آوازیں، لرزش، ۔۔۔ وہ سب کیا تھا۔

’وہ تمہاری اپنی خام خیالی تھی‘۔ مفروضے کا بھرم ٹوٹا تو اس کی آواز کی گرج بھی ختم ہوگئی۔’اسلام آباد میں رہتے ہونا۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں یہاں کے رہنے والوں کے منہ پر لعاب ملنے کے لیے!‘ ۔۔۔

شٹ اپ یار ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ‘۔ میں اب اور اس کی باتیں سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ نیا پاکستان بن چکا اور وہ مجھے پرانی زمین کی کہانیاں سنا رہا تھا۔

جسٹ شٹ اپ یو پری ہسٹورک اینیمل۔ پڑے رہو اس عجائب گھر میں۔ کون جاننا چاہتا ہے تمہارے بارے میں۔ بہت جلد تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔


مکمل خبر پڑھیں