کمزور روپیہ... کمزور معیشت

April 20, 2019
 

میزبان:محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:طلعت عمران

میری نظر میں روپے کی گراوٹ بہت زیادہ ہے، یاد رہے کہ کرنسی کی قدر برآمدات میں اضافے کے لیے کم کی جاتی ہے، لیکن اگر ہم ڈالر 160روپے کا بھی کر دیں، تو ہماری برآمدات نہیں بڑھیں گی،

زبیر طفیل
سابق صدر، ایف پی سی سی آئی

کیوں کہ ہمارے پاس ایکسپورٹ ایبل سرپلس نہیں ہے، اس کے برعکس روپے کی قدر کم ہونے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا،حکومت نے تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے ڈالر مہنگا کیا، برآمدات بڑھانے کے لیے نئی صنعتیں قائم کرنا ہوں گی اور نت نئی مصنوعات تیار کرنا ہوں گی،ہو سکتا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں کوئی صنعتی پالیسی آ جائے، جب تک رئیل اسٹیٹ کو رئیل مارکیٹ ویلیو کے قریب نہیں لے جایا جاتا، معیشت بہتر نہیں ہو گی،برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کو صنعت کاروں آسانیاں فراہم کرنی ہوں گی، حکومت کو چاہیے کہ وہ آیندہ بجٹ میں کوئی ایسی پالیسی لے کر آئے کہ سرمایہ دار رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے بہ جائے انڈسٹری میں سرمایہ کاری کریں،ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لیے تارکینِ وطن پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں

زبیر طفیل

ڈالر مہنگا ہونے کا تعلق معیشت سے ہے، وزرائے خزانہ سے نہیں، جب ہماری برآمدات کم ہوں گی اور درآمدات بڑھیں گی، تو ہمارے روپے کی قدر خود بخود ہی کم ہو جائے گی،

امین ہاشوانی
ماہرِ معیشت /بزنس مین

روپے کی قدر میں کمی ناگزیر تھی،اس کے نتیجے میں ہمارا تجارتی خسارہ 24ارب ڈالرز سے کم ہو کر 18ارب ڈالرز پر آ گیا اور آیندہ دنوں اس کے 12ارب ڈالرز ہونے کی توقع ہے،گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے کے ممالک کی برآمدات بڑھیں، پاکستان کی کم ہوئیں،ہمارے برآمدکنندگان کی مسابقتی سکت ختم ہوگئی ہے،روپے کی قدر مستحکم رکھنے کی اسحٰق ڈار کی پالیسی غلط تھی،ہمیں بچت کی عادت اپنانا ہوگی، برآمدات بڑھانے کے لیے ہمیں ملک میں کاروبار کو آسان بنانا ہو گا اور بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی، تمام ترقی پذیر ممالک نے برآمدات بڑھا کر اپنی جی ڈی پی میں اضافہ کیا، ہماری معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے اور اس کی سرجری کی ضرورت ہے، ڈالر کی قدر میں اضافے سے زیادہ معیشت کا غیر دستاویزی ہونا بڑا مسئلہ ہے، جب ہم اپنی معیشت کو دستاویزی بنائیں گے، تو ہمیں براہِ راست ٹیکسز ملیں گے، بنیادی اصلاحات کے لیے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا

امین ہاشوانی

حکومت کے پاس روپے کی قدر کم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا،معاشی استحکام کے لیے ہمیں مستقبل میں ٹیکس پالیسی وضع کرنا ہو گی اور صنعت دوست پالیسی بنانا ہو گی ، ہمیں آمدنی پر مبنی ٹیکسز بڑھانا ہوں گے،

نسیم بیگ
چیف ایگزیکٹیو، عارف حبیب انوسٹ منٹس

تاکہ معیشت ٹریک پر آئے، ہمیں ڈالر پر توجہ دینے کے بہ جائے اپنی معیشت بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اگر ہم اپنی معیشت کو سدھار لیں، تو ڈالر خود ہی ملک میں آنے لگے گا، اس ملک سے سب سے زیادہ مراعات یافتہ طبقہ ہی پیسہ باہر لے کر گیا، ہم اپنے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر رہے،آئی ایم ایف کوئی نہ کوئی شرط ضرور عاید کرتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ صرف روپے کی قدر میں کمی کی شرط ہو،جوں جوں ہمارا ٹریڈ اکائونٹ اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوتا جائے گا اور برآمدات بڑھنا اور درآمدات کم ہونا شروع ہو جائیں گی، تو روپے کی قدر بھی مستحکم ہونا شروع ہو جائے گی، اس وقت ہماری معیشت آئی سی یو میں ہے اور اسے ٹھیک ہونے میں دو سے تین برس لگیں گے

نسیم بیگ

کم و بیش گزشتہ ایک برس سے روپے کی قدر میں مستقل کمی واقع ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجوہ کیا ہیں اور اس سے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ نیز، ڈالر کی قدر بڑھانے اور روپے کی وقعت کم کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ ان سمیت دیگر سوالات کے جوابات جاننے اور حکومت کو تجاویز دینے کے لیے گزشتہ دنوں ’’ڈالر کی سیاست اور معیشت‘‘ کے موضوع پر انڈس یونی ورسٹی کے کلفٹن کیمپس میں جنگ فورم منعقد کیا گیا، جس میں عارف حبیب انوسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹیو، نسیم بیگ، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر، زبیر طفیل اور معروف کاروباری شخصیت و ماہرِ معیشت، امین ہاشوانی نے اظہارِ خیال کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

انڈس یونی ورسٹی ، کلفٹن کیمپس میں’’ڈالر کی سیاست اور معیشت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ جنگ فورم کا منظر اور گروپ فوٹو، ایڈیٹر جنگ فورم ، کراچی محمد اکرم خان میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں

جنگ :پہلے مسلم لیگ (نون) کی حکومت نے روپے کی قدر کم کی، پھر نگراں حکومت نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کو مزید تگڑا کیا۔ نیز، پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور ایک ڈالر 127روپے سے بڑھ کر 142روپے کا ہو چکا ہے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ کی وجوہ کیا ہیں اور معیشت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

زبیر طفیل :اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں، تو پتہ چلتا ہے کہ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 60سے 62کے گرد گھومتی رہی اور اس وقت کسی کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اگلی حکومت میں ڈالر 110روپے کا ہو گیا اور سابق وفاقی وزیرِ خزانہ، اسحٰق ڈار اسے 98روپے پر لے آئے۔ پھر یہ سلسلہ 105پر آکر رک گیا۔ بعد ازاں، جب ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا، تو بعض برآمد کنندگان نے اپنی ایکسپورٹس میں اضافے کی غرض سے روپے کی قدر گھٹانے کا مطالبہ کیا۔ پھر اسحٰق ڈار کے جانشین، مفتاح اسمٰعیل کے دور میں ڈالر 115روپے کا ہو گیا، جب کہ نگراں حکومت کے دور میں روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی۔ پی ٹی آئی جب برسرِ اقتدار آئی، تو اس وقت ڈالر 122روپے کا تھا، جب کہ اس وقت ڈالر کا باقاعدہ بینک ریٹ 142روپے اور اوپن مارکیٹ میں 145سے 146روپے ہے۔ میری نظر میں آخری گراوٹ بہت زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ کرنسی کی قدر برآمدات میں اضافے کے لیے کم کی جاتی ہے، لیکن اگر ہم ڈالر 160روپے کا بھی کر دیں، تو ہماری برآمدات نہیں بڑھیں گی، کیوں کہ ہمارے پاس ایکسپورٹ ایبل سرپلس نہیں ہے۔ اس کے برعکس روپے کی قدر کم ہونے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا۔ ہماری درآمدات کا حجم کم و بیش 60ارب ڈالرز ہے اور ہماری معیشت تب متوازن ہوتی کہ جب ہماری آمدنی بھی اتنی ہی ہوتی۔ ہماری برآمدات میں 60فی صد حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے اور اس کے بعد چاول اور چمڑے کی مصنوعات وغیرہ کا نمبر آتا ہے۔ اس وقت ہماری برآمدات کا حجم 25ارب ڈالرز ہے اور پاکستانی تارکینِ وطن سالانہ 21ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ یعنی اس وقت ہمیں 14ارب ڈالرز کے شارٹ فال کا سامنا ہے اور ہم یہ کمی کیسے پوری کریں گے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا یا ترسیلاتِ زر بڑھانا ہوں گی یا پھر درآمدات میں کمی لانا ہو گی۔ موجودہ حکومت نے درآمدات کم کرنے کے لیے ڈالر کو مہنگا کر دیا اور اس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا طوفان آ گیا۔ مثال کے طور پر پیٹرول مہنگا ہو گیا، لیکن اگر ڈالر 125روپے کا ہوتا، تو پیٹرول کی قیمت میں 10روپے اضافہ نہ ہوتا۔ اس کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ایسی صورت حال میں کاروباری طبقہ سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے ٹرانسپورٹرز نے اپنی لاگت سے دو سے تین گنا کرائے بڑھا دیے۔ اس کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے اور پھر تاجر نے بھی اپنے نقصان کے ازالے کے لیے اشیا کے نرخ بڑھا دیے، جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ لہٰذا، اتنی زیادہ گراوٹ سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ بنیادی ضرورت کی اشیا مہنگی ہو گئیں۔ اسی طرح حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بھی بڑھا دیں، حالاں کہ اس خطے میں پہلے ہی بجلی اور گیس پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگی ہے۔

جنگ :حکومت کا مؤقف ہے کہ برآمد کنندگان کے مطالبے پر روپے کی قدر گرائی گئی، تاکہ ان کی برآمدات بڑھیں؟

زبیر طفیل :میں اس بات سے قطعاً اتفاق نہیں کرتا اور اس پر بحث کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ برآمدات بڑھانے کے لیے نئی صنعتیں قائم کرنا ہوں گی اور نت نئی مصنوعات تیار کرنا ہوں گی، جب کہ اس وقت تو ملک میں روزگار کے مواقع ہی دستیاب نہیں اور گریجویٹس بے روزگار گھوم رہے ہیں۔

جنگ :روپے کی قدر مستحکم رکھنے کی پالیسی درست تھی یا اسے گرانے کی حکمتِ عملی درست ہے؟

امین ہاشوانی :ہمیں سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ ڈالر مہنگا کیوں ہو رہا ہے۔ اس کا تعلق معیشت سے ہے، وزرائے خزانہ سے نہیں۔ جب ہماری برآمدات کم ہوں گی اور درآمدات بڑھیں گی، تو ہمارا روپے کی قدر خود بخود ہی کم ہو جائے گی۔ جب مسلم لیگ (ن) برسرِ اقتدار آئی تھی، تو اس وقت ہمارا خسارہ 2.5ارب ڈالرز تھا اور جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی، تو یہ 24ارب ڈالرز تک پہنچ رہا تھا۔ یعنی ہمارا دیوالیہ ہونے والا تھا اور ایسی صورت حال میں یہ ہنگامی اقدامات ناگزیر تھے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ برآمدات میں اضافے کے لیے روپے کی قدر کم کی گئی، بلکہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہمارا تجارتی خسارہ 24ارب ڈالرز سے کم ہو کر 18ارب ڈالرز پر آ گیا ہے اور آیندہ دنوں میں اس کے 12ارب ڈالرز ہونے کی توقع ہے۔ یعنی ہم نے اپنی درآمدات میں کمی لائی۔ اس وقت پاکستان کی معیشت مسابقتی نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت کی برآمدات میں 10سے 15فی صد اضافہ ہوا۔ اسی طرح بنگلا دیش اور ویت نام کی ایکسپورٹس بھی بڑھیں، جب کہ پاکستان خطے کا واحد ملک ہے، جس کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی۔ پاکستان کی برآمدات ہمیشہ ایسی نہیں تھیں، بلکہ 2008ء میں یہ 25ارب ڈالرز تک پہنچ گئی تھیں۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ ہماری برآمدات میں کمی کیوں واقع ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری معیشت میں مسابقت کی سکت ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے ایکسپوٹرز کے اربوں روپے کے ری بیٹس پھنسے ہوئے ہیں۔ پھر ہمارے ہاں پیداواری لاگت بھی خطے کے دوسرے ممالک سے زیادہ ہے۔ اسی طرح ماضی میں ہمیں بجلی و گیس کی قلت اور امن و امان کی ناقص صورت حال کا بھی سامنا تھا اور خوف کے مارے یہاں کوئی غیر ملکی خریدار ہی نہیں آرہا تھا۔ ان تمام عوامل کے نتیجے میں ایکسپورٹ کم ہو گئی اور پھر ہماری کرنسی کی قدر بھی گر گئی۔

جنگ :تو کیا روپے کی قدر مستحکم رکھنے کی اسحٰق ڈار کی پالیسی غلط تھی؟

امین ہاشوانی :یہ فیصلہ بالکل غلط تھا۔ انہوں نے اپنی انا کی خاطر روپے کی قدر میں مصنوعی طور پر اضافہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے 26ارب ڈالرز کے قرضے لیے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے ہمیں ملک میں کاروبار کو آسان بنانا ہو گا اور بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ پاکستان اسٹیل ملز، جو کبھی ایک منافع بخش ادارہ تھا، اب بند پڑی ہے۔ اس سرکاری ادارے کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 500ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ آج پی پی اور مسلم لیگ (ن) نعرے لگا رہی ہیں، لیکن انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے کیا کیا۔ اس کے علاوہ ٹیکس ٹو جی ڈی ریشو کی صورت حال بھی آپ کے سامنے ہے۔ 1990ء کی دہائی میں پاکستان ایشین ٹائیگر بننے جا رہا تھا اور اس کا سبب پاکستان کی برآمدات تھیں۔ تب پاکستان کی ایکسپورٹس ملائیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کی مجموعی برآمدات سے بھی زیادہ تھیں۔ تمام ترقی پذیر ممالک نے برآمدات بڑھا کر اپنی جی ڈی پی میں اضافہ کیا، جب کہ ہم درآمدات بڑھنے پر شادیانے بجا رہے ہیں۔

جنگ :کیا ہمیں روپے کی قدر میں بتدریج کمی نہیں کرنی چاہیے تھی، تاکہ ایک دم مہنگائی میں اضافہ نہ ہوتا؟

امین ہاشوانی:آپ کی بات درست ہے۔ روپے کی قدر کم کرنے سے ہماری برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، کیوں کہ ہماری برآمدات کا دائرہ محدود ہے، لیکن اس سے تجارتی خسارے میں کمی واقع ہوئی۔ ہماری معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے اور اس کی سرجری کی ضرورت ہے۔ پھر ماضی میں ہم نے برآمد کنندگان کو سہولتیں بھی نہیں دیں اور ان کے ری فنڈز بھی روکے رکھے، جس کی وجہ سے ان کی مسابقتی سکت ختم ہو گئی۔

جنگ :روپے کی قدر میں کمی کا فیصلہ درست ہے یا غلط؟ نیز، معاشی استحکام کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

نسیم بیگ :دراصل، ہمارے اخراجات ہماری آمدنی سے زیادہ ہیں۔ پھر ہم نے نہ صرف درآمدات پر اپنا انحصار بڑھایا، بلکہ اپنی چلتی ہوئی انڈسٹری کو بھی بند کر دیا۔ اس میں ہماری ٹیکس پالیسی کا بھی بڑا کردار ہے۔ ہماری ٹیکس کلیکشن میں 75فی صد حصہ فکسڈ ٹیکسز کا ہے، جس میں وِد ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں، جب کہ آمدنی پر مشتمل ٹیکس کا حصہ صرف 25فی صد ہے۔ سرمایہ داروں نے ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے اور اپنا روپیہ ذخیرہ کرنے کے لیے زمین خریدنا شروع کی۔ ان کے دیکھا دیکھی جرائم پیشہ افراد نے بھی زمین خریدنا شروع کر دی اور یوں زمین کی قیمت بڑھ گئی۔ پھر صنعت کاروں نے بھی صنعتیں بند کر کے زمینیں خریدنا شروع کر دیں۔ اس کے علاوہ چینی درآمدات کی وجہ سے بھی ہماری صنعتوں کو نقصان پہنچا۔ یہ سلسلہ پچھلے 30برس سے جاری ہے۔ اسد عمر کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ تاہم، معاشی استحکام کے لیے ہمیں مستقبل میں ٹیکس پالیسی وضع کرنا ہو گی اور صنعت دوست پالیسی بنانا ہو گی۔ ہمیں آمدنی پر مبنی ٹیکسز بڑھانا ہوں گے، تاکہ معیشت ٹریک پر آئے۔ ہمیں صنعت کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی، تاکہ ان کی مصنوعات پر آنے والی لاگت کم ہو۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ پھر ہماری درآمدات بھی بہت زیادہ ہیں اور تیل بھی ہم درآمد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے قومی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ اگر ہم خود بچت نہیں کریں گے اور دوسروں سے رقم لے کر سرمایہ کاری کریں گے، تو ہمیں یہ رقم اسے دوبارہ لوٹانا پڑے گی۔ ہم سالانہ 12فی صد رقم بچاتے ہیں، جب کہ ہمیں سالانہ سرمایہ کاری کے لیے 25فی صد رقم کی ضرورت ہے اور یہ خسارہ ہم دوسروں سے رقم لے کر پورا کرتے ہیں۔ ہمیں ڈالر پر توجہ دینے کے بہ جائے اپنی معیشت بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی معیشت کو سدھار لیں، تو ڈالر خود ہی ملک میں آنے لگے گا۔

جنگ :ترسیلاتِ زر کا ہماری معیشت میں اہم کردار ہے، تو کیا ہمیں تارکینِ وطن پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت نہیں؟

نسیم بیگ :ہمیں لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی، تو کوئی سرمایہ کار یہاں آنے کا نام تک نہیں لیتا تھا۔ اسی طرح جب ہم نے ڈالر کو غیر فطری طور پر تھام رکھا تھا، تو تب بھی لوگ ملک میں ڈالرز نہیں بھیج رہے تھے، کیوں کہ انہیں اس کے نتائج کا علم تھا۔

جنگ:کیا مستقبل میں ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہو گا؟

نسیم بیگ :اگر ہمارا افراطِ زر 8فی صد اور امریکا کا 2فی صد ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 6فی صد کا فرق ہے۔ اگر ہمارے ملک میں افراطِ زر میں اضافہ ہوتا رہا، تو ڈالر کی قدر بڑھتی جائے گی۔

جنگ :پی ٹی آئی کو برسرِ اقتدار آئے 9ماہ ہو چکے ہیں۔ کیا یہ حکومت کوئی انڈسٹری پالیسی بنا رہی ہے؟

زبیر طفیل :ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں کوئی صنعتی پالیسی آ جائے۔ اس وقت تقریباً ہر سرمایہ دار رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع نہیں ملتے۔ البتہ اگر ہائوسنگ پراجیکٹس لگائے جائیں، تو اس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں، کیوں کہ تعمیراتی صنعت سے کئی دوسری صنعتیں جڑی ہوتی ہیں۔ اس وقت رئیل اسٹیٹ سیکٹر ہی میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور اس میں صرف 20فی صد کی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ جب تک اس متوازی معیشت پر قابو نہیں پایا جاتا اور رئیل اسٹیٹ کو رئیل مارکیٹ ویلیو کے قریب نہیں لے جایا جاتا، تو معیشت بہتر نہیں ہو گی۔

جنگ :انٹرسٹ ریٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس سے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

زبیر طفیل :پچھلے چند برسوں میں انٹرسٹ ریٹ 5سے6فی صد تھا، تو اس موقع پر صنعت کاری کے رجحان میں اضافہ ہو سکتا تھا، لیکن اب یہ 12فی صد تک پہنچ چکا ہے اور اب شاید نئی صنعتیں نہ لگیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے، لیکن جب تک ملک میں نئی صنعتیں نہیں لگیں گی اور لوگوں کو روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے، تو معیشت بہتر نہیں ہو گی۔ جب کوئی بھی نئی انڈسٹری لگتی ہے، تو اس کے دو فواید ہوتے ہیں۔ ایک تو ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور دوسری طرف انڈسٹری میں ہونے والی پیداوار پر حکومت کو سیلز ٹیکس ملتا ہے، جس سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پچھلے تین برسوں میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ ایکسپورٹ 25ارب ڈالرز سے کم ہو کر 20ارب ڈالرز تک پہنچ گئی۔ تاہم، بعد میں اس میں اضافہ ہوا اور اب یہ 26ارب ڈالرز تک پہنچنے والی ہے۔برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کو صنعت کاروں کو آسانیاں فراہم کرنی ہوں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مشینری کی درآمد پر عاید ٹیکسز ختم کر دے۔ بھارت اور بنگلا دیش سمیت دیگر ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ویت نام کی آبادی ہماری آبادی کا نصف ہے، لیکن اس کی برآمدات 200ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں۔ اسی طرح بنگلا دیش میں ایک کلو روئی بھی پیدا نہیں ہوتی، لیکن اس کی برآمدات 42ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور اس میں سے 34ارب ڈالرز کی برآمدات گارمنٹس پر مشتمل ہیں، جب کہ باقی پٹ سن اور آئی ٹی وغیرہ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آیندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی ایسی پالیسی لے کر آئے کہ سرمایہ دار رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے بہ جائے انڈسٹری میں سرمایہ کاری کریں، تاکہ لوگوں کو روزگار ملے اور یہ سب سے اہم بات ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری شرحِ تبادلہ خود بخود مستحکم ہوتی رہے گی۔ اسی طرح حکومت درآمدات پر مزید ڈیوٹیز عاید کرے، تاکہ لوگ درآمدات سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ اس وقت ہماری درآمدات کا حجم 60ارب ڈالرز ہے اور ہمیں اسے آہستہ آہستہ کم کرنا چاہیے۔ اسی طرح ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لیے تارکینِ وطن پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں، تاکہ وہ بینکنگ چینلز کے ذریعے اپنا سرمایہ ملک میں بھیجیں۔ ہماری ترسیلاتِ زر دو برس میں 21ارب ڈالرز سے 25ڈالرز تک پہنچ سکتی ہیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ فلپائنی تارکینِ وطن کی تعداد پاکستانی تارکینِ وطن کے مقابلے میں کم ہے، لیکن ان کی ترسیلاتِ زر 35ارب ڈالرز ہیں۔ تاہم، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی آمدنی پاکستانی تارکینِ وطن سے زیادہ ہے۔ پھر فلپائنی باشندے پاکستانیوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور کوئی بھی فلپائنی اس وقت تک بیرونِ ملک نہیں جا سکتا کہ جب تک اس کا معاوضہ 500ڈالرز نہ ہو، جب کہ پاکستانی تارکینِ وطن تو 100ڈالرز پر بھی کام کر رہے ہوتے ہیں اور ہماری ترسیلاتِ زر کم ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ حکومت کو مشرقِ وسطیٰ میں سخت دھوپ میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی تارکینِ وطن کا خیال رکھنا چاہیے۔

امین ہاشوانی :ڈالر کی قدر میں اضافے سے زیادہ معیشت کا غیر دستاویزی ہونا بڑا مسئلہ ہے۔ جب پاناما اسکینڈل سامنے آیا تھا، تو میں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ پورا پاکستان ہی پاناما بنا ہوا ہے۔ آپ ڈیفنس سمیت دیگر مقامات میں جا کر دیکھیں، تو وہاں ایک متوازی معیشت قائم ہے اور لوگوں نے ٹیکس ادا کیے بغیر ہی بڑی بڑی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ جب ہم اپنی معیشت کو دستاویزی بنائیں گے، تو ہمیں براہِ راست ٹیکسز ملیں گے، جب کہ اس وقت ہم اِن ڈائریکٹ ٹیکسز پر گزارا کر رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں غیر دستاویزی معیشت کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، لیکن اگر ہماری معیشت دستاویزی ہو جائے، تو ہمیں ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پھر ہمیں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو سدھارنا ہو گا۔ اس کے علاوہ ہمیں تعلیم و صحت کے شعبے میں بہتری لانا ہو گی اور ماحول کا بہتر بنانا ہو گا۔ ان تمام مسائل کے حل کے علاوہ ہم جب تک ہم اپنے شہریوں کو ہنر مند نہیں بنائیں گے، ان میں دوسرے ممالک سے مسابقت کی صلاحیت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ ہمارے طرزِ حکم رانی میں بھی بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں اور ہمیں انہیں دور کرنا ہو گا۔ علاوہ ازیں، ہمیں امتیازی سلوک کو بھی ختم کرنا ہو گا۔ بد قسمتی سے ہمارے ٹی وی ٹاک شوز میں تعلیم، صحت، بہتر طرزِ حکم رانی اور عدم مساوات جیسے موضوعات پر کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ وہاں صرف سیاسی بیانات ہی پر بحث مباحثہ ہو رہا ہوتا ہے۔ ہم جب تک ان سنجیدہ موضوعات پر بات نہیں کریں گے، ہماری حالت جوں کی توں رہے گی۔ اس سلسلے میں ہمارے نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور کوئی پیش رفت کرنا ہو گی۔اسی طرح عمران خان کو تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ اگر وہ صرف خود کو ایماندار قرار دے کر دوسروں کو مسترد کرتے رہیں، تو اس طرح نظام نہیں چلے گا۔ بنیادی اصلاحات کے لیے انہیں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، ورنہ یہ کام بہت مشکل ہو گا۔ جب پرویز مشرف کے دور میں ٹیکس اور اسٹرکچرل ریفارمز کی بات کی گئی تھی، تو ہمارے کاروباری حضرات مزاحمت کرنے لگے کہ ہم ٹیکس نہیں دیں گے۔ اسی طرح حال ہی میں حکومت نے رات 11بجے شادی ہالز بند کرنے کا فیصلہ کیا، تو لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ یہ کوئی عقل مندانہ بات نہیں۔ ہم ہر چیز کا ذمے دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے گریبان میں بھی تو جھانکنا چاہیے۔ اسی طرح ہمارے بازار 3،4بجے سے پہلے نہیں کھلتے اور پھر رات دیر تک کھلے رہتے ہیں، جب کہ ہمیں پہلے ہی بجلی کی کمی کا سامنا ہے، تو کیا ہم اس عیاشی کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ یورپی ممالک میں صبح 7بجے بازار کھل جاتے ہیں اور رات 8بجے بند ہو جاتے ہیں۔ میں یہاں ایک کہاوت پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ’’جنت میں تو سب جانا چاہتے ہیں، لیکن مرنا کوئی نہیں چاہتا۔‘‘ تو ہمیں عمران خان اور اسد عمر سمیت دوسرے حکام کی طرف دیکھنے کے بہ جائے خود ہی سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

نسیم بیگ :جب پاناما اسکینڈل سامنے آیا، تو پتہ چلا کہ اس ملک سے سب سے زیادہ مراعات یافتہ طبقہ ہی پیسہ باہر لے کر گیا۔ یعنی انہیں اپنے ملک پر اعتماد ہی نہیں ہے۔ ہمیں اس سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا، ورنہ ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔

امین ہاشوانی :ہمیں میرٹ پر فیصلے کرنے چاہئیں، تعصبات کی بنیاد پر نہیں۔ ہمیں اپنے سیاسی رہنمائوں کی بے جا طرف داری کے بہ جائے ان کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

سالم :پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن زراعت کے مقابلے میں صنعتوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

نسیم بیگ :ہماری پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نمایندگی زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے اور اس بارے میں ان سے سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے زراعت کی بہتری کے لیے کیا کوششیں کیں۔یہاں جس کا دائو لگتا ہے، وہ اپنا فائدہ حاصل کرتا ہے۔ یہ کسی ایک شعبے کی بات نہیں، بلکہ ہر جگہ یہی ہو رہا ہے اور کوئی بھی ایسے کام کرنے پر آمادہ نہیں کہ جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں۔

عمران :جب ہمارا انحصار درآمدات اور غیر ملکیوں پر ہے اور ہم اپنی افرادی قوت کو ہنر مند نہیں بنا رہے، تو ہم اپنی معیشت کیسے مستحکم کر سکتے ہیں؟

نسیم بیگ :اگر ہم اپنے نوجوانوں کو تیکنیکی تعلیم فراہم نہیں کر رہے اور انہیں تربیت نہیں دے رہے کہ وہ پیداواری سرگرمیوں کی جانب راغب ہوں، تو یہ ایک مسئلہ ہے۔ تاہم، میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بیرونِ ملک سے بہت کم سرمایہ کار پاکستان آ رہے ہیں۔ اسی طرح چینی باشندے بھی یہاں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ وہ صرف موقع کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ البتہ ہم اپنے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر رہے۔ اس حوالے سے اگر موجودہ حکومت کے اعلان کردہ منصوبوں پر نظر ڈالی جائے، تو اس نے ہائوسنگ پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اب چاہے 50لاکھ گھر تعمیر ہوں یا 10لاکھ، لیکن تعمیراتی کام شروع ہونے سے کم از کم 30سے 40صنعتوں کا پہیہ رواں دواں ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں غیر تعلیم یافتہ افرادی قوت کو بھی روزگار ملے گا اور ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تعمیراتی شعبہ کس قدر مفید ہے۔ تاہم، اب یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ منصوبہ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم کے مشیر، عبدالرزاق دائود نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ٹیرف اور نان ٹیرف انڈسٹریز کو تحفظ فراہم کرے گی۔ انڈسٹریز کو تحفظ دینے سے ملک میں مصنوعات تیار ہونا تو شروع ہو جاتی ہیں، لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پھر مختلف کارٹیلز بھی بن جاتے ہیں اور پرائس فکسنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔

سندیہ :سی پیک میں مقامی افرادی قوت استعمال کرنے کے بہ جائے چینی باشندوں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے۔ کیا یہ درست عمل ہے؟

زبیر طفیل:سی پیک میں دو قسم کے منصوبے شامل ہیں۔ ایک کا تعلق انفرااسٹرکچر سے ہے، جس میں پاور پلانٹس شامل ہیں۔ ہم نے چین سے کہا تھا کہ ہمیں دو برس میں یہ پاور پلانٹس تیار چاہئیں، تو اس نے جواب دیا تھا کہ اگر ہمارے ورکرز کام کریں گے، تو تب یہ دو برس میں تیار ہوں گے، ورنہ نہیں ہوں گے۔ لہٰذا حکومت نے چینی ورکرز کو لانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں پورٹ قاسم پر جو پاور پلانٹ لگایا گیا ہے، اسے چائنیز ہی نے تیار کیا ہے۔ اسی طرح تھر کول پراجیکٹ میں بھی بڑا حصہ چینی ورکرز ہی کا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے باشندوں کے پاس اس کام کا تجربہ نہیں ہے، لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے۔

نسیم بیگ :دراصل، ہماری پیداواری صلاحیت بہت کم ہے، کیوں کہ ہمیں اس سلسلے میں تعلیم و تربیت فراہم نہیں کی گئی۔ میری نظر میں نان سی پیک پراجیکٹس میں بھی چینی باشندوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، کیوں کہ ہماری افرادی قوت کے مقابلے میں ان کی کارکردگی زیادہ ہے۔

زبیر طفیل :پاکستانی شہری بھی بہت جلد کام سیکھ جائیں گے۔ پورٹ قاسم میں ایک کیمیکل بنانے والی کمپنی کا تعمیراتی منصوبہ تھا، جسے مقررہ مدت میں مکمل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے چینی ہنر مندوں کی خدمات حاصل کی گئیں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں اور انہوں نے دن، رات ایک کر کے یہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کر لیا۔ مگر ہمیں اپنے لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔

نسیم بیگ :ہر صنعت کار کو پیداواری صلاحیت سے غرض ہوتی ہے اور وہ اسی فرد کا انتخاب کرتا ہے کہ جو کم وقت میں زیادہ کام کرے۔ اگر کوئی شخص اکیلے 6افراد کا کام کر رہا ہے، تو میں بھی اسے ہی ترجیح دوں گا۔

حنا:کیا روپے کی قدر میں کمی میں آئی ایم ایف کا کوئی کردار ہے؟ نیز، کیا حکومت آئی ایم ایف سے بروقت رجوع کر رہی ہے یا اس نے تاخیر کی ؟

نسیم بیگ :آئی ایم ایف جب پیسہ دیتی ہے، تو اس کے ساتھ بہت سی شرائط بھی عاید کرتی ہے۔ وہ ہماری معاشی صورت حال کا تفصیلی جائزہ نہیں لیتی اور ایسے نسخے تجویز کرتی ہے کہ جس سے اسے اپنی رقم واپس مل جائے۔ اگر شرحِ تبادلہ ایڈجسٹ ہو جاتا ہے اور ہماری درآمدات کم ہو جاتی ہیں، تو آئی ایم ایف کو رقم واپس ملنے کا امکان بڑھ جائے گا۔ آئی ایم ایف کوئی نہ کوئی شرط ضرور عاید کرتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ صرف روپے کی قدر میں کمی کی شرط ہو۔اس کے علاوہ وہ بجلی اور گیس مہنگی کرنے کی شرط عاید کرتی ہے، تاکہ کسی طرح اسے رقم واپس ملنے کا یقین ہو جائے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف ہمیں کوئی خیرات نہیں دے رہی۔ اگر ہم بہت زیادہ مجبوری کی حالت میں آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے، تو وہ بہت زیادہ شرائط عاید کر دے گی، لیکن اگر ہم ادھر ادھر سے کچھ بندوبست کرنے کے بعد جائیں گے، تو ہم مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ پھر اس میں عالمی سیاست کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ مثلاً ،اگر امریکا کو افغانستان میں ہمارا مثبت کردار نظر آتا ہے، تو پھر آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف پس منظر میں چلے جائیں گے، لیکن اگر انہیں ہمارا مثبت کردار نظر نہیں آتا، تو ہم پر سختی کی جائے گی۔

جنگ :کیا روپے کی قدر میں کمی اور اضافے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بھی کوئی کردار ہوتا ہے؟

نسیم بیگ :کچھ ممالک میں فری ایکسچینج کیپیٹل اکائونٹ پر فری موومنٹ چل رہی ہے اور کبھی کبھار ان ممالک کے مرکزی بینک تخمینے پر پروٹیکٹ بھی کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔

جنگ: ابھی ڈالر پر سٹہ لگا ہوا ہے اور یہ صورت حال کب تک رہے گی؟

نسیم بیگ :جوں جوں ہمارا ٹریڈ اکائونٹ اور کرنٹ اکاوئونٹ خسارہ کم ہوتا جائے گا اور برآمدات بڑھنا اور درآمدات کم ہونا شروع ہو جائیں گی، تو روپے کی قدر بھی مستحکم ہونا شروع ہو جائے گی۔

جنگ: معیشت کے استحکام کے لیے سیاسی استحکام کتنا ضروری ہے؟

نسیم بیگ :یہ دونوں عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ملک میں سیاسی استحکام ہو گا، تو معیشت بھی مستحکم ہو گی۔

زبیر طفیل :جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو گا، تو کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے گا، کیوں کہ اسے یہ خدشہ ہو گا کہ کسی بھی وقت حکومت تبدیل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ایک میثاقِ معیشت پر دستخط کرنا ہوں گے کہ چاہے کسی بھی جماعت کی حکومت آئے، وہ بنیادی معاشی معاملات پر یکساں مؤقف اپنائیں گے۔

جنگ:آ ئی ایم ایف سے رجوع کرنا کتنا ضروری ہے؟

نسیم بیگ :ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

زبیر طفیل :آئی ایم ایف سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے گا، تو ہمیں اسی مہینے ہی یہ معاہدہ کر لینا چاہیے، تاکہ قیاس آرائیاں دم توڑ جائیں۔

جنگ :اس وقت ملک میں غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے، تو کیا یہ معیشت کے لیے نقصان دہ نہیں؟

نسیم بیگ :اس وقت امریکا اور افغان طالبان کے مذاکرات کی وجہ سے بھی بے یقینی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں انتخابات کے باعث بھی غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔ یہ دونوں مراحل گزرنے کے بعد کچھ صورت حال واضح ہو گی۔ پھر نئے مالی سال کا بجٹ پیش ہونے کے بعد رہی سہی بے یقینی بھی ختم ہو جائے گی۔ گرچہ ماضی میں خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی کے اعتبار سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان اختلاف کی وجہ ملک میں سیاسی طور پر بے یقینی رہی ہے، لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں ایک ہی پیج پر ہیں اور میرے خیال میں سیاسی طور پر ملک میں کوئی بے یقینی نہیں پائی جاتی۔

جنگ :لیکن معاشی طور پر تو بے یقینی پائی جاتی ہے؟

نسیم بیگ :میں اسے بے یقینی نہیں سمجھتا۔ ہماری معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے اور اسے ٹھیک ہونے میں وقت تو لگے گا۔

جنگ:کتنا وقت لگے گا؟

نسیم بیگ :دو سے تین برس۔

زبیر طفیل :دو ، تین برس سے پہلے بہتری کے آثار سامنے نہیں آئیں گے اور اس کے لیے بھی پہلے سیاسی تنازعات حل کرنا ہوں گے۔

جنگ :اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ موجودہ حکومت کی حکمتِ عملی درست ہے اور دو سے تین برس بعد مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے؟

نسیم بیگ :اس بات کی کوئی ضمانت تو نہیں دی جا سکتی، لیکن موجودہ حکومت درست سمت کی جانب گامزن ہے۔ موجودہ حکومت نئی صنعتیں لگانے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ اس وقت ہماری معیشت کی بنیاد درآمدات اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر ہے اور ہم نے سب سے پہلے اس رجحان کو ختم کرنا ہوگا۔

جنگ :سرمایہ داروں کو کیا مشورہ دیں گے کہ وہ کس شعبے میں سرمایہ کاری کریں؟
نسیم بیگ :
رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے معیشت تباہ ہو جاتی ہے اور شرعی طور پر بھی پیسے کو تھام کر رکھنا غلط ہے۔ میں کسی کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں دوں گا، بلکہ اس کے بہ جائے اسٹاک ایکسچینج، شیئرز اور انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی جائے۔ اس کے علاوہ میں سونا خرید کر رکھنے کے حق میں بھی نہیں ہوں۔

جنگ :عام شہری مہنگائی سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اسے کب ریلیف ملے گا؟

نسیم بیگ :جب نئی صنعتیں لگیں گی، تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاوضہ بھی بڑھے گا۔ مثال کے طور پر جب تعمیراتی منصوبے شروع ہوں گے، تو اس کے نتیجے میں دوسری صنعتوں کا پہیہ بھی چلنے لگے گا۔ اس موقعے پر افرادی قوت کی ضرورت ہو گی اور لوگوں کا روزگار کے مواقع ملیں گے۔