حیدر آباد کی مشہور تفریح گاہ ’’المنظر‘‘

May 14, 2019
 

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

سیر و تفریح انسان کی زندگی کا ایک لازمی جزوہے۔ گھومنے پھرنے کی غرض سےپرفضا مقامات کی جانب نکلنا دل و دماغ پر فرحت بخش اثرات مرتب کرتا ہے۔ سیاحتی پروگراموں سے نہ صرف قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہواجاتا ہے بلکہ مختلف تہذیب و ثقافت اور خطوں سےتعلق رکھنے والے افرادکو ایک دوسرے کے قریب آنے اورسمجھنے کا موقع ملتا ہے اور ان روابط سے مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے معاشرےمیں منتقل ہوجاتی ہیں۔ سندھ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جوکہ قدیم ترین تہذیب و ثقافت اور تاریخی مقامات کا گہوارہ تصورکیا جاتا ہے۔ اس خطے میں کئی سحر انگیز جھیلیں واقع ہیں۔ان جھیلوں ،نہروں اور خاص طور پر دریائے سندھ کا خوبصورت نظارہ سیاحوں کو اپنی خوبصورتی اور دلکشی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور بہت اہم دریاہے، جو طویل سفر طے کرکے کوٹری بیراج جامشورو سے گزرتا ہوا ٹھٹھہ کے قریب بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔حیدرآباد چونکہ دریائے سندھ کی وجہ سے آباد ہوا ہےاِس لیے اِس کی تہذیب و ثقافت میں دریا کا بہت عمل دخل ہے۔ کوٹری بیراج پر دریائے سندھ کا کنارا آج بھی حیدرآباد کا اہم تفریحی مقام ہے۔ یہاں بیٹھ کر ’پلّا مچھلی‘ سے کام و دہن کو تسکین دی جاتی ہے اور کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیرسے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔خصوصاً چاندنی راتوں میں سندھ دریا سیر ایک ناقابلِ فراموش اور سحر طاری کرنے والا تجربہ ہوسکتا ہے۔کوٹری بیراج جامشورو کا ابتدا میںنام غلام محمد بیراج تھا۔ 12فروری1950ءکو پاکستان کے دوسرے گورنرجنرل خواجہ ناظم الدین نے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور مارچ 1955ء کو اس کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ کوٹری بیراج جامشورو ضلع میں شامل ہےاور جامشورو شہر ضلعی صدر مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کوٹری بیراج جامشورو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر سندھ کی اہم درسگاہیں جامعہ سندھ ، جامعہ لیاقت برائے طب وصحت (LUMS)اور جامعہ مہران انجینئرنگ (MUET) واقع ہیں

سہیون میںعظیم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندرکے مزار کے باعث جامشورو ضلع کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کوٹری بیراج سے دریائے سندھ کا ڈیلٹائی علاقہ شروع ہوتا ہے۔ اس وقت کے انگریز چیف انجینئر مسٹر ٹی اے ، ڈبلیو فوائے (Mr.T.A.W.Foy) نے بڑی مہارت سے کوٹری بیراج کوتعمیر کیاجسے آب پاشی اور سیلاب سےبچائوکے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔ اس بیراج کے 44دروازے ہیں۔ کوٹری بیراج کی دائیں جانب ایک کینال کے ذریعے جامشورو ، ٹھٹھہ ، میرپور ساکرو اور کراچی کو پانی کی فراہمی کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب حیدرآباد ، اولڈ اور نیو پھلیلی ، اکرم واہ، چینل موری، بدین ، سجاول اور ٹنڈو محمد خان کو پانی کی فراہمی ممکن بنائی جاتی ہے۔ ماضی میں حیدرآبادسے کراچی جانے کے لئے کوٹری بیراج پل ہی واحد آمدورفت کا ذریعہ تھاجو حیدرآباد سے تقریباً 13کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کوٹری بیراج حیدرآباد اور اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے بہترین تفریح گاہ بھی ہے۔ یہاں دور دراز سے بڑی تعداد میں عوام سیروتفریح اور حسین نظاروں اوردریائےسندھ کی روانی سے لطف اندوز ہونے کے لئے آتے ہیں۔ المنظر ریسٹورنٹ پلا مچھلی اور دیگر آبی خوراک سے تیار کردہ کھانوں کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے۔ کوٹر ی بیراج جامشورو کو سیروتفریح کے لحاظ سےالمنظر جامشورو کے نام سے بھی پہچانا جاتاہے۔ جب کوٹری بیراج کا پل جامشورو اور حیدرآباد کو ملانے کے لئے تعمیر ہوا تولوگ طویل عرصے تک اس کے نام سے زیادہ تر ناواقف تھے۔ اس کی اہمیت، افادیت اور انفرادیت کو اجاگر کرنے کے لئے المنظر ریسٹورنٹ 16؍اپریل 1960ءکوتیار ہوا اور اس وقت کے کمشنر حیدرآباد، نیاز احمد نے اس کا افتتاح کیا۔ المنظر کو دریائے سندھ کے د وسرے کنارے پر انتہائی خوبصورت انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔یہاں سے دریائی لہروں اور کشتیوں کا خوبصورت نظارہ ذہنی تسکین کا باعث بنتا ہے۔ المنظر ریسٹورنٹ میں مچھلی اور پلا مچھلی، باربی کیوکے انواع و اقسام کے کھانے سیروتفریح کرنے والوں کے دل موہ لیتے ہیں۔ المنظر ریسٹورنٹ کے منیجر محمد رفیق کے مطابق پلامچھلی کے سیزن میں یہاں بڑی تعداد میں لوگ دور دراز کے علاقوں سے صرف یہ مچھلی کھانے آتےہیں۔ ہفتہ اور اتوار کو کراچی سےبڑی تعداد میں لوگ اس خوب آبی تفریح گاہ کی سیر کے لیے آتے ہیں۔۔ ایری گیشن ، گیسٹ ہائوس میں کھانا المنظر ریسٹورنٹ سے ہی فراہم کیا جاتا ہے۔

المنظر ریسٹورنٹ کے علاوہ یہاں سیروتفریح کرنے والوں کی بڑی تعداد دریا ئےسندھ کے پانی سے لطف اندوز ہونے کے لئےآتی ہے۔ لوگ دریا میںنہاتے ہیں اور کشتی پر بیٹھ کر دریا کی سیر کرتےہیں۔ دریائے سندھ جامشورو کے مقامی ملاح غلام رسول نے بتایا کہ چھٹی کے دن خاص طور پر جمعہ اور اتوار کو 1000سے 1500افراد دریا کی سیر کرنے آتے ہیں اور خاص دن جیسے 14اگست یا مذہبی تہواروں عید اور بقرہ عید اور عام تعطیلات میںہزاروں کی تعداد میں حیدرآباد اور اندرون سندھ سے لوگ آتے ہیں اورکشتی کی سیر کرتےہیں۔ کشتی کا کرایہ دریا کےکنارہ سے چار سوفٹ کے فاصلے تک کا 300روپے فی چکر ہے۔ کشتی کے ایک چکر میں تقریباً10افراد کو بٹھایا جاتا ہے۔ مون سون کے موسم میں پلا مچھلی اور مچھلیوں کی مختلف اقسام روہو مچھلی ، کھگا مچھلی ، پا پلیٹ وغیرہ کا شکارکیا جاتاہے ۔ دیگر مچھلیاں تو ملک کے دیگر شہروں میں باآسانی دستیاب ہوتی ہیں، جنہیں لوگ ہر موسم میں شوق سے کھاتے ہیں جب کہ پلا مچھلی صرف حیدرآبادکی سوغات ہے اور ملک کے دوردراز شہروں سے تفریح کے دل دادہ افراد صرف اس نعمت خداوندی سے اپنی شکم سیری کے لیے جام شورو کے پل پر آتے ہیں ۔ پلا مچھلی کودریا اور سمندر سے پکڑی جانے والی تمام مچھلیوں کا سردار بھی کہا جاتا ہے۔ اس مچھلی کی کہانی صدیوں قدیم ہے اور اس میں وادی مہران کی تہذیب، تمدن اور ثقافت کے بارے میں بے شمار اسرار و رموز پوشیدہ ہیں اوران کہانیوں کا زیادہ تر تعلق سندھ کے حوالے سے رہا ہے ۔یہ مچھلی سندھ کے معاشی استحکام کے حوالے سے بھی خاصی اہم ہے اور اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے اس کی مانگ غیر ممالک میںبھی زیادہ ہے۔ پلا مچھلی نایاب ہونے کی وجہ سے دوسری مچھلیوںکی بہ نسبت کافی مہنگی ملتی ہے اور جب تک دریائے سندھ میں کوٹری بیراج تک پانی نہیں پہنچتا ہے تب تک یہ مچھلی دریا میں نظرنہیں آتی ہے۔ کئی برس پہلے پلا مچھلی اتنی وافرمقدار میں دستیاب تھی کہ حیدرآباد میں دریائے سندھ کے کنارے رہنے والے دیہاتیوں کی روزمرہ کی خوراک کا لازمی جزو تھی جب کہ شہری علاقوںکے باشندوں کی بھی یہ مرغوب غذا تھی اورہرغریب اورامیر آدمی اسے انتہائی شوق سےکھاتا تھا۔ یہ آبی مخلوق جسامت کے لحاظ سے لمبوترا اور بطن حصے میں بہت دبا ہوا یا چپکاہوا ہوتا ہے۔ پلا کے سارے جسم پر سفید چمکدار چھلکے ہوتے ہیں اور وہ سلیٹی نظر آتی ہے۔ پلا جب دریا میں ہوتاہے تو پانی میں کہکشاں جیسے رنگ نمودار اور انتہائی خوب صورت جگمگاہٹ ہوتی ہیں۔ پلا کی پیدائش کے بعد نشونما کا عمل کافی تاخیر لیے رہتا ہے اوراس کے جوان ہونے میں ایک سال کا عرصہ لگتا ہے لیکن افسوس کہ اس کی بڑھوتری سے قبل ہی اس کا شکار کرلیا جاتا ہے۔ سندھ کے ملاح پلا کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ نر پلا کو ’’کھیرا‘‘ اور مادہ پلا کو ’’آبیارو‘‘کہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اسے دریائی مچھلی تصور کرتے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ پلا سمندری مچھلی ہےلیکن اس کی جائے پیدائش صرف وہ علاقہ ہے جہاں آب شیریں اور سمندر آپس ملتےہیں۔ دریائے سندھ کیٹی بندر کے قریب ڈیڑھ سو میل سے زائد علاقہ میں ڈیلٹا بناتا بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔یہ ڈیلٹا دریائے سندھ کے باقی سترہ سو میل کی لمبائی میں سب سے کم سطح والا علاقہ ہے، چناں چہ دریا کا پانی انتہائی آہستہ سے سمندر میں ملتا ہے اور جوار بھاٹا کے وقت یہ ساراعلاقہ سمندری پانی سے بھر جاتا ہے۔ پانی کے اس اتارچڑھاؤ کی وجہ سے پلا میٹھے پانی سے مانوس ہوجاتاہے چناں چہ وہ ڈیلٹا میں ہی پرورش پاتا رہتاہے۔ ساون اور بھادو ںمیں جب دریائے سندھ بارشوںاور سیلابی پانی سے بھر جاتاہے تو پلا کے انڈے دینے کا موسم شروع ہوجاتاہے وہ میٹھے پانی میں آجاتا ہے اور بہاؤ کے مخالف سمت میں تیرتا ہے جو اس کی بے مثال طاقت کا ثبوت ہے۔ پلا کی مادہ میٹھے پانی میں تقریباً ایک سو میل کا فاصلہ طےکرنے کے بعد انڈےدینا شروع کردیتی ہے جو تین دن کے اندر بچوں کی صورت میں نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جوں ہی بچے پیدا ہوتے ہیں وہ پانی کےبہائو پر سمندر کی طرف جانا شروع کردیتےہیں کیونکہ پلا کی پرورش سمندرمیں ہوتی ہے وہ جولائی تک وہیں رہتے ہیں اور جوں ہی بارش کا موسم شروع ہوتا ہے تو انہیں میٹھے پانی کی کشش دریا میں کھینچ لاتی ہے۔ سمندر سے نکل کر دریا میںمخالف سمت میں چلنا شروع کردیتےہیں۔ پلا الٹی سمت میں دریا کے پانی کے اندر گھس جاتی ہے اور کوٹری بیراج تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ پلاسفر کرتی ہوئی سکھر تک پہنچ جاتی تھی اور اس وقت اس کا وزن 5کلوتک ہو جاتا تھا۔ مگر اب یہ صرف جامشورو تک ملتی ہے کیونکہ جب سےوہاں پرپل بنایا گیا ہے اب اس کے گیٹوں سے پلا کراس نہیں کرپاتی ہے۔ پلا مچھلی بڑی حساس ہوتی ہے، مچھیرے اس کا بغیر جال کے شکار کرتے ہیں ۔ یہ پکڑنے کے فوراً بعد لمحوں میں مرجاتی ہے۔ جیسے ہی وہ جال سےٹکرائے گی دم توڑ دے گی۔ پلا مچھلی مختلف طریقے سے پکائی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ ریت میں چولہے لگا کر ،گرل ، سالن ، قورمہ ،کوفتے ، بریانی ، پلائو ، باربی کیوکی بنائی ہوئی چیزیں شامل ہیں اور جام شورو ، کوٹری کی تفریح گاہ المنظر اس کے لیے بہترین جگہ ہے۔المنظر کا خوبصورت نظارہ ہو اور ’’پلا‘‘ مچھلی کی خوشبوسے تفریح کا مزہ دوبارہ ہو جاتا ہے۔

المنظر جس کا شمار چند سال قبل تک سندھ کی خوب صورت ’’دریائی تفریح گاہ‘‘ میں ہوتا تھا، اب اس کا حسن معدوم ہوتا جارہا ہے اس کی وجہ محکموں کی عدم توجہی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے مقامی و غیر ملکی سیاحوں کو ذہنی اذیت کا سامنا رہتا ہے۔ سیرو تفریح پر آئے ہوئے ایک خاندان کے افراد سے جب المنظر اور دریائے سندھ کوٹری بیراج کے بارے میں دریافت کیا گیاتو انہوں نےاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے المنظر اور دریا کے پانی کی زبوں حالی پر اپنی تشویش کا اظہارکرتےہوئے کہا کہ صفائی کاناقص نظام ہے اور جگہ جگہ گندگی اور کچرے کےڈھیر لگےہوئے ہیں۔ روشنی کا خاص انتظام نہ ہونے کی وجہ سےسورج غروب ہوتے ہی عوام کی تعداد کم ہوجاتی ہےاور سناٹا چھا جاتا ہے۔ لیڈیز اور جینٹس کے لئےواش روم کا معقول نتظام نہیںہے۔ پینے کے پانی کی قلت ہے۔بچوںکے کھیلنے اور تفریح کے لئے کوئی جگہ نہیںہے۔ پارک اور جھولوں کا فقدان ہے۔ محکمہ ایری گیشن نے اس تفریح گاہ کو بہتر بنانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ یہ حیدرآباد اور اند رون سندھ کے عوام کے لئے واحد دریائی تفریح گاہ ہےجہاں عوام یہاں کے نامساعد حالات کے باوجود چند گھنٹے ذہنی سکون اور لطف اندوز ہونے کے لئے آتے ہیں۔ سالوں سے قائم المنظر کے ارد گرد کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ یہاں تفریح کی غرض سے آنے والے خاندانوں کے بیٹھنےکا کسی بھی قسم کا انتظام نہیں ہے۔ المنظر ریسٹورنٹ سے جب دریاکے پانی کے پاس سیڑھیاں اتر کر جاتےہیں تو سیڑھیوںکے اردگرد کسی بھی قسم کی حفاظتی گرل نہیں لگی ہے۔ خواتین،بچوں اور بزرگوں کے لئےسہارے کے طور پر پکڑ کر اترنے کے لئے کسی قسم کا جنگلا یا جالی نہیں ہے جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہو سکتاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حیدرآباد اور سندھ کے دیگرشہروں کے افراد کو سیر وتفریح کے موقع فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا المنظر دریائے سندھ کوٹر ی بیراج اب انتظامیہ کی غفلت کے سبب زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس کی مرمت،تزئین و آرائش پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ایک بزرگ محمد عبداللہ جوکہ حیدرآباد کے رہائشی ہیں وہ انتظامی حالت سے مایوس نظر آئے۔ ان کے بقول المنظر کبھی اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہوا کرتا تھا لیکن اب انتظامیہ کی غفلت نے حالات یکسر بدل دیئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ المنظرو کی حالت زار کو دیکھتےہوئے اس کی خوبصورتی کو بہتر بنایا جائے ور اس کی تزئین و آرائش کی جائے، اس کی ہر یالی کاخاص انتظام کیا جائے۔

المنظرواحد تفریح گاہ ہے ،جو شیر دریا کے کنارے پر واقع ہے۔ یہاں آنے والے افراد کشتی رانی کرتے ہیں اور پانی میں نہاتے ہیں جبکہ ملاحوںکی روزی روٹی بھی اس سے وابستہ ہے۔ لیکن دریائے سندھ بھی آبی اور ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہورہا ہے۔اس کی وجہ سیر کے لیے آنے والے افراد میں شہری شعور کی کمی اور ان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے جو کھانے پینے کی بچی کھچی اشیاء، پلاسٹک بیگز ، کوڑا کرکٹ تفریح گاہ کے اندر ادھر ادھرپھینکتےہیں۔المنظر کو پرکشش آبی تفریح گاہ بنا کر سیاحوں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کیا جاسکتا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے قومی خزانے کو خطیر زرمبادلہ کمانے کے مواقع حاصل ہوں گے۔ یہاں سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کےلئے ایک شاپنگ سینٹرکا قیام بھی ضروری ہے جہاں سندھ کی دست کاری اور ثقافتی مصنوعات کی فروخت کے لیے علیحدہ جگہ بنائی جاسکتی ہے اجہاں سندھی ثقافت کی نمائندگی کے لیے ملبوسات اور دیگرسامان دستیاب ہونا چاہئے۔اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کو ٹری بیراج المنظرکی میں سیاحوں کی بھیڑبھاڑ، دریائے سندھ میں پانی کی آمد سے مربوط ہے۔ خشک سالی اور موسمی تغیرات کی وجہ سے جب دریا میں پانی کی سطح گھٹ جاتی ہے تو اس تفریح گاہ میں سیاحوں کے لیے کوئی کشش باقی نہیں رہتی جس کی وجہ سے یہاں کی مقامی آبادی کےمحنت کش افراد، ملاح، کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، ماہی گیرجن کی روزی روٹی کا انحصار سیر و تفریح کی غرض سے آنے والے افراد کی آمد پر ہوتا ہے، وہ فاقہ کشی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک مقامی ملاح نے بتایا کہ دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے گھروں کے چولہے نہیں جلتےاور ہم کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کی مقامی پآبادی کے مستقل روزگار کے لیے اس آبی تفریح گاہ کے ساتھ ہی ایسی تفریح گاہ بنائی جائے، جس کی کشش زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہاں پر کھینچ کر لائے۔ اس علاقے میں دریائے سندھ کے ساتھ ایک آبی میوزیم بھی بنایا جاسکتا ہے، جہاں سندھ کی نایاب مچھلی اور وہ آبی مخلوق جو قصہ پارینہ ہوچکی ہے ، اس کے ڈھانچے رکھے جائیں، ہمیں امید ہے کہ حکومتی سطح پر کیے جانے والے ان اقدامات سے لوگوں کے معاشی مسائل حل کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔