Advertisement

ناول ’’سُرخ چڑیا‘‘

July 10, 2019
 

روس اور امریکا کے درمیان طویل عرصے تک سرد جنگ برپا رہی، پاکستان کی مدد سے افغانستان میں روس کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا، لیکن اس کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ کا یہ سلسلہ تاحال کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اس صورتحال کے پس منظر میں 2013 کو جون کے مہینے میں انگریزی زبان میں ایک ناول شائع ہوا، جس کا نام’’ریڈ سپارو‘‘ یعنی سُرخ چڑیا تھا۔

اس ناول کو لکھنے والے ناول نگار کانام’’جیسن میتھیو‘‘ ہے، جن کا پیشہ ورانہ ماضی امریکی خفیہ ایجنسی(سینٹرل خفیہ ایجنسی۔سی آئی اے) کی ملازمت کا ہے۔ یہ ناول ایک روسی جاسوس لڑکی کی زندگی کی کہانی کو بیان کرتا ہے، جو اپنی بقا کی جنگ بہت دلیری سے لڑتی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اور پلاٹ روسی ہے۔ ناول نگار نے ناول میں موجودہ روس اور اس کے صدر’’ولادیر پیوٹن‘‘ کو مرکزی کردار کے طور پر دکھایا ہے۔ ناول کو’’اسکریبنر‘‘ نامی اشاعتی ادارے نے شائع کیا ہے، جو بہت بڑا امریکی اشاعتی ادارہ ہے، یہیں سے ارنسٹ ہمنگوے، اسٹیفن کنگ، تھامس وولف، ڈون ڈیلیلو اور دیگر معروف امریکی ادیبوں کی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

ناول کی کہانی کے مطابق روس اب بھی اپنی شکست کا بدلہ لینا کسی نہ کسی طرح لینا چاہتا ہے اور وہ اس کے لیے اپنے صدر کی سربراہی میں پوری طرح سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے نوجوان اور خوبصورت روسی لڑکے لڑکیوں کو جاسوسی کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ دشمن ملک کے خلاف اپنی دلکش شخصیت اور شاطر ذہن کو استعمال کرسکیں۔ اعلیٰ طبقہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے جبکہ عوام کو اس لڑائی سے دور دکھایا گیا ہے۔ جاسوسی کی تربیت کے لیے روس میں ایسا تربیتی اسکول بھی دکھایا گیا ہے، جہاں جاسوسی کے پیشہ ورانہ ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ اخلاق باختہ حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ جاسوس اپنے مقصد کی انجام دہی میں کسی بھی طرح کی صورتحال میں ہمت نہ ہاریں اور اپنامشن مکمل کرنے میں کامیاب رہیں۔

ناول کی کہانی کے مطابق روس اور امریکا کی خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کی تاک میں رہتی ہیں، ایک دوسرے کے ممالک میں نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی ایک دوسرے کی سرگرمیوں نگاہ رکھتی ہیں۔ روسیوں کو شک ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی امریکی ایجنٹ بھی ہے، جس کے لیے وہ تن دہی سے اس کی تلاش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی‘‘ڈومینکا‘‘ کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس کی ایک بیمار ماں ہے اور وہ اس کی بیماری کے لیے بطور بیلے ڈانسر کام کرتی تھی۔ ایک حادثے میں وہ اپنی ٹانگ تڑوا کر نوکری سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہے۔ اس کا چچا مدد کے نام پر اسے روس کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔ بحالت مجبوری وہ رضامندی ظاہر کرتی ہے۔ دوران تربیت وہ جس طرح کے جان لیوا اور اخلاق سوز تجربات سے گزرتی ہے، وہ جاسوسی کے کام سے متنفر ہوتی جاتی ہے، لیکن وہ ایک ایسے چنگل میں پھنس چکی ہوتی ہے، جہاں سے باہر نکلنے کے لیے صرف موت کادروازہ کھلا ہے۔

وہ کسی بھی صورت اپنی ماں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑنا چاہتی اور آخرکار روسی خفیہ ایجنسی کے مشن پر روانہ ہونے کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی کے کارکنوں سے متصادم ہوتی ہے، ان میں سے ایک کارندے سے اس کو جذباتی لگائو ہو جاتا ہے اور وہ جاسوسی کی دنیا سے باہر نکلنے کے لیے اس سے مدد مانگتی ہے۔ اسی صورتحال میں وہ کچھ ایسے اقدامات کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا چچا، جو کہ منفی سرگرمیوں کا حامل ہوتا ہے، وہ پھنس کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور وہ لڑکی اپنا مشن پورا کرکے واپس روس اپنے اہلکاروں کی نظر میں سرخروہوکر لوٹتی ہے، جبکہ درپردہ اسے امریکیوں کا تعاون حاصل ہوتا ہے۔

اس ناول کواشاعت کے بعد بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ نیویارک اخبار کے بیسٹ سیلر ہونے کے علاوہ بھی یہ ناول دنیا بھر میں بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوا، اس کی شہرت اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ناول نگار’’جیسن میتھیو‘‘ نے اسی ناول کے خیال کو مزید بڑھایا اور اس کے دو نئے حصے لکھے، جو بالترتیب کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں، لیکن سب سے زیادہ شہرت’’سرخ چڑیا‘‘ کو ہی حاصل ہوئی ہے۔

’’سرخ چڑیا‘‘ناول پر بننے والی فلم کو 2018میں اسی نام سے ریلیز کیا گیا۔ اس کے ہدایت کار’’فرانسیز لارنس‘‘ ہیں، جنہوں نے اپنے کیرئیر کی ابتدا موسیقی اور اشتہاروں کی ویڈیوز بنانے سے کی اور مقبول ہوگئے۔ اس میں مرکزی کردار اداکرنے والی امریکی اداکارہ ’’جینفر لارنس‘‘ نے اپنے کردار’’ڈومینکا‘‘ میں انتھک محنت سے فلم بینوں کا دل جیت لیا۔ فلم میں بیلے ڈانسر کے کردار کو نبھانے کے لیے اس نے کئی مہینے باقاعدہ اس رقص کی تعلیم و تر بیت بھی حاصل کی۔ اس کے مقابل آسڑیلوی اداکار’’جیول ایڈگرٹن‘‘ نے بھی جاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ہدایت کار نے فلم میں روسی صدر پیوٹن کے کردار کو فلم میں شامل نہیں کیا، البتہ دیگرکرداروں کے ذریعے دکھایا کہ اس سارے معاملے کے پس منظر میں روسی صدر کی دلچسپی ہے۔

اس فلم کا اسکرین پلے’’جسٹن ہے‘‘ نے لکھا ہے۔ پروڈکشن، ڈائریکشن، لائنٹنگ، میوزک، فوٹوگرافی اور دیگر تمام پہلوئوں سے یہ ایک شاندار فلم ہے، جس کو شاید قارئین پڑھتے وقت اتنی گہرائی میں محسوس نہ کرسکیں، جس قدر تفصیل سے ہدایت کار نے اسکرین پر اس کی عکس بندی کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے، موسیقی اور روشنیوں کی بدولت، اس میں جمالیاتی احساسات کو بھی انتہائی خوبصورتی سے برتا گیا ہے۔ یورپی ممالک سلوواکیہ، ہنگری، آسٹریا اور برطانیہ میں اس فلم کی شوٹنگ کی گئی ہے۔ اس فلم کو دیکھتے ہوئے فلم بین اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبانے پر مجبور ہوجائیں گے، یہی اس فلم کا کمال ہے اور اس ناول کا حسن بھی، جس نے آج کی دنیا میں جاسوسی کے نئے زاویوں کو قارئین کے سامنے رکھا ہے، جس کو پڑھنے کے بعد قارئین سرد جنگ کی نئی شکل سے واقف ہوں گے اورناظرین فلم کے پردے پر اس کی ہولناکی سے بھی، جس کو نظر انداز کرناکسی بھی طور پر ممکن نہیں ہے۔ جاسوسی کی دنیامیں یہ کتاب اور فلم دونوں کی اہمیت رہے گی۔


مکمل خبر پڑھیں