Advertisement

بچوں کو مطالعہ کا عادی کیسے بنائیں؟

September 15, 2019
 

ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ایک کامیاب شخص بنے، لیکن کامیابی کسی کو بھی پلیٹ میں ڈال کر نہیں دی جاسکتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تمام والدین جی جان کی بازی لگاکر اپنے بچوں کے لیے اس پلیٹ کو بھرنے کی کوشش کرتے۔ ہر کامیابی کے پیچھے جہد مسلسل کی ایک طویل داستان ہوتی ہے، جس کا مرکزی کردار آج آپ ہیں تو کل آپ کابچہ ہوگا۔

دنیا بھر کے کامیاب افرادکی بائیو گرافی کا مطالعہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان افراد میں کافی باتیںمشترک ہوتی ہیں۔ ان عادات میں سب سے خاص سیکھنے کی عادت ہے، کچھ ’نیا‘ سیکھنے کا جنون، جس کےتحت یہ لوگ مختلف کتابوں کامطالعہ کرتے ہیں اور مطالعہ کا یہ شوق ان کی کامیابی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ بھی اپنے بچے کے لیےکامیاب زندگی کی خواہش رکھتے ہیں تو اسے بچپن ہی سے مطالعہ کا عادی بنائیں۔

کیا بچہ مطالعے کا شوقین ہے ؟

کسی بھی انسان میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کا سب سے بہترین وقت چھوٹی عمر ہے۔ جس طرح آپ بچوں کو بچپن ہی سے اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، بالکل اسی طرح مطالعہ میںبھی ان کی دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا بچہ مطالعے میں دلچسپی رکھتا بھی ہے یا نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ بچے بچپن ہی سے قدرتی طور پر مطالعہ سے لگاؤ رکھتے ہیں جبکہ کچھ بالکل اس کے برعکس ہوتے ہیں،یوں سمجھ لیں کتابیں دیکھتے ہی بھاگنے لگتے ہیں۔

اگر آپ کا بچہ دوسری قسم میں شامل ہےتو یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اسے مطالعے سے اکتاہٹ کیوں ہے؟ اس حوالے سے کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں مثلاً

٭آپ کے بچے کو پڑھنے میں مشکلات درپیش ہوں۔

٭مطالعہ کے دوران اسےبوریت محسوس ہوتی ہو۔

٭ آپ کے بچے کی رسائی درست کتابوں تک نہ ہوپائی ہو ۔

٭ہوسکتا ہے کہ آپ کا بچہ مطالعہ کی اہمیت سے ناواقف ہو یا پھر اس کے نزدیک یہ ایک غیر ضروری عمل ہو۔

اگر آپ اپنے بچے میں مطالعے سے اکتاہٹ کے اسباب جان لیں تو یقیناًآپ کے لیے ان پر قابو پانا اور بچے میں مطالعے کی عادت پروان چڑھنا آسان ہوجائے گا۔

مطالعہ کی جگہ بنائیں

مطالعہ کے لیے الگ سے جگہ مختصکرنے کی ایک خاص وجہ بچے کو مطالعہ کا عادی بنانا اور اس کی تعلیمی قابلیت بڑھانا ہوتا ہے۔ مختلف تحقیق سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ گھر میں موجود کتابوں کی تعداد اور بچوں کی مجموعی تعلیمی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔ لازمی نہیں کہ ہر گھر میں لائبریری ہو تب ہی مطالعہ کی عادت کو پروان چڑھایا جاسکے، آپ اپنے گھر کی کسی پُرسکون حصے میںکتابوں کے شیلف اور بین بیگ چیئر کے ساتھ بھی مطالعہ کی جگہ بناسکتے ہیں۔ اس شیلف میں آپ اپنے اہل خانہ کے ذوق کے مطابق یا پھر مختلف موضوعات پر مبنی دلچسپ کتابوں کے ذریعے بچوں کو مطالعہ کا شوقین بناسکتے ہیں۔

مطالعے کو فروغ دیں

لازمی نہیں کہ شروع دن سے ہی بچوں کے ہاتھ میں کتابیں تھماکر ان سے مطالعہ کرنے کو کہا جائے۔ آپ مختلف طریقوں سے ان میں مطالعہ کا رجحان پیدا کریں، مثلاًجب آپ فلم دیکھ رہے ہوںتو بچوں سے اس فلم میںشامل کرداروں کے نام پڑھوائیں، کسی جگہ جائیں تو بچوں سے مینو پڑھوائیں یا جہاںکہیں کچھ پڑھنا ہو تو کوشش کریں کے بچوںکو بھی اس میںمشغول کریں۔

خود مثال بنیں

بچے زیادہ تر اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے میں مطالعہ کا شوق پیدا ہو تو پہلے خود مطالعہ کرنے کی عادت اپنائیں۔ بچپن سے ہی بچوں کے ساتھ مل کر مطالعے کرنے کی عادت کو فروغ دیں، انھیں بتائیں کہ مطالعہ کس طرح کسی بھی انسان کی زندگی یا کامیابی میں مددگار ہوتا ہے۔ بچوں کے ساتھ مل کر کتابوں اور میگزین کا مطالعہ کریں، ساتھ ہی ہر ہفتے مقامی لائبریری جانے کا شیڈول متعین کریں۔

زندگی اور مطالعہ میں تعلق قائم کریں

بچوں کوحقیقی زندگی اور مطالعہ کے درمیان ربط پیدا کرنا سکھائیں۔ مثال کے طور پر کسی ناکامی کی صورت میں انھیں کامیاب انسان کی بائیوگرافی پڑھ کر سنائیں یا انھیں اپنے مسائل کا حل کتابوں میں تلاش کرنا سکھائیں، ان کے سوالوں کے جواب اور ان کی وضاحت کے لیے کسی کتاب کا حوالہ دیںاور انھیںمعلومات فراہم کریں کہ دنیا میں کس کس طرح کے موضوعات پر کتابیں موجود ہیں۔

وقت مقرر کیجیے

بچوں کو بچپن سے ہی مطالعہ کا شوقین بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان کے ساتھ تھوڑا ہی سہی مگرباقاعدگی سے پڑھیں۔ دن کے فارغ اوقات میں سے ایک یا آدھا گھنٹہ مطالعہ کےلیے وقف کردیں۔ اکثر والدین کتابوں کے مطالعہ کے لیے بیڈ ٹائم (سونے کا وقت ) مقرر کرتے ہیں، یہ وہ وقت ہوتا ہےجب آپ دنیا کے تمام جھمیلوں سے فارغ ہوکر اپنے بچے کے ساتھ پرسکون انداز میں مطالعہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

کتابوں پر گفتگو کریں

جب آپ کا بچہ کسی کتاب کو مکمل پڑھ لے تو اس سے کتاب کے موضوعات پر گفتگو لازمی کریں، اس سے پوچھیں کہ اسے کتاب کا کون سا حصہ زیادہ پسند آیا اور اس کی کیا وجہ ہے۔یہ تمام گفتگو آپ کے بچے کی اسکلز میں اضافہ کرے گی اور مطالعے میں اس کی دلچسپی بھی بڑھائےگی۔


مکمل خبر پڑھیں