بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ

October 10, 2019
 

ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماہ اکتوبر ’’بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990ء کے عشرے میں دنیا بھر میں پہلی مرتبہ بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس مہم کے تحت نیویارک میراتھن دوڑ میں شریک خواتین نے ’پنک ربن‘ پہن کر دوڑ لگائی تھی۔ اس کے بعد نیویارک میں ایک فلاحی ادارہ تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد بریسٹ کینسر سے متعلق ہونے والی سائنسی تحقیقات اور عوامی طور پر اس مرض کا شعور اجاگر کرنے کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا تھا۔

یہ ادارہ ہر سال بریسٹ کینسر سے آگاہی فراہم کرنے کے لیےہم خیال لوگوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر پنک ربن موٹف استعمال کرتے ہوئے مہم چلاتاہے۔ مہم میں حصہ لینے والے اسپانسرز کو بھی پنک ربن استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور جمع کیے گئے فنڈز کوبریسٹ کینسر کی وجوہات، تشخیص ،علاج اور روک تھام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر منعقد کی جانے والی اس مہم میں ہر سال ہزاروں تنظیموں کی شمولیت کے ذریعے بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی اور شعور اجاگر کیا جاتا ہے ۔

آگاہی کیوں ضروری ہے؟

خواتین میں جِلد کے کینسر کے بعد بریسٹ کینسر سب سے عام مرض ہے۔ اوسط عمر میں ہر عورت میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 12فیصد پایا جاتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 3لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہےجن میں سےتقریباً 15فیصد 40ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر8میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے جب کہ ہر 2منٹ میں ایک عورت میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے توایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں پائی جاتی ہے، جس کے باعث یہ مرض ملک میںخواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موذی مرض سے نمٹنے کے لیے لازمی ہےکہ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ہو لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کو اس مرض کے حوالےسے آگاہی حاصل ہو۔

اس مرض سے متعلق یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بریسٹ کینسر کے لیے اسکریننگ ٹیسٹ40سال کی عمر میں شروع کیاجاتا ہے جبکہ سالانہ میموگرافی اور مرض کی بروقت تشخیص کے ذریعے بریسٹ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کے حوالے سے باشعور ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ نہ صرف اس مرض سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جاسکے بلکہ اس مرض کی شرح بھی کم ہوجائے۔

بریسٹ کینسر کیا ہے ؟

جسم کے پٹھے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنے ہوتے ہیںلیکن اگریہی خلیے بےقابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک ڈھیر بنا لیں تو یہ کینسر بن جاتا ہے۔ زیر غور بیماری میں چھاتی میں گلٹی یا رسولی بن جاتی ہے، یہ گلٹی یا رسولی سائز میں بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل بھی سکتی ہیں،جس کے باعث چھاتی میں تکلیف اور ساخت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ کینسر متعدی (Infectious) نہیں ہوتا، نہ ہی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بریسٹ کینسر بنیادی طور پر خواتین کو متاثر کرتا ہے، تاہم مردوں میں بھی اس کینسر کے خطرات پائے جاتے ہیں، مگر تشخیص نہ ہونے کے برابرہے۔

وجوہا ت

بین الاقوامی ڈاکٹرز کی آراء کے مطابق ،

٭ ہارمونز کی بے اعتدالی بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔ بنیادی طور پر جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب خواتین کا غیرصحت مند طرز زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

٭بڑی عمر میں شادی یا زائد عمر میں پہلے بچے کی پیدائش بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہےلیکن اس حوالےسے ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیںان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 4فیصدکم ہوجاتا ہے۔

٭بریسٹ کینسر موروثی کینسر بھی ہے، تقریباً 10فیصد بریسٹ کینسر موروثی جینیاتی نقائص کی وجہ سے ہوتاہے جبکہ جینیاتی نقائص کی حامل خواتین کی اپنی زندگیوں میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔

٭عام طور پر بریسٹ کینسر کا سبب بریسٹ لمپس بھی ہوتے ہیں۔ یہ چھاتی میں بننے والی وہ گلٹیاں یا گومڑ ہیں، جنہیں پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کہا جاتا ہے۔ بریسٹ لمپس کے سبب بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں ۔

بروقت تشخیص

اس مرض پر قابو پانے کیلئے سب سے پہلا مرحلہ اس کی تشخیص ہے، جس کے لیے طبی ماہرین خواتین کوبریسٹ چیک اَپ باقاعدگی سے کروانے کا مشورہ دیتے ہیں، خصوصاً ان خواتین کوجن کی عمر 40سال سے زائد ہے۔

تشخیص کا بہترین طریقہ میموگرافی ہے، خواتین کسی بھی شبہہ کی صورت میںمیموگرافی کرواسکتی ہیں۔ یہ ایک طرز کا ایکسرے ہوتا ہے جس کے ذریعے چند گھنٹوں میں کینسر کے مرض کا پتا چل جاتا ہے۔ میموگرافی کروانے کے وقت سے متعلق کافی عرصے سے ایک لمبی بحث جاری ہے، تاہم امریکی پریوینٹو سروسز ٹاسک فورس کی ایک حالیہ تجویز کے مطابق50سال میں قدم رکھنے والی تمام تر خواتین کو ہر دو سال میں کم ازکم ایک بار میموگرافی ضرور کروانی چاہیے۔

امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق خواتین کو 45سال کی عمر سے سالانہ اسکریننگ کروانی چاہیے جبکہ50سال کی عمر تک میموگرافی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ تاہم اگر کسی کی فیملی ہسٹری میں بریسٹ کینسر کے کیسز موجود ہیں تو اسے اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے مخصوص عمر سے قبل ہی میموگرافی کروالینی چاہیے۔