Advertisement

خوشحال زندگی اور ریٹائرمنٹ کیلئے ’بچتوں‘ کی منصوبہ بندی

October 14, 2019
 

مستقبل کے لیے پیسے بچانا ایک بہت بڑا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ ہمارا ذہن فطری طور پر ’یہاں اور ابھی‘ (Here & now)کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس دماغی کیفیت کو ماہرینِ نفسیات Present biasکا نام دیتے ہیں۔ فنانشل سائیکالوجی انسٹیٹیوٹ کے بانی اور سندیافتہ فنانشل پلانر براڈکلونٹز کہتے ہیں کہ مستقبل کے لیے بچت کرنا اس وقت اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے، جب آپ وقت کی طوالت کا سوچتے ہیں۔

اس لیے ریٹائرمنٹ کو انتہائی دور کی منزل سمجھنے کے بجائے، اسے اس طرح لیں کہ وہاں پہنچنے کے لیے آپ کو ہر چھوٹے فاصلے پر چیک پوائنٹس کو عبور کرنا ہے، جن کے بغیر آپ براہِ راست منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔

ریٹائرمنٹ 30برس کی دوری پر ہو

یہی بہترین وقت ہے:ہدف طے کریں کہ آپ نے اپنی قبل از ٹیکس آمدنی کا 5سے 6فی صد ریٹائرمنٹ کے لیے بچانا ہے (عموماًاس کے مساوی رقم آجر کی طرف سے بھی ڈالی جاتی ہے)۔ اس کے علاوہ آپ نے 5سے 6فی صد رقم قلیل مدتی بچتوں (Short term savings)میں رکھنی ہے (کسی بھی وقت کی ان دیکھی اور اچانک مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے)۔

کیٹی واٹر ایک سند یافتہ فنانشل پلانر اور Stable Water Financialکی بانی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دونوں بچتوں (ریٹائرمنٹ اور قلیل مدتی) میںماہانہ بنیادوں پر آپ کی کم از کم 15فی صد آمدنی جانی چاہیے اور جس وقت آپ کی قلیل مدتی بچتیں 5سے 6ماہ کے اخراجات کے لیے کافی ہوجائیں، اس کے بعد اپنی تمام کی تمام 15فی صد بچتوں کو اپنے ریٹائرمنٹ فنڈ کے لیے مختص کردیں۔ آپ اپنے ریٹائرمنٹ فنڈ میںجتنا جلدی حصہ ڈالنا شروع کردیں گے، آپ کی زندگی اتنی ہی اچھی گزرے گی۔

ریٹائرمنٹ 20برس کی دوری پر ہو

اپنی بچتوںکو ٹربو چارج کریں: دوسری جنگِ عظیم کے بعد 20سے 30سال کے عرصہ میں امریکا اور برطانیہ میں سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش ہوئی۔ اندازہ ہے کہ اس عہد میں پیدا ہونے والے افراد نے اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے اوسطاً 25ہزار ڈالر یا اس سے کم بچتیں کی تھیں لیکن آج حالات بدل گئے ہیں۔

افراطِ زر (مہنگائی) نے دنیا بھر کی کرنسیوں کی قوتِخرید کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ بظاہر آپ ریٹائرمنٹ کے لیے بچتوں کا آغاز کرنے میں تاخیر کا شکار ہوچکے ہیں لیکن کوئی بات نہیں آپ کے پاس ابھی بھی محفوظ ریٹائرمنٹ کی بس پکڑنے کے لیے وقت موجود ہے۔

امریکن ایسوسی ایشن آف انڈیویجول انویسٹرز کے مالیاتی منصوبہ ساز کہتے ہیں کہ جو لوگ آج سے 20سال بعد ریٹائرمنٹ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں یا ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیںگے، انھیں ریٹائرمنٹ فنڈ کے لیے کم از کم ایک ملین ڈالر (10لاکھ ڈالر) کا ہدف مقرر کرنا چاہیے۔

یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے آپ کو ہر ماہ کچھ اضافی رقم (15فی صد کے علاوہ) اپنے ریٹائرمنٹ فنڈ میں ڈالنا ہوگی۔ اس کے علاوہ آپ آمدنی میں اضافے کے لیے کسی ماہر اسٹاک ایجنٹ کی مدد سے حصص بازار میں کچھ جارحانہ سرمایہ کاری کرنے پر بھی غور کرسکتے ہیں۔ اب آپ زندگی میں اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں، جہاں آپ کو خود سے سوال کرنا ہے کہ آپ ہر ماہ کہاں کہاں فضول خرچیاں کرتے ہیں، جنھیں ختم کیا جاسکتا ہے۔

ریٹائرمنٹ 10برس کی دوری پر ہو

ایک خاکہ کھینچیں: ماضی کی نسلوں کےلیے ریٹائرمنٹایک اچانک وقوع پذیر ہونے والا واقعہ ہوا کرتا تھا۔ کُل وقتی کام سے کُل وقتی آرام۔ اب سروے یہ بتاتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ میں جانے والے تقریباً آدھے لوگ مرحلہ وار ریٹائرمنٹ کا منصوبہ لے کر چلتے ہیں، مثلاً جزوقتی (پارٹٹائم) کام کی طرف متوجہ ہونا جبکہ تقریباً 20فی صد لوگ کچھ نئے کام میں طبع آزمائی کرنا چاہتے ہیں، جیسے اپنا کاروبار شروع کرنا یا آجر بدلنا۔

You Can Retire Earlyکے مصنف ڈیکون ہئیز کہتے ہیں، ’’آپ کی ریٹائرمنٹ کیسی ہونی چاہیے، یہ خاکہ آپ جس طرح زیادہ وضاحت کے ساتھ کھینچیں گے، آپ اسے حاصل کرنے کے لیے اتنی زیادہ دلجمعی کے ساتھ محنت کریں گے‘‘۔ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی ساحل کنارے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں یا کوئی ذاتی کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں؟ دونوں منصوبوں کے لیے مختلف مالیاتی منصوبے کی ضرورت ہے، یہاںتک کہ دونوں کے لیے نوکری چھوڑنے کی ٹائم لائن بھی مختلف ہوگی۔

اگر آپ کوئی بالکل ہی مختلف کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اس کے لیے آپ کو موجودہ نوکری پر رہتے ہوئے، اس کے لیے مطلوبہ صلاحیتیں اور ہنر سیکھنا ہوگا۔ اگر آپ نے پہلے بچتیں نہیں کیں، تو اس دور میں آپ کو اپنی آمدنی کا ہرممکن حد تک بڑا حصہ بچتوں میں ڈالنا ہوگا کیونکہ آپ کا ریٹائرمنٹ فنڈ ناکافی رہے گا، اس لیے ریٹائرمنٹ کے وقت آپ کے ایمرجنسی فنڈ میں اتنی رقم ضروری ہونی چاہیے، جو آپ کے ایک سے دو سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہو۔

ریٹائرمنٹ 5برس کی دوری پر ہو

حساب کتاب ناگزیر: سرمایہ کاری کے مشورے دینے والے ادارے Fidelity انویسٹمنٹس کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت آپ کے پاس مجموعی بچتوںمیں سالانہ آمدنی کے 10گنا سرمایہ ہونا چاہیے۔ یہ اعداد بہت سے لوگوں کو ڈرانے کے لیے کافی ہیں، خصوصاً جب آپ بچتوں کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیںہوسکے ہیں۔

تاہم ابھی بھی یہ جان لینا ضروری ہے، بجائے اس کے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ حقائق جان کر آپ کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ ابھی جان لینے کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو منصوبہ بندی کرنے میںآسانی رہے گی کہ آیا آپ اپنی ماہانہ بچتوں کو دُگنا کرسکتے ہیں یا پھر آپ کو مزید چند سال تک کام کرتے رہنا چاہیے۔


مکمل خبر پڑھیں