اماں میں آج کام پر نہیں جاؤں گا

بچوں کا جنگ
January 11, 2020

وانیہ احمد

جانے کل کی ذلت کا اثر تھا یا دائیں ٹانگ میں لگنے والی چوٹ کا درد۔کہ وہ ننھا منا ساجد آج کام پر جانے سے انکاری تھا۔ دس سالہ ساجد اماں کی گود میں سر رکھے دائیں گھٹنے میں لگے زخم کی تکلیف کا بتا کر آج کام سے چھٹی کی ضد کررہا تھا۔ کام کیا تھا، سارا دن کچرا چننا، سارے دن کی ذلت کے بعد اتنے پیسے ہی اکٹھے ہوتے کہ گھر کا خرچہ چلانے میں مزدور باپ کی کچھ مدد ہو جاتی۔ حساس طبیعت ساجد کا شمار بھی ان ننھے منے تاروں میں ہوتا ہے، جن کے نصیب کی سیاہی کبھی مٹنے کا نام نہیں لیتی۔

کل ساجد کو بھی کسی ستم ظریف کے ہاتھ کا مذاق اڑاتا تھپڑ اس کی شخصیت کو چکنا چور کرنے کے ساتھ اسے زمین بوس ہونے پر بھی مجبور کرگیا تھا، باقی کام پاس پڑے ایک نوکیلے پتھر نے کردیا۔ دائیں گھٹنے پر شدید ضرب لگی اور خون رسنے لگا۔مارنے والا درد کا احساس کیے بنا آگے بڑھ چکا تھا۔ اور ساجد کچھ دیر سسکنے کے بعد مرہم کی جگہ مٹی رکھ کر پاس پڑے کپڑے کے چھوٹے سے ٹکڑے سے گھٹنے کو سختی سے باندھ کر کہیں کھڑے ہونے کے قابل ہوا تھا۔ اور اگلے دن درد کی ٹیسوں سے زیادہ تھپڑ کی ذلت اسے مضمحل کیے کام پرجانے سے روک رہی تھی، ’’اماں کام پر نہیں جاؤں گا۔‘‘ وہ ماں کی گود میں سر رکھے ننھے بچے کی طرح ضد کرنے لگا۔ماں غریب ہو یا امیر، اپنے بچے کے لیے ایک جیسا ہی دل رکھتی ہے۔

ساجد کی ماں کی آنکھوں میں بھی اپنے بچوں کے لیے اونچے خواب جگمگاتے تو تھے، مگر جلد ہی ان کی روشنی ماند پڑ جاتی تھی۔ ماں نے بیچارگی سے پاس ہی چارپائی پر نمونیا میں مبتلا آٹھ سالہ نسرین کو دیکھا جو بے سدھ پڑی تھی۔ اس کی تھوڑی بہت دوائیاں جو آتیں، ساجد کی دیہاڑی سے ہی آتیں۔ ابا کے پیسوں سےتو دو وقت کی روٹی ہی چل جانا غنیمت تھی۔وہ تھوڑی بہت دوائیاں جن سے نسرین کی سانسوں کی ڈوری نحیف ہی سہی، مگر چل رہی تھی، ان حالات میں غریب گھرانے کے لیے ایک دن کی چھٹی کا مطلب ایک دن بھوکا رہنا کہلاتا ہے۔ اسی لیے یہاں خوابوں، خواہشوں اور کوششوں کا دائرہ صرف روٹی کے حصول تک ہی محدود رہتا ہے۔

ماں نے پچکارا، سمجھایا، نیم گرم پانی سے زخم کو دھو کر ایک ٹکرے میں پسیہ ہوئی ہلدی زخم میں اچھی طرح باندھ کر کسی نہ کسی طرح اُسے کام پر بھیج دیا، ساتھ نصیحت بھی کی کہ بیٹا! جتنا ممکن ہو، اپنی حیثیت سے اونچے لوگوں سے اتنا ہی کٹ کر چلو۔ جتنا اپنے تھیلے کو بچانے کے لیے کتوں سے بچتے ہو۔ اس دوران کام پر جانے سے انکاری ساجد مسلسل روتا رہا تھا، آخر کار منہ بسورتا ہوا اپنے تھیلے کواٹھایا اور باہر نکل گیا۔

ایک سمت خاموشی سے چلتا رہا۔کئی کاغذ ہوا میں اڑتے نظر آئے، ردی پڑی ملی، مگر آج وہ کسی بھی چیز کو دیکھ کر خوش نہ ہوا اور نہ ہی اٹھا کر اپنے بوری نما تھیلے میں ڈالنے کی کوشش کی۔ چلتے چلتے پل کے نیچے اسے چند فٹ پاتھ پر بچے نظر آئے۔ وہ بچے جن کا کوئی گھر نہیں ہوتا، جو فٹ پاتھ پر ہی رہتے ہیں۔ گلیاں ہمارے تعفن زدہ معاشرے کی طرح ان کے ساتھ سوتیلی ماؤں جیسا سلوک نہیں کرتیں، اسی لیے انہیں عزیز ہوتی ہیں۔وہ بچے جو دن بھر مختلف مزدوری کر کے رات کو صمد بانڈ کا نشہ اپنے پھیپھڑوں میں اُتار کر پلوں کے نیچے سو پڑتے ہیں، جنھیں دیکھ کر اس بے حس معاشرے کا مردہ ضمیر نہیں جاگتا۔

ساجد ان کے پاس چلا آیا، تھیلا کندھے سے اتارکر چپ چاپ بیٹھ گیا، وہ روز ہی ساجد کو دیکھتے تھے، تھوڑی بہت دوستی بھی تھی کہ دُکھ تو سب کا سانجھا ہی تھا۔ ہاں ساجد کو ایک گھر میسر تھا، ماں میسر تھی۔ مگر آج وہ اُن کے پاس اِن سب چیزوں کو چھوڑنے آیا تھا۔ننھے دماغ نے اسے سمجھایا تھا کہااصل آزادی تو یہ ہے، اپنی مرضی سے کام کرنا، مل کر مار دھاڑ کرنا اور رات کو صمد بانڈ رومال میں لپیٹ کر سونگھتے سونگھتے مزے کی نیند سو جانا، ابا کی مار، ماں کی ڈانٹ اور معاشرے کے پھٹکار سے بچنے کا واحد حل!”فٹ پاتھ پر بچوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا، اپنے گروپ میں شامل کر لیا اور جلد ہی یہاں سے کہیں دور بسیرا کرنے کے لیے چل پڑے ۔

اس سے پہلے کہ ساجد کا باپ اسے ڈھونڈنے آ پہنچتا۔ اُس روز کا سورج ساجد کی ماں کو جلاتا، تڑپاتا غروب ہو گیا۔ وہ روتی بلکتی رہی، ایک طرف بیمار بیٹی تھی، اور دوسری طرف ساجد کی گمشدگی۔ باپ بھی ساجد کو ڈھونڈتا پھرتا رہا، مگر آخر کب تک؟ سانس کے چلنے کا تعلق روٹی سے وابستہ ہے۔ اب وہ روزانہ مزدوری کے دوران بیٹے کو ڈھونڈتا رہتا، تصویر تو کبھی بنوائی نہیں تھی، ایسے حالات ہی کہاں تھے، زبانی کلامی حلیہ بتا کر لوگوں سے معلوم کرتا رہا۔

اُدھر کچھ دن نسرین کی دوائیوں کا سلسلہ جو رُکا تو اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔ دونوں میاں بیوی بھاگم بھاگ اسے قریبی سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ لے کر پہنچے۔ نسرین کی ماں رونے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی تھی، سو روتے ہوئے بچی کو سنبھال رہی تھی۔ اور نسرین کا باپ اُس وقت خود کو دنیا کا سب سے بدقسمت باپ تصور کر رہا تھا اسٹور سے خالی ہاتھ لوٹ آیا تھا کہ دوائیاں یہاں بھی پیسوں سے ملتی تھیں۔

کہاں سے لاؤں دوائیاں؟ ۔اچانک وہ لوگوں کے سامنے جا کر ہاتھ پھیلا کر مدد مانگنے لگا، وہ روتا بے قراری سے دوائی کی پرچی دکھاتا اور پھر مدد کی درخواست کرتا۔ شہرمیں پیشہ ور گداگروں کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے کئی لوگ اسے جھوٹا سمجھ کر آگے بڑھ گئے، کچھ لوگوں نے مدد بھی کی، جو کہ ناکافی تھی۔

یوں اپنی بچی کی زندگی کے لیے وہ بھیک مانگتے مانگتے کچھ پیسے اکٹھے کر کے کچھ دوائیاں لے کر بھاگتا ہوا ایمرجنسی وارڈ پہنچا، مگر دروازے پر ہی بیوی کی دلدوز چیخ نے اسے ہلا دیا۔ ننھی نسرین تتلی کی مانند زندگی کی ہتھیلی میں دب کر اپنے کچے رنگ چھوڑگئی تھی۔ماں باپ رنگوں سے خالی بے جان جسم کو اٹھائے زندگی کا نوحہ پڑھتے روتے سسکتے باہر آ رہے تھے۔ مگر ان کے ساتھ چپک کر چلتی غربت ذرا بھی افسردہ ہوئے بغیر دانت نکالے قہقہے لگاتی ہوئی ان سے چمٹی چلی آرہی تھی۔

ساتھیو! اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ایسےبہت سے بچے بھوک اور افلاس کی تصویر بنے نظر آئیں گے۔ہماری تھوڑی سی مدد اور توجہ شاید ان کی زندگی بدل دے