’اسلحے کی برآمدگی کا معاملہ‘ دو ماہ بعد بھی تحقیقاتی رپورٹ پیش نہیں ہوئی

January 19, 2020

سال 2019 کا سورج غروب ہوگیا ،نئے سال کےآغاز کے ساتھ ہی تمام محکموں خصوصاََ پولیس کے محکمے کی جانب سے سالانہ کارکردگی رپورٹ کاڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں بے نظیر آباد ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مظہر نواز شیخ کی جانب سے جاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پورے ڈویژن کی پولیس نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ضلع شہید بے نظیر آباد میں منشیات کے خلاف مہم میں ریکارڈ ایف آئی آر کے اندراج پر آئی جی پولیس سید کلیم امام کی جانب سے ایس ایس پی اور ڈی آئی جی کو ایک ایک لاکھ روپیہ نقد انعام اور سرٹیفکیٹ بھی دیئے جا چکے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق تینوں اضلاع میں 7ہزار 13ایف آئی آر کااندراج کیا گیا ۔ جبکہ 2018 میں 6583کیس رجسٹرڈ ہوئےتھے ۔مختلف مقدمات میں مطلوب 14 ہزار 554 ملزمان میں سے 11 ہزار 940 ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا ۔اس دوران 281اشتہاری اور 1836روپوش ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ان تمام دعووں کے باوجود دو ماہ قبل اے سیکشن پولیس نےبھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کرنے کا جو دعوی کیا تھا اس کی تحققاتی رپورٹ ہنوز تعطل کا شکار ہے۔

نواب شاہ رینج میں 49 پولیس مقابلے ہوئےجن میں ایک ملزم ہلاک، چار زخمی ملزمان سمیت 84 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مقابلے کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آئی جی پولیس سندھ سید کلیم امام کی خصوصی ہدایت پرڈی آئی جی بے نظیر آباد کے حکم پر تینوں اضلاع کے ایس ایس پیز کی جانب سے جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران مبینہ طور سے 7 ہینڈ گرنیڈ، 25 رائفل137 شارٹ گن ، 337 پستول اور پانچ کلاشن کوف رائفلیں برآمد کی گئیں۔

منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں 219گرام ہیروئن،919کلو 954گرام چرس، 2کلو 550گرام افیون ،1134 کلو 685 گرام بھنگ، 383 گرام آئس ، 63ہزار 615 لیٹر دیسی شراب ,1369 بوتلیں اور 764پوائنٹ شراب کے علاوہ 2 لاکھ 96ہزار1کلو 684گرام گٹکااور مین پوری برآمد کی گئی ۔رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل و کار لفٹر گروپوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 9گاڑیاں اور 97موٹر سائیکلیں برآمد کر کے ملکیت کی تصدیق کے بعد اصل مالکان کے حوالے کی گئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس کی ہدایات پر گزشتہ برس غیر قانونی اسلحہ منشیات رکھنے والوں کے خلاف کاروائی ، کمیونٹی پولیسنگ ، سکیورٹی ، فارمل انسپیکشن اور پولیس اہلکاروں کی بہبود کے لئے اقدامات کئے گئے جبکہ جھوٹے مقدمات و درخواستوں کی روک تھام کے لئے کاروائیاں تیزکرتے ہوئے سات سو افراد کے خلاف کارروائی کے لیے شکایات متعلقہ عدالتوں کو بھیجی گئی ہیں ۔

ایک کارروائی میں پولیس نے اے سیکشن پولیس اسٹیشن کی حددمیں واقع کیمپ نمبر 2 کے گنجان آباد محلے میں چھاپے کے دوران محمد یوسف زئی نامی شخص کے مکان سے لاکھوں روپے مالیت کے اسلحہ کی برآمدگی دکھائی ہے ۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی تنویر حسین تنیونے ہنگامی پریس کانفرنس میں اسے ضلعی پویس کی تاریخی کامیابی قرار دیا تھا۔

انہوں نے اس سلسلے میں تفتیش کے لیے ڈی ایس پی سی آئی اے مبین احمد پرھیاڑ کی سربراہی میں تین رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی تھی تاہم دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعدبھی انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ مشتہر نہیں کی گئی۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑی تعداد میں اس اسلحہ کو جس کو پولیس نے نواب شاہ کی تاریخ میں سب سے بڑی برآمدگی بتائی ہے اصل حقائق منظر عام پر لانے چاہئیں تاکہ سچ اور جھوٹ کا پتہ لگ سکے۔