کورونا کے مریضوں پر ہائیڈرو سائیکلورو کوئن کے تجربات کا آغاز

May 23, 2020

لندن (پی اے) برائٹن اور آکسفورڈ میں کورونا کے مریضوں پر ملیریا کے علاج کیلئے استعمال کی جانے والی دو دوائوں کی آمیزش سے تیار کردہ نئی دوا ہائیڈروکلوروکوئن کے تجربات کا آغاز کردیا گیا ہے، اس دوا کی آزمائش ہیلتھ کیئر کے عملے کے ان ارکان پر کی جا رہی ہے، جو کورونا کے مریضوں کے براہ راست رابطے میں رہے ہیں، یہ دوا ابتدائی طورپر یورپ، افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے 40,000ہیلتھ کارکنوں کو دی جائے گی۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکہ کے صدر کے اس اعلان کے بعد کہ انھوں نے غیر محفوظ قرار دیئے جانے کے انتباہ کے باوجود ہائیڈروکلوروکوئن استعمال کیا، ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اب اس دوا کے عالمی سطح پر تجربات کا آغاز برطانیہ سے کیا گیا ہے، جہاں برائٹن، سسیکس یونیورسٹی ہسپتال اور جون ریڈکلف ہسپتال میں آزمائشی طورپر ان لوگوں کو تین ماہ تک ہائیڈروکلوروکوئن یا پلیسبو دی جائے گی۔ آزمائش میں شریک آکسفورڈ میں تجرباتی طورپر دوا استعمال کرنے والوں کا پہلے ہی سے اندراج کرلیا گیا تھا، آزمائش میں شریک لوگوں کو کلوروکوئن یا ایک پلیسبو دی جائے گی۔ برطانیہ کے 25 علاقوں میں اس دوا کے استعمال کے نتائج اس سال کے آخر تک آنے کا امکان ہے۔ یہ دوا کورونا کے مریض سے براہ راست رابطے میں رہنے والا کوئی بھی ایساشخص جو، اب تک کورونا میں مبتلا نہ ہوا ہو، آزمائشی طورپر استعمال کرسکتا ہے، اس دوا سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ کیا اس سے ہیلتھ کیئر ورکر کورونا کے مریض سے براہ راست رابطے کے باوجود اس وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور یہ ان کیلئے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ اس اسٹڈی کی قیادت کرنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر نکولس وہائٹ کا کہنا ہے کہ ہم ابھی وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کلوروکوئن یا ہائیڈروکلوروکوئن کورونا کے علاج کیلئے کارآمد ہے یا نقصاندہ لیکن اس طرح اس کا تجربہ کرنا جہاں ریسرچرز یا تجربات میں شریک جن لوگوں کو دوا دی جارہی ہو، کسی کو بھی کچھ پتہ نہ ہو، اس کے اچھے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔برائٹن اور سسیکس میڈیکل اسکول کے پروفیسر مارٹن لیویلن کا کہنا ہے کہ اگر کلوروکوئن یا ہائیڈروسائیکلوروکوئن اس مرض کو لگنے سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ثابت ہوئی تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ یہ دوا بخار اور سوجن کم کرتی اور ملیریا کی روک تھام اور علاج دونوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ ہائیڈرو سائیکلورو کوئن جسم کے مدافعتی نظام کو فعال کرتی اور گٹھیا اور نقرس اور بافتوں کی سوزش کیلئے بھی استعمال کرائی جاتی ہے۔ یہ سوجن کم کرنے والی ایک دوا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو زیادہ فعال اور متحرک کردیتی ہے۔ بافتوں کی سوجن اور چہرے کی ٹی بی سے متعلق چیرٹیز نے اس بات پر تشویش ظاہرکی ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کیلئے اس کے استعمال سے اس دوا کی ان مریضوں کو سپلائی متاثر ہوسکتی ہے جو اسی دوا پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیر اہتمام اس دوا کے تجربات ایک کنٹرولڈ کلینکل ماحول میں کئے جا رہے ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ بعض افراد اپنے طورپر اسے استعمال کرسکتے ہیں، جس سے ان کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس سے دل کی دھڑکن بے قابو ہوسکتی ہے، اس دوا کے استعمال کا ابھی تک کورونا وائرس کے علاج یا اس سے بچائو کے حوالے سے اس کا موثر ہونا ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ برطانیہ، تھائی لینڈ، ویتنام، لائوس، کمبوڈیا اور اٹلی کے ریسرچرز بھی اس حوالے سے تجربات کررہے ہیں۔