حسینہ معین کا خط .......کراچی کے نام

March 21, 2021

میرے اپنے پیارے کراچی!

خط لکھنے کی وجہ اس لیے پیش آئی کہ کچھ تم بدل گئے کچھ ہم بدل گئے، وہ جو آدھی رات کو گلیوں میں سے بانسری کی آواز آتی تھی وہ کہاں گم ہوگئی، وہ جو صبح سویرے سڑکیں دھلنے کی آواز پر ہم جاگا کرتے تھے وہ جگانے والے کہاں چلے گئے۔

ہمارا تمھارا پیار تو اس گھڑی سے شروع ہوا تھا جب ہم نے یہاں پہلا قدم رکھا اور تمھارا ہاتھ تھامے بچپن گذارا۔ سمندر کی لہروں کو حیرت سے دیکھتے تھے۔ ریت کے محل بناتے تھے۔ سیپیاں چنتے عمر گزر گئی، کیسے خوشی کے دن تھے۔

میرے اپنے کراچی، اتنا تو بتا دو کہ وہ تتلیاں، وہ جگنو، وہ پرندے ، وہ سیپیاں کہاں چلی گئیں۔ یہ سب تو تم نے آج کے بچوں کو دکھانا تھا۔

وہ راستے ، وہ گلیاں ، وہ عمارتیں ، وہ سویرے، وہ شامیں واپس لادو۔

ہم سب کو اپنی گود میں لینے کو تیار، کراچی کو پھر کون واپس لائے گا؟

ہم چاہیں تو کیا نہیں کرسکتے، ہماری محبت تمھیں پھر سنوار دے گی، نئی زندگی دے گی۔صرف اُس مسیحا کو بلانا ہےجو دکھ درد کو دور کر کے تمھیں پھر سے روشنیوں کا پھولوں کا اور خوشبؤں کا حسین شہر بنادے۔

تمھاری اپنی حسینہ معین