راچڈیل (ہارون مرزا)بارڈر سیکیورٹی فورسز نے مطالبہ کیا ہے کہ ایئر پورٹس پر مسافروں کے کووویڈ پیپرز کی چیکنگ میں ناکامی اور تاخیر پر ائیز لائنز عملہ پر سخت سے سخت جرمانے عائد کیے جائیں، ڈیسک پر فارم بھرنے میں تقریباً ایک شخص کیلئے چالیس منٹ کا وقت ضائع ہو رہا ہے، پیپر ورک کی چیکنگ میں ناکامی کے ذمہ داروں کیخلاف فوری ایکشن لینا چاہیے۔ حالیہ اصولوں کے تحت غیر ضروری سفر پر پابندی کے باوجود بھی گھنٹوں قطاریں دکھائی دیتی ہیں کیونکہ عہدیداروں نے انفرادی طور پر ہزاروں مسافروں کے کوویڈ پیپر ورک کو پہنچنے پر چیک کیا،گذشتہ ہفتے پاسپورٹ کنٹرول ڈیسک پر ایک عورت گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد نیم بے ہوش ہو گئی، 17 مئی کو بیرون ملک تعطیلات پر حکومت کی پابندی کے خاتمے کے موقع پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تاخیر اور بڑھ سکتی ہے، امیگریشن سروسز یونین جو بارڈر فورس کے کارکنوں کی نمائندگی کرتا ہے نے کہا کہ آنے والوں کو کوویڈ ٹریول قواعد پر عمل پیرا ہونے کو یقینی بنانے کے لئے دباؤ ایئر لائنز پر ہونا چاہیے، مسافروں کے لوکیٹر کے فارموں کو ایئر لائنز کے ذریعے سوار ہونے سے قبل جانچنا چاہیے، اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں دو ہزا ر پائونڈ کا جرمانہ کیا جانا چاہیے، عملے کی غیر ذمہ داری اور غیر حاضری کی وجہ سے بعض اوقات بارڈر فورس اہلکاروں کو غلط فارموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا کسی منفی کوویڈ ٹیسٹ کا ثبوت نہیں ملتا ہے، یونین نے کہا کہ اس سے چار منٹ کا وقت تیس سے چالیس منٹ تک بڑھ جاتا ہے جس سے افسران کا قیمتی وقت برباد ہو رہا ہے، ٹریفک لائٹ سسٹم کے تحت سبز ، عنبر یا سرخ رنگ جیسے ممالک کو آپس میں تقسیم کرکے بین الاقوامی سفر شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، گزشتہ روز یہ انکشاف ہوا تھا کہ حکومت کی گرین ٹریول لسٹ میں صرف آٹھ ممالک شامل ہونگے ، جن میں جبرالٹر ، اسرائیل ، آئس لینڈ اور امریکہ شامل ہیں امیگریشن سروسز یونین کی لوسی مورٹن نے ٹائمز کو بتایا کہ پاسپورٹ کنٹرول میں تاخیر کے مسئلے کو درست کرنے کے لئے دو آپشن ہیں کوووڈ کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے 100 فیصد آنے والوں کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت کو ہٹا دیں جس سے لازمی طور پر قومی کوووڈ سیکیورٹی کے لئے خطرہ بڑھ جاتا ہے یا پھر کیریئروں کو یہ یقینی بنانے کے لئے مجبور کریں کہ وہ جو برطانیہ لاتے ہیں وہ برطانیہ کی ضروریات پر عمل پیرا ہیں، بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ آنے والے دستاویزات کے لئے کاغذی نظام کو ڈیجیٹل بنائے، مہینے کے شروع میں یوکے بارڈر فورس کے سابق سربراہ ٹونی اسمتھ نے کہا تھا کہ حکومت کو افسران پر بوجھ کم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے، انہوں نے بین الاقوامی حکومتوں اور ایئر لائنز پر زور دیا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھائیں ۔