لاک ڈاؤن میں نرمی،برطانیہ میں بیروزگاری کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ بھی کمی

April 21, 2021

لندن ( پی اے) آفس آف نیشنل اسٹیٹسٹکس (او این ایس ) کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں بیروزگاری کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ کمی آئی ہے۔ او این ایس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بیروز گاری میں مسلسل کمی آئی ہے اور کورونا وائرس کوویڈ 19 لاک ڈائون کے بعد کاروبار اور مارکیٹس کے دوبارہ کھلنے کی وجہ سے جاب اسامیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ کورونا وائرس پینڈامک کے ائرات سے تباہ حال جاب مارکیٹ کیلئے بھی امید کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق دسمبر اور فروری کے درمیان بیروزگاری کا تناسب کم ہو کر 4.9 فیصد پر آگیا ہے جو گزشتہ تین ماہ میں 5 فیصد پر تھا۔ زیادہ تر ماہرین اقتصادیات کو توقع تھی کہ بیروزگاری کی شرح میں 5.1 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا لیکن او این ایست کے تازہ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کورونا وائرس پینڈامک شروع ہونے کے تین ماہ بعد مارچ میں 2020 برطانیہ میں پے رول پر موجود ورکرز کی تعداد میں 56000 کی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہا ۔ مارچ 2020 کے مقابلے میں اب مجموعی طور 813000 ورکرز پے رول پر کم تھے ۔ او این ایس میں ماہر اقصادی شماریات اور ڈائریکٹر ڈیرن مورگن نے کہا کہ اوین این ایس کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ موسم بہار میں بڑے دھچکے کے بعد حالیہ مہینوں کے دوران جابس مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔کچھ ماہ کی گروتھ کے بعد مارچ کے مہینے کے دوران پے رول ورکرز کی تعداد میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کورونا وائرس لاک ڈائون میں نرمی کی وجہ سے کاروبار اورمارکیٹس دوبارہ کھلنے کے امکانات کے ساتھ مارچ میں جابس اسامیوں خاص طور پر ہاسپیٹیلٹی جیسے سیکٹرز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ کوویڈ 19 پینڈامک لاک ڈائون شروع ہونے کے بعد 800000 سے زائد ملارمتوں کا خاتمہ ہوا ہے اور تقریبا 5 ملین افراد جو ملازمت پر تھنے ابھی تک فرلو سکیم ہیں ۔ چانسلر رشی سوناک کا کہنا ہے کہ ملازمین کو سپورٹ فراہم کرنے کیلئے فرلو سیم میں توسیع کر دی گئی تھی جو ستمبر میں ختم ہونے والی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ جب فرلو سیکم کا خاتمہ ہو گا تو اس کے بعد بیروزگاری میں اضافے کے خدشات ہیں۔ تاہم یہ امید کی جاتی ہے کہ 2020 میں معیشت 10 فیصد گرنے کے بعد کورونا لاک ڈائون پابندیوں میں نرمی اور کورونا ویکسی نیشن پروگرام کے پھیلائو کے نتیجے میں دوبارہ ابھرے گی جس سے جابس مارکیٹ کو لگنے والے دھچکے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ تازہ ترین جابس ڈیٹا کے حوالے سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چانسلر رشی سوناک نے کہا کہ کورونا وائرس پینڈامک کے آغاز کے بعد سے ہی جابس اور مارکیٹس کا تحفظ کرنا میری اولین ترجیح اور فوکس رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف سکیم کے ذریعے ہی ہم نے 11.2 ملین جابس کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوری کے روڈ میپ کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے اور ملک بھر میں لوگوں کو حکومت کے مرکز میں رکھتے ہوئے میں ہمارے جابس سپورٹنگ پلان اور جابس پیدا کرنے کے رسپانس کو جاری رکھوں گا۔ دسمبر اور جنوری کے درمیان مجموعی بیروزگاری 1.68 ملین تھی۔ او این ایس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران 50000 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ او این ایس کے ڈیٹا کے مطابق اس سہ ماہی میں جابس میں 73000 کی کمی واقع ہوئی ہے اور تعداد سہ ماہی میں 32.4 ملین ہو گئی ہے۔ ایک اور اقدام میں دعوے داروں کو شمار کرتے ہوئے کم آمدنی اور گھنٹوں کے چساب سے کام کرنے والے اور کام نہ کرنے والے افراد کی تعداد ماہ بہ ماہ 0.4 فیصد اضافہ کے ساتھ مارچ میں 2.7 ملین ہو گئی ہے۔