• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی کابینہ، بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں، دستیابی سے متعلق مرکزی ڈیٹابیس بنانے کی منظوری

اسلام آ باد ( نمائندہ جنگ) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں و فاقی کا بینہ نے ملک میں کھانے پینے کی بنیادی اشیائے ضروریہ کے حوالے سے بروقت فیصلہ سازی کو یقینی بنانے اور اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد‘قیمتوں کے تعین‘نقل و حمل کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لئے مرکزی ڈیٹا بیس کے قیام کی منظوری دی ، وزیرِ اعظم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیاجبکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ناموس رسالت کے حوالے سے قرارداد پیش کرکے معاہدے پر عملدرآمد کردیا ہے ہم پارلیمنٹ کی جماعتوں کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے۔ہم آئین کے تابع ہیں کوئی بادشاہت نہیں چلا رہے۔ کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کے بعد اسے واپس لینے کا اختیار نہیں‘فضل الرحمٰن‘خاقان عباسی اور احسن اقبال کی اسلام نہیں اسلام آباد کی لڑائی ہے، غنڈوں والے رویے سے ہم دبائو میں نہیں آئیں گے ۔ آپ ایک جوتا ماریں گے تو ادھر سے سو جوتے آئیں گے‘گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کےاستعمال سے متعلق ضروری قانون سازی کرنا ہوگی، انٹرنیٹ ووٹنگ کے حوالے سے سیکیورٹی کے ایشو ہیں،کابینہ نے وفاق کے زیرانتظام 5 ہسپتالوں کے ایم ٹی آئی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری دی ۔وفاقی حکومت چاہتی کہ کراچی میں وفاق کے زیرانتظام ہسپتالوں کو مل کر چلایا جائے، کابینہ نے ظہیر عباس کھوکھر کو چیئرمین پاکستان بیت المال تعینات کرنے ،کراچی سے کابل تک یونیسف کےکنٹینرز کی ترسیل کی منظوری دی ہے‘انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے شاہد خاقان عباسی وزیراعظم رہ چکے ہیں،انہین بات کرنے کی تمیز نہیں، معاہدہ قانون کے اندر ہے ہم مقدمات ختم نہیں کرسکتے وہ عدالتوں میں جانے ہیں قتل کے مقدمات ختم کرنے کا ہمارا اختیار نہیں۔ نیوکلیئر اور بائیولوجیکل ہتھیاروں سے متعلقہ سامان، ٹیکنالوجی اور آلات وغیرہ کی برآمد پر کنٹرول کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار دار 1540 پر موثر طور پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کا پھیلائو روکنے کے حوالے سے حکومت پاکستان کے عزم کو مزید موثر طریقے سے عملی جامہ پہنانے کے لئے کابینہ نے اسٹریٹیجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن کو بعض اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دی تاکہ وہ اس حوالے سے بروقت فیصلے لے سکے۔ کابینہ نے خالد حامد کو چیف ایگزیکیٹو افسر برائے نیشنل انشورنس کمپنی تعینات کرنے، پاک ایران سرحد پر بارڈر مارکیٹوں کے قیام کے لئے ایران سے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنے ‘بجلی کی دس تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صارفین کے نمائندوں کی شمولیت کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے کرتارپور راہداری منصوبے کو پیپرا رولز سے استثنی دینے کی منظوری کے معاملہ پر غور مو خر کر دیا۔ نوشہرہ میں ریلوے کی زمین پر کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کا معاملہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ۔ 

تازہ ترین