• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطن عزیزکی آبادی کو اسوقت کورونا کی ان تمام اقسام سے خطرات لاحق ہیں جوبہت سے ملکوں میں اب تک لاکھوں افراد کو ہلاک و متاثر کر چکی ہیں۔ان میں سرفہرست بھارتی وائرس ہےجو گزشتہ دو ماہ سے روزانہ لاکھوں افراد کو متاثر اور ہزاروں کی ہلاکت کا باعث بنا ہوا ہے۔ صرف گزشتہ 24گھنٹے کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں نئے کیس چار لاکھ ایک ہزار 78جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 4028ریکارڈ پر آئی۔ اس صورتحال پر حکومت پاکستان کی گہری نظر ہے جبکہ پاکستان کو اس وقت کورونا کی برطانوی قسم کا سامنا ہے اور چند روز قبل افریقی اور برازیلین کووڈ کیسوں کی یہاں بھی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے یہ دونوں اقسام متذکرہ ممالک میں لاکھوں کیسوں اور ہلاکتوں کا باعث بن چکی ہیں ملک میں 8مئی کوبرطانوی وائرس سے متاثرہ یومیہ کیس چار ہزار 298اور ہلاکتیں 140تھیں جبکہ وبا کی مثبت شرح 9.58فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ جس کی وجہ سے ملک میں ہلاکتوں کی کل تعداد 18677تک جا پہنچی ہے جو گزشتہ برس انہی دنوں میں 622تھی ۔ملک میں 8 مئی کو ریکارڈ پر آنے والے مجموعی کیسوں کی تعداد ساڑھے 8 لاکھ جبکہ گزشتہ برس متذکرہ تاریخ کو یہی تعداد 26ہزار 806تھی۔ گزشتہ برس انہی دنوں میں پنجاب میں لاک ڈائون میں نرمی ، سندھ میں کاروبار کرنے کی اجازت ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں محدود کاروباری سرگرمیوں کی طرف رجحان تھا جبکہ حالیہ دنوں میں انتہائی تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے کیسوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے 8سے 16مئی تک ملک گیر لاک ڈائون کا اعلان کیا ہے۔ امید ہے کہ موثر عملدرآمد آنے والوں دنوں میں اچھی صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ وفاقی دارالحکومت میں سات مئی کو شام چھ بجے کے بعدتاجر تنظیموں کی مخالفت کے باوجود پولیس نے دکانیں بند کرائیں تمام مارکیٹیں، کاروباری مراکز ، عوامی مقامات ، پارک ، مری اور دیگر پر فضا مقامات سمیت تمام تفریح گاہیں، انکے داخلی و اندرونی راستے بین الاضلاعی اور مقامی پبلک ٹرانسپورٹ 16 مئی تک بند رہیں گی جبکہ سندھ حکومت نے یہ پابندیاں 8 کی بجائے آج 9سے 16مئی تک لاگو کی ہیں۔وفاقی وزارت صحت نے خبردار کیا ہےکہ رمضا ن کے آخری دنوں سمیت عید کے موقع پر کورونا کا پھیلائو انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ادھر صوبائی حکومتوں نے سرکاری ہسپتالوں میں 10سے 15مئی تک عید کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ برس ملک کو کورونا کی محض چینی قسم کا سامنا تھا اس کے بارے میں طبی ماہرین کی رائے تھی یہ وائرس گرم موسم میں زندہ نہیں رہتا اور حقیقتاً شاید یہی وجہ تھی کہ گرمی کے دنوں میں یہ بڑی حد تک بے اثر ہو چکا تھا تاہم برطانوی ، بھارتی اور اب افریقی و برازیلین وائرس کے بارے میںحکومت اور متعلقہ ادارے فکرمند البتہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایس اوپیز پر مکمل عملدرآمد خصوصاً ماسک کا استعمال ، سماجی فاصلے ، ہاتھوں کو بار بار دھونے یا سینیٹائز کرنے سے بڑی حد تک کورونا وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ سردست وطن عزیز میں یومیہ چار ساڑھے چار لاکھ افراد کو اس وبا سے بچائو کی ویکسین فراہم کی جا رہی ہے تاہم جب تک ملک کی کم از کم 70فیصد آبادی کو وبا سے بچائو کے ٹیکے نہیں لگ جاتے اس وقت تک صورتحال کوباعث اطمینان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کی کوشش ہےکہ ویکسینیشن کی رفتار میں حتی الوسع اضافہ ہو اور اب ملک کے اندر بھی متعلقہ کمپنی اس کی تیاری شروع کر رہی ہے جس سے ویکسینیشن کا عمل مزید تیز ہو گا۔ عالمی ماہرین کی رائے میں جس رفتار سے دنیا بھر میں ویکسینیشن ہو رہی ہے اس لحاظ سے آئندہ برس کے اواخر میں وائرس دم توڑ جائے گا تب تک احتیاط کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

تازہ ترین